Maulana Wahiduddin Khan
1 min left
0:00

← Islam Aur Asr-e-Hazir
Islam Aur Asr-e-Hazir

غلط فہمی کا ازالہ

Urdu · 1 min

اوپر کی سطروں میں میں نے اسلام کے تصور زندگی کو اس حیثیت سے پیش کیا ہے کہ آج ہم جن مسائل میں گھرے ہوئے ہیں، ان کو وہ کس طرح حل کرتا ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ یہی اس کی کل حیثیت ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کوئی فرضی نظریہ نہیں ہے جو مسائل پیش آنے کے بعد ضرورت کے طور گھڑ لیا گیا ہو۔ حل مسائل کی غرض سے ہم دنیا کو کوئی فلسفیانہ فریب نہیں دے رہے ہیں۔ ہمارے نزدیک یہ سوال کہ ’’زندگی کے مسائل کا حل کیا ہے۔‘‘ یہ بذات خود کوئی الگ سوال نہیں۔ بلکہ وہ اس بڑے سوال کا جزء ہے کہ ’’زندگی کی اصل حقیقت کیا ہے۔‘‘ حقیقت سے مطابق ہونے ہی کا دوسرا نام مسائل کا حل ہونا ہے۔ جس نظام فکر کو اپنانے سے زندگی کے مسائل حل ہو جائیں، یہ اس بات کا ثبوت ہوگا کہ یہی نظام فکر کائنات کی اصل حقیقت ہے اور کسی نظام فکر کا اصل حقیقت ہونا خود بخود یہ معنی رکھتا ہے کہ اس سے انسانیت کے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.