Maulana Wahiduddin Khan
12 min left
0:00

← Islam Aur Asr-e-Hazir
Islam Aur Asr-e-Hazir

اسلام

Urdu · 12 min

اس مختصر جائزے کے بعد اب ہم اس مقام پر پہنچ گئے ہیں جہاں یہ فیصلہ کرنا آسان ہے کہ نوع انسانی کی فلاح و بہبود کے لیے کون سا دھرم سب سے بہتر ہے۔ اس کا جواب اسلام کے سوا اور کچھ نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ وہ تمام خصوصیات اس کے اندر مکمل ترین شکل میں موجود ہیں جو ایسے ایک دھرم میں ہونا ضروری ہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اسلام کی طرف سے میں کسی ایسی چیز کا انکشاف کرنے والا ہوں جس کی بقیہ دنیا کو اب تک خبر نہیں تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام کی یہ حیثیت اپنے اصول کے نئے پن کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ صرف اس لیے ہے کہ جو کچھ دوسروں کے پاس بگڑی ہوئی شکل میں ہے وہ اس کو صحیح اور بے آمیز شکل میں پیش کرتا ہے۔ خدا اور آخرت کا تصور جو دوسرے مذاہب میں موجود ہے، یہی اسلام کے حل کی اصل بنیاد ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ دوسرے مذاہب میں یہ حقیقت صدیوں کے گردوغبار میں چھپ گئی تھی اور اسلام نے اس کو تمام ملاوٹوں سے صاف کرکے خالص شکل میں ہمارے سامنے رکھا ہے۔ دوسرے لفظوں میں اسلام کی طرف دنیا کو ہم جو بلا رہے ہیں اس کی بنیاد یہ نہیں ہے کہ اسلام کوئی نئی اور انوکھی چیز ہے جو ابھی تک کسی کو معلوم نہیں تھی۔ بلکہ یہ وہی ابدی حقیقت ہے جو ہمیشہ سے انسانوں کے پاس موجود رہی ہے۔ چونکہ لوگوں نے اپنی غفلت سے اس کو مٹا دیا تھا یا اسے بدل ڈالا تھا اس لیے خدا نے اپنے آخری رسولؐ کے ذریعہ اس کو دوبارہ اپنی صحیح اور مکمل صورت میں ہمارے پاس بھیجا ہے۔

انسان کو اپنی زندگی کی تنظیم کے سلسلے میں بہت سی چیزیں درکار ہوتی ہیں۔ اس کے لیے ایک قانون کی ضرورت ہے، اس کے لیے ایک معاشی اور سیاسی ڈھانچے کی ضرورت ہے، اس کو شادی بیاہ کے ایک متعین طریقے کی ضرورت ہے۔ لباس، کھانا، پینا، اُٹھنا، بیٹھنا، ہر چیز میں اس کے لیے کچھ آداب و قواعد کی ضرورت ہے۔ حتیٰ کہ یہ بھی اس کی ایک ضرورت ہے کہ اس کا ایک سماجی تہوار ہو جس میں لوگ ایک دوسرے کی خوشیوں میں شریک ہوں اور اپنی جائز تمنائیں پوری کریں۔ اس طرح کی اور بہت سی چھوٹی بڑی چیزیں ہیں جو زندگی گزارنے کے لیے لازمی ہیں اور ان کے متعلق بہرحال انسان کو ایک متعین شکل بتانا ضروری ہے۔

بلاشبہ یہ سب کچھ اسلام کے اندر موجود ہے اور ان میں سے ہر ایک کے بارے میں گفتگو کی جا سکتی ہے کہ اسلام کی بتائی ہوئی شکل دوسری مروجہ شکلوں کے مقابلے میں کس طرح زیادہ جامع اور زیادہ مفید ہے۔ مگر یہاں مجھے ان تمام پہلوئوں پر بحث نہیں کرنی ہے۔ جیسا کہ پچھلی گفتگو سے واضح ہو چکا ہے۔ زندگی میں ان چیزوں کی ضرورت زیادہ تر عملی پہلو سے ہے، نہ کہ حل مسئلہ کے پہلو سے۔ دوسرے لفظوں میں زندگی کے مختلف شعبوں کے بارے میں ایک تفصیلی ڈھانچے کا موجود ہونا بذات خود زندگی کو بہتر نہیں بناتا۔ یہ سب چیزیں اگرچہ زندگی کے لیے ضروری ہیں مگر ان کی حیثیت روح کے ساتھ جسم کی سی ہے۔ روح کے ظاہر ہونے کے لیے ایک جسم کا ہونا ضروری ہے۔ مگر کسی انسانی وجود میں اصل چیز اس کی روح ہوتی ہے، نہ کہ جسم۔ اگر یہ روح نہ ہو تو جسم خواہ کتنی ہی مکمل حالت میں موجود ہو ہم اس سے انسان کا کام نہیں لے سکتے۔ اسی طرح بہتر زندگی کی تعمیر کے سلسلے میں جو چیز سب سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے وہ انسان کی اپنی اصلاح ہے۔ یہی وہ چیز ہے جس کو زندگی کی پوری اسکیم میں فیصلہ کن عنصر کی حیثیت حاصل ہے۔ یہ موجود ہو تو دوسری تمام چیزیں ٹھیک ٹھیک کام کریں گی اور اگر یہ نہ ہو تو کوئی بھی خارجی نقشہ ہمارے مسائل کو حل نہیں کر سکتا۔

