موجودہ زمانہ کے تمام انسانی مسائل، براہ راست یا بالواسطہ طور پر صرف ایک چیزکا نتیجہ ہیں— خدا اور انسان کے درمیان جدائی۔ دور جدید نے انسان کو مادی سازو سامان تو بہت دیے مگر اس کے خدا کو اس سے چھین لیا۔ اس طرح اس نے جدید انسان کے جسم کے لیے خوراک کا انتظام کیا اور روح کو فاقہ کی حالت میں چھوڑ دیا۔ روح کو اگر جسم سے کامل طور پر جدا کر دیں تو جسم کی موت واقع ہو جاتی ہے۔ اور اگر ایسا کریں کہ روح کی جو غذا ہے وہ اسے دینا بند کر دیں تو روح فاقہ کی حالت میں مبتلا ہو جاتی ہے۔ روح کے فاقہ سے روح پر وہ سب کچھ گزرنے لگتا ہے جو جسم کے فاقہ سے جسم پر گزرتا ہے۔ یہی وہ بات ہے جو قرآن میں ان لفظوں میں بیان ہوئی ہے أَلَا بِذِكْرِ اللهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ (13:28)۔ یعنی، سنو، اللہ کی یاد ہی سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔یہی بات حضرت مسیح نے اپنے مخصوص انداز میں اس طرح بیان فرمائی آدمی صرف روٹی ہی سے جیتا نہ رہے گا بلکہ ہر بات سے جو خدا کے منہ سے نکلتی ہے(متی، 44)۔
اسلام کے پاس آج کے انسان کو دینے کے لیے جو سب سے بڑی چیز ہے وہ یہی خدا کا عقیدہ ہے اگرچہ تمام مذاہب اصلاً خدا ہی کے مبلغ تھے۔ مگر بعد کے زمانہ میں وہ خدا کے تصور کو اپنی صحیح صورت میں محفوظ نہ رکھ سکے۔ کسی نے خدا کو اپنا قومی خدا بنا لیا۔ کسی نے اس میں شرک کی ملاوٹ کر دی۔ کسی نے خدا کو مجرد فلسفیانہ تخیل بنا کر رکھ دیا۔ اس طرح یہ مذاہب اس قابل نہ رہے کہ خدا کو اس کی واقعی حیثیت میں لوگوں کے سامنے پیش کر سکیں(یونس، 10:19)۔ اب صرف اسلام ہی وہ دین ہے جس کے یہاں خدا کا تصور اپنی صحیح اور کامل صورت میں محفوظ ہے۔ اس لیے جدید انسان کو اس کا مطلوب خدا صرف اسلام کے یہاں مل سکتا ہے(آل عمران، 3:85)۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