قدیم زمانہ میں انسانی ذہن پر فلسفہ کا غلبہ تھا۔ فلسفہ چیزوں کو مکمل طور پر سمجھنے پر زور دیتا تھا۔ وہ اشیا کے ظاہر سے گزر کر اس کے باطن تک پہنچ جانا چاہتا تھا۔ تاہم پانچ ہزار سالہ کوشش کے باوجود فلسفہ کو اس مقصد میں کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔
سولھویں صدی عیسوی میں جب یورپ میں سائنسی مطالہ کا آغاز ہوا تو سائنس دانوں نے اس کو اپنے لیے مفید سمجھا کہ وہ چیزوںکی حقیقت کو اس کی خاصیت سے جدا کر دیں۔ انہوں نے علم کی دو قسمیں قرار دیں
1۔ چیزوں کا علم(Knowledge of Things)
2۔ حقیقتوں کا علم(Knowledge of Truths)
انہوں نے اپنے مطالعہ کے دوران محسوس کیا کہ حقیقت کے بارہ میں قطعی علم تک پہنچنا ان کے لیے ممکن نہیں۔ کیوں کہ حقیقت ہمیشہ اتنی لطیف ہوتی ہے جس کو انسانی پیمانوں سے ناپا اور تولا نہیں جا سکتا(الاسراء، 17:85) چنانچہ انہوں نے عملی موقف اختیار کرتے ہوئے حقیقت کو اپنی تحقیق کے دائرہ سے باہر قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم صرف’’کیا‘‘ کے سوال کو لیں گے، ہم’’کیوں‘‘ کے سوال پر غور نہیں کریں گے۔ اس طرح انہوں نے اپنی تحقیق کو صرف چیزوں کے علم تک محدودرکھا جس کا قطعی علم حاصل کیا جا سکتا تھا۔
یہ طرز فکر تاریخ میں کام کرتا رہا۔ اولاً گلیلیو(1596-1650) کے زمانے میں پھول کی خوشبو کو پھول کی کیمسٹری سے جدا کیا گیا تھا۔ اس کے بعد ڈیکارٹ(1596-1650) نے ثنویت(dualism) کے اس اصول کی توسیع کی اور اس کو انسان کے مطالعہ میں استعمال کیا۔ اس نے روح کو الگ کرکے جسم کا مطالعہ شروع کیا۔ انسان کے روحانی حصہ کو اس کے وجود کے مادی حصہ سے الگ کر دیا گیا۔
مذکورہ ثنویت سے مادی سائنس کے میدان میں بظاہر کوئی نقصان نہیں ہوا تھا۔ کیونکہ مقناطیس کے گرد مقناطیسی میدان(magnetic field) کی حقیقت کو سمجھے بغیر بھی یہ ممکن تھا کہ عملی طور پر مقناطیس کو بجلی پیدا کرنے اور موٹر چلانے کے لیے استعمال کیا جائے۔ مگر جب اس ثنویت کو انسان کے اوپر استعمال کیا گیا تو اس کے زبردست نقصانات ہوئے۔ کیوں کہ بے جان مادہ کی دنیا میں ثنویت چل سکتی ہے۔ مگر انسان ثنویت کو قبول نہیں کرتا۔ اس کی مثال ایسی ہے کہ کسی آدمی کا پتھر کا اسٹیچو ہو اور اس کو آپ ایک تاریک کوٹھری میں بند کر دیں تو اسٹیچو کے لیے کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوگا۔ مگر انسان ایک نفسیاتی وجود ہے۔ اس لیے اگر زندہ انسان کو اس قسم کی کوٹھری میں بند کیا جائے تو یہ اس آدمی کو ہلاک کرنے کے ہم معنی بن جاتا ہے۔ اسٹیچو کو آپ آزادی سے محروم کر سکتے ہیں اور وہ کوئی ردعمل ظاہر نہیں کرے گا۔ لیکن اگر انسان کو اس کی آزادی سے جدا کر دیں تو اس کی پوری شخصیت تہس نہس ہو جائے گی۔
مادہ کو اس کی معنویت سے اور جسم کو اس کی روح سے علیحدہ کرنے کا یہ معاملہ جو مغرب میں پیش آیا اس نے وہ ذہنی زمین فراہم کر دی جس میں خدا اور انسان کی وہ علیحدگی ممکن ہو سکے جو بعد کو مغرب میں پیش آئی۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