زندگی کے اس اہم ترین سوال کا جوب اسلام کے اندر انتہائی مکمل اور صحیح شکل میں موجود ہے۔ اسلام سب سے پہلے یہ بتاتا ہے کہ یہ کائنات کوئی الل ٹپ جگہ نہیں ہے بلکہ اس کا ایک خدا ہے جو اپنی زبردست طاقت کے ذریعہ پوری دنیا پر فرماں روائی کر رہا ہے۔ اس طرح وہ انسان کے اندر ایک ایسی طاقت کا عقیدہ پیدا کرتا ہے جس کی پکڑ سے انسان اپنے آپ کو نہیں بچا سکتا۔ اور نہ اس سے بھاگ کر کہیں جا سکتا۔ وہ زندگی کے بارے میں یہ تصور دیتا ہے کہ وہ دو مرحلوں میں بٹی ہوئی ہے۔ اور موجودہ مرحلہ اگلے مرحلے کی تیاری کے لیے ہے۔ ہم آج جو کچھ کریں گے اس کا اچھایا یا برا بدلہ اگلی زندگی میں پائیں گے۔ اس طرح آدمی کے اندر آئندہ زندگی میں کامیاب بننے کی طلب پیدا ہوتی ہے اور دنیا کی حرص جو تمام خرابیوں کی جڑ ہے اس کا جذبہ کمزور پڑ جاتا ہے۔ جب ٹرین سامنے کھڑی ہو تو کوئی شخص پلیٹ فارم کی بنچ پر جگہ حاصل کرنے کے لیے جھگڑا نہیں کر سکتا۔ اسی طرح جو شخص دنیا کی بے ثباتی اور اگلی زندگی کی اہمیت کو سمجھ جائے اس کے لیے ناممکن ہے کہ دنیوی منافع کے لیے لوگوں سے چھین جھپٹ کرے۔ آج چمبل کی وادی (ضلع آگرہ) میں25 ہزار پولیس گھیرا ڈالے پڑی ہے مگر ڈاکوئوں کا گروہ اس کے قابو میں نہیں آتا۔ اسلام فرشتوں کی ایک ایسی پولیس کا تصور دیتا ہے جو ہر انسان کے دونوں کندھوں پر بیٹھی ہوئی ہے اور اس کے تمام اعمال کا ریکارڈ تیار کر رہی ہے۔ جو مرنے کے بعد خدا کی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ یہ خیال آدمی کو اپنے تمام کھلے اور چھپے معاملات میں چوکنا کر دیتا ہے۔ وہ محسوس کرنے لگتا ہے کہ وہ مستقل طور پر ایسی پولیس کے پہرے میں ہے جس سے پیچھا چھڑانے کی کوئی سبیل نہیں۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

