← Islam Aur Asr-e-HazirIslam Aur Asr-e-Hazir
دونوں مذاہب پر تبصرہ
Urdu · 14 min
عیسائیت اور ہندو ازم کی طرف سے جو دعویٰ کیا گیا ہے اس کو میں بالکل بے بنیاد نہیں کہتا۔ مگر یقینی طور پر میں اس کو نہایت ناقص حل سمجھتا ہوں۔ یہ صحیح ہے کہ انجیل اور وید میں اخلاق کے اعلیٰ اصول لکھے ہوئے ملتے ہیں۔ مگر انسان کو جس چیز کی ضرورت ہے وہ محض اخلاقیات کی ایک فہرست نہیں ہے۔ اس قسم کی فہرست کا علم انسان کو بہت پہلے سے ہے اور اس سلسلے میں شاید ہم انسانی معلومات میں کوئی خاص اضافہ نہیں کر سکتے۔ آج انسان کو دراصل ایک ایسے محرک کی ضرورت ہے جو ان معلوم اخلاقیات پر عمل کرنے کے لیے ابھارتا ہو۔ وہ اس کے اندر ایسا مضبوط داعیہ پیدا کرے کہ جو کچھ وہ جانتا ہے اس کو وہ کرنے لگے اور اس لحاظ سے دونوں مذاہب تقریباً خالی ہیں۔
مگر یہ خالی ہونا اس نوعیت کا نہیں ہے جیسا کہ اوپر ہم نے ’’اخلاق کے نام پر اخلاق‘‘ پیدا کرنے والوں پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے۔ یہ مذاہب جس طرح اخلاق کے کچھ اصول بتاتے ہیں۔ اسی طرح ان کی تعلیمات میں یہ بات بھی شامل ہے کہ جو ان پر عمل نہیں کریگا۔ وہ اس کے لازمی نتیجے کے طور پر ایک برے انجام سے دو چار ہوگا۔ دونوں مذہبوں میں زندگی بعد موت کا تصور موجود ہے اور دونوں مرنے کے بعد کسی نہ کسی شکل میں اچھے یا برے انجام کی خبر دیتے ہیں۔ یہی دراصل وہ چیز ہے جو آدمی کو بدعنوانیوں سے روکنے والی ہے۔ یہ تصور وہاں بھی آدمی کا ہاتھ پکڑ لیتا ہے جہاں کوئی اس کا ہاتھ پکڑنے والا نہیں ہوتا۔ اس طرح ان مذاہب میں وہ قدر بنیادی طور پر موجود ہے جس کو اوپر ہم نے محرک عمل کے لفظ سے تعبیر کیا ہے۔ اس کا ایک کُھلا ہوا ثبوت خود ان مذاہب کی تاریخ میں موجود ہے۔ سابق دور میں ان مذاہب کی بنیاد پر جو سوسائٹی بنی تھی وہ اخلاقی اعتبار سے صریح طور پر موجودہ مادہ پرست سوسائٹی سے بہتر تھی۔ مگر ان مذاہب کے ماننے والوں نے اپنے مذاہب کو صحیح شکل میں محفوظ نہیں رکھا اور ان کی تعلیمات اب جس شکل میں ہمارے سامنے موجود ہیں وہ اس قدر ناقص اور الجھی ہوئی ہیں کہ کسی وسیع اور پائیدار اصلاح کی بنیاد نہیں بن سکتیں۔
عیسائیت کا حال یہ ہے کہ جس انجیل میں پہاڑی کا وعظ ہے اسی میں مسیحی مذہب کا یہ عقیدہ بھی درج ہے کہ نجات کے لیے کسی عمل کی ضرورت نہیں۔ صرف یسوع مسیح پر ایمان لانا کافی ہے۔ اس نظریے کے مطابق ساری دنیا خدا کے نزدیک سزا کے لائق ہے۔ کیونکہ سب نے گناہ کیا اور خدا کے جلال سے محروم ہوگئے۔ اس لیے خدا نے اپنے بیٹے کو دنیا میں بھیجا اور اس کو سولی پر چڑھا کر’’اس کے خون کے باعث ایک ایسا کفارہ ٹھہرایا‘‘ جس کو مان کر دوسرے لوگ اپنے گناہ بخشوا لیں۔ اب نجات کے لیے عمل کی ضرورت نہیں۔ بلکہ صرف ’’خدا کے بیٹے ‘‘کی اس حیثیت کو تسلیم کرنا کافی ہے۔ کیونکہ’’انسان شریعت کے اعمال کے بغیر ایمان کے سبب سے راست باز ٹھہرتا ہے۔‘‘ (نیا عہدنامہ، اعمال،باب3) ایسی حالت میں کوئی شخص آخر کس لیے عمل کے جھنجھٹ میں پڑے گا۔ کفارہ عقیدہ تسلیم کرنے کے بعد وہ کون سا محرک ہے جو آدمی کو نیکی کے لیے ابھارے اور برائی سے روکنے پر مجبور کرے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