دوسری دنیا کے بارے میں اسلام یہ تصور دیتا ہے کہ وہاں جنت اور جہنم ہے۔ جنت انتہائی عیش کی جگہ ہے اور جہنم بدترین عذاب کا مقام۔ وہ تمام لذیذ اور بہترین چیزیں جن کی انسان تمنا کر سکتا ہے اسلام ایک ایک کا نام لے کر بتاتا ہے کہ وہ نہایت اعلیٰ شکل میں جنت میں موجود ہوں گی۔ اور سخت ترین عذاب کی تمام صورتیں جن سے انسان آشنا ہے، ان کے متعلق بتاتا ہے کہ وہ جہنم میں جانے والے شخص کو بھگتنا پڑیں گی۔ ہر وہ انسان جو پیدا ہوا ہے اس کو ہمیشہ ہمیش کے لیے ان میں سے کسی ایک میں رہنا ہے۔ یہ چیز آدمی کو بے قرار کر دیتی ہے اور وہ اپنے ایک ایک لمحے کو فضولیات سے بچا کر صحیح ترین کام میں لگانا شروع کر دیتا ہے۔ پھر اسلام یہ بتاتا ہے کہ جس خدا کی عدالت میں تمہارا معاملہ جانے والا ہے اس پر نہ کسی کا زور ہے اور نہ کوئی سفارش وہاں سنی جانے والی ہے۔ کسی کی مجال نہیں کہ اس کے حضور اپنی زبان کھول سکے۔ یہ چیز اس کو بتاتی ہے کہ جھوٹے سہاروں پر تکیہ کرنا چھوڑ دے۔ اور صرف خدا سے اپنا تمام تعلق قائم کرے۔ پھر یہ کہ یہ سب کچھ اس طرح پیش آئے گا کہ ہم اپنے موجودہ احساسات کے ساتھ اپنی زندگی کا شعور رکھتے ہوں گے۔ اپنی پچھلی زندگی ہر شخص کو اچھی طرح یاد ہوگی بلکہ اس کے سامنے ہوگی۔ موت اس کے لیے محض نیند کی طرح کا ایک درمیانی وقفہ ہوگا اور وہ دوسری زندگی کو اسی طرح اپنی زندگی سمجھے گا جس طرح سو کر اٹھنے والا کوئی شخص سمجھتا ہے۔ ہر آدمی دوسرے کو اسی طرح پہچانے گا جس طرح وہ آج پہچانتا ہے۔ غرض آج ہمارا جو وجود ہے، اسی وجودکے ساتھ ہم اپنی جزا یا سزا پائیں گے۔

اس طرح اسلام کا آخرت کا تصور ایک ایسا تصور ہے جو آدمی کو ہلا دینے کے لیے کافی ہے۔ اس نظریے میں اس بات کی مکمل صلاحیت ہے کہ وہ سماج کی ضرورت کے مطابق نہایت فرض شناس اور دیانت دار شہری پیدا کرے اگر اس نظریے کو کسی آبادی میں وسیع پیمانے پر پھیلا یا جائے اور لوگوں کے ذہنوں میں اس کو اچھی طرح بٹھا دیا جائے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ لوگ حساس اور ذمے دار بن جائینگے۔ جب ایک شخص کو منتخب کرکے کسی کام پر لگا دیا جائے گا تو وہ اس احساس کے تحت اپنی ڈیوٹی کو ٹھیک ٹھیک انجام دے گا کہ اس کا جواب اسے مالک کائنات کو دینا ہے جو اس کی تمام سرگرمیوں سے باخبر ہے، جس کی نگاہ سے اس کا کوئی چھوٹا یا بڑا کارنامہ چھپ نہیں سکتا۔

مدینے کے ایک باشندے ابو مسعود انصاری کا واقعہ ہے، وہ اپنے غلام کو مار رہے تھے، اتنے میں انہوں نے پیچھے سے ایک آواز سنی— اعْلَمْ أَبَا مَسْعُودٍ، ‌لَلهُ ‌أَقْدَرُ ‌عَلَيْكَ مِنْكَ عَلَيْهِ (ابو مسعود! یاد رکھو اس غلام کے اوپر تم کو جتنا اختیار ہے تمہاراخدا اس سے زیادہ تمہارے اوپر اختیار رکھتا ہے) دیکھا تو حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کھڑے تھے۔ یہ فقرہ سنتے ہی ان کا حال بدل گیا۔ انہوں نے فوراً اپنا ہاتھ روک لیا اور بولے کہ اے خدا کے رسول! میں اس غلام کو خدا کی راہ میں آزاد کرتا ہوں۔ آپ نے فرمایا کہ اگر تم ایسا نہ کرتے تو جہنم کی آگ تمہیں پکڑ لیتی۔ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 1659) اس طرح اسلام ایک ایسا نظریہ عطا کرتا ہے جس کے ذریعہ آپ کسی بھی شخص کو کسی بھی مقام پر ٹوک سکتے ہیں اور وہ خود اپنے فائدے کی خاطر مجبور ہوگا کہ اس کی تنبیہ پر غور کرے۔ جبکہ موجودہ نظام میں کسی کو بدعنوانی سے روکنے کے لیے صرف پولیس کے دفتر میں اس کی رپورٹ درج کرائی جا سکتی ہے، ایک ایسا دفتر جو رشوت لے کر اپنا ریکارڈ جلا سکتا ہے۔ اور اگر عدالت میں بھی جانا ہوا تو ملزم کو خوب معلوم ہے کہ ایک قابل وکیل کو فیس ادا کرنے کی صلاحیت ہونا کسی بھی مقدمے کو جیتنے کی کافی ضمانت ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content