انجیل کا یہ تضاد ہمارے نزدیک سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی اصل تعلیم کا تضاد نہیں ہے۔ مگر آج عیسائیت کے نام سے جو چیز موجود ہے وہ قطعی طور پر یہی ہے۔ آں جناب نے تو مذہب کو اس کی صحیح ترین شکل میں پیش کیا تھا۔ مگر آپ کے ماننے والے آپ کی تعلیمات کو محفوظ نہ رکھ سکے۔ دوسروں کی تشریح و تعبیر میں شامل ہو کر اصل حقیقت گم ہوگئی۔ انجیل کو دیکھیے تو ایک طرف اس میں بہترین موثر انداز میں آخرت کا ذکر اور اعلیٰ اخلاقیات کی تعلیم ملے گی۔ جس کو پڑھ کر آدمی کی روح بیدار ہوتی ہے اور اس کے اندر عمل کا جذبہ پیدا ہوتا ہے مگر اس کے بعد جب وہ اگلے صفحات میں سینٹ پال کا فلسفہ پڑھتا ہے تو اس کو یہ تمام چیزیں بےضرورت معلوم ہونے لگتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کفارہ کے عقیدے نے عیسائی مذہب میں عمل کی بنیاد کو اسی طرح کمزور کر دیا ہے جیسے کسی ملک کے دستور میں یہ لکھ دیا جائے کہ اگرچہ یہاں پولیس اور عدالت کا نظام قائم رہے گا مگر کسی کو اس کی غلط روی پر سزا نہیں دی جائے گی۔ کیونکہ آدمی پاک باز رہنے پر قادر نہیں ہے۔
ہندو مذہب کا معاملہ بھی تقریباً یہی ہے۔ بظاہر وہ صرف اخلاقی اپیل نہیں کرتا بلکہ سزا اور انعام کا بھی ایک نظریہ اپنے پاس رکھتا ہے، جس کو’’کرم‘‘ کہتے ہیں، یعنی اپنے کیےکا پھل پانا۔ ہمارا خیال ہے کہ یہ نظریہ بھی اپنی ابتدائی شکل میں ایک صحیح نظریہ ہوگا۔ مگر اب تو وہ نہایت ناقص صورت میں ہمارے سامنے ہے۔ ہندو مذہب پر فلسفہ کا جو لمبا دور گزرا ہے۔ غالباً اس زمانے میں لوگوں کی ذہنی موشگافیوں نے اس کی ہئیت بدل دی۔ اور ایک صحیح چیز نے غلط شکل اختیار کر لی۔ اب یہ نظریہ جس صورت میں ہمارے سامنے ہے اس کو آواگون یا پُنر جنم کہتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی جیسا عمل کرتا ہے اسی کے لحاظ سے وہ اگلے جنموں میں اچھے یا برے جسم میں پیدا ہوتا ہے اور پیدائش کا یہ چکر برابر چلتا رہتا ہے۔ اس عقیدے کی رو سے آج جو وجود انسان، حیوان، پرند، درخت، سبزی گھاس یا کیڑے مکوڑے کی شکل میں نظر آ رہا ہے وہ سب پچھلے اعمال کے نتیجے میں ہے۔ پنر جنم کا یہ نظریہ معمولی اختلاف کے ساتھ ہندو مذہب کی تمام شاخوں میں تسلیم کیا جاتا ہے۔
اس نظریے کے اوپر بھی ہماری تنقید وہی ہے جو عیسائیت کے سلسلے میں ہم لکھ چکے ہیں۔ یعنی اس کے اندر جو محرک ہے وہ نہایت ناقص اور محدود ہے۔ وہ آدمی کے اندر کوئی ایسا زوردار داعیہ پیدا نہیں کرتا جس کی رغبت سے وہ اچھائی کی طرف لپکے اور جس کا ڈر اسے برائیوں سے روکنے پر مجبور کرے۔ فرض کیجیے ایک کلرک کو ایک غلط کام کے لیے پچاس ہزار روپیے رشوت میں مل رہے ہیں۔ کیا صرف اس لیے وہ ملتے ہوئے فائدے کو چھوڑ دے گا کہ مرنے کے بعد جب اس کا دوسرا جنم ہوگا تو اس میں وہ مچھر مکھی ہو جائے گا یا آم اور ببول کی شکل میں پیدا ہوگا۔ اینٹی کرپشن قانون کے تحت ملنے والی سزا کا خوف اگر اس کو اس عمل سے نہیں روکتا تو اگلے جنم میں کیڑا مکوڑا یا درخت بن جانے میں وہ کون سی ہولناکی ہے جو آدمی کو لرزا دے اور اس کو جرم سے باز رکھے۔ اس نظریے کے مطابق وحشیانہ جرائم کی ایک بہت بڑی سزا جو منوسمرتی میں بتائی گئی ہے وہ یہ کہ ایسا آدمی دوسرے جنم میں چنڈال کے گھر میں پیدا ہوگا۔ چنڈال سے مراد پاسی، ملاح، دھوبی، ڈوم، چمار وغیرہ ہیں۔ ممکن ہے کہ کسی زمانے میں ان قوموں کی یہ حالت رہی ہو۔ مگر اب تو ان کا لقب ہریجن(خدا والے) ہے۔ ان کو وقت کے دستور میں دوسرے انسانوں کے برابر درجہ حاصل ہے۔ اور ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو بنگلوں اور کاروں میں زندگی گزارتے ہیں۔ حتیٰ کے ایک اچھوت لیڈر اگر الیکشن میں جیت جائے تو وہ وزارت کا عہدہ حاصل کرکے برہمن آبادی کے اوپر حکومت کرتا ہے اوران کے لیے قانون بناتا ہے۔ آخر اس طرح کے انجام میں وہ کون سا بھیانک پن ہے جو کسی کو جرم سے روکنے کا سبب بن سکے۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
اور بالفرض اگر اس سزا کی کوئی ایسی تعبیر کی جائے جس میں وہ بھیانک نظر آنے لگے تو اس کے بعد بھی اس کے اندر ایک ایسا خلا باقی رہتا ہے جو آدمی کے جذبات کو سرد کرنے کے لیے کافی ہے۔ اگر آپ ایک تباہ حال آدمی کو لیں اور اس سے پوچھیں کہ تم نے اپنے پچھلے جنم میں کیا کیا تھا جس کے نتیجے میں یہ انجام بھگت رہے ہو تو وہ کچھ نہ بتا سکے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم میں سے کسی کو یہ بھی نہیں معلوم کہ ہم اس سے پہلے دنیا میں آئے بھی تھے یا نہیں۔ پنر جنم کے عقیدے کے مطابق انسان کو اس کے عمل کا بدلہ دینے کا معاملہ بالکل بے خبری میں انجام پاتا ہے اور یہ بے خبری پنر جنم کی تمام شکلوں میں موجود ہوتی ہے۔ جن احساسات رکھنے والے ایک وجود نے اپنی زندگی میں ایک کام کیا تھا۔ اس کو جب اپنے اس عمل کا انجام ملتا ہے تو وہ اپنے پچھلے وجود کو بھول چکا ہوتا ہے۔ کیا ایسے ایک واقعہ کو سزا کہا جا سکتا ہے۔ یہ تو بالکل ایسی ہی بات ہے جیسے بے ہوشی کا انجکشن دے کر کسی کی چیر پھاڑ کی جائے۔ بلکہ زیادہ ٹھیٹ لفظوں میں اس کا مطلب یہ ہے کہ میرے آج کے عمل کا بدلہ کل دوسرے شخص کو ملے گا اور میری آج کی بداعمالیوں کی سزا کل کسی اور کو بھگتنی پڑے گی۔ مرنے کے بعد جب میں اپنے موجودہ شعور اور موجودہ احساسات کے ساتھ ختم ہو جائوں گا تو اس کے بعد کی پیدائش کو میری پیدائش کیوں کہا جائے۔ پھر جس عمل کا انجام میرے بعد دوسرے انسان کو ملنے والا ہے اس کے لیے آخر میں کیوں کوشش کروں اور جس بدعملی کی سزا دوسرے وجود کو بھگتنی ہے اس سے میں کیوں ڈروں، پُنر جنم میں روح کے قالب بدلنے کو جس شکل میں پیش کیا گیا ہے ممکن ہے اس کو منطقی استدلال اور فلسفیانہ بحثوں کے ذریعے ایک انسان کا مختلف جنم قرار دیا جا سکے مگر قطعی طور پر یہ ایک لفظی استدلال ہوگا۔ حقیقت کے اعتبار سے یہ بات بالکل ناقابل فہم ہے کہ اس طرح کے مختلف جنموں کو ایک انسان کا جنم کس بنا پر کہا جاتا ہے۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
اسی طرح اس نظریے کے اندر انسانی کامیابی کا جو تصور دیا گیا ہے اس میں بھی ہمارے لیے کوئی کشش نہیں ہو سکتی۔ پنر جنم کے مطابق انسان کی کامیابی یہ ہے کہ اس کی روح مختلف قالبوں میں پیدا ہو کر ارتقا کرتی رہے یہاں تک کہ بالآخر خدا یا پرماتما کے وجود میں گم ہو جائے جس کو نجات یانروان کہا جاتا ہے۔ یہاں مجھے اس نظریے کے علمی اور فلسفیانہ پہلوئوں سے بحث نہیں ہے۔ میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اس طرح کے ایک نظریے میں وہ کون سی کشش ہے جس کے لیے آدمی دنیا کے دکھ جھیلے اور زندگی بھر خواہ مخواہ ذمہ داریاں پوری کرنے اور حقوق ادا کرنے کا کھڑاگ اپنے سر مول لے۔ اس کامیابی میں انسان کو کیا ملا۔ اس کو زیادہ سے زیادہ پرماتما کی اپنی تکمیل کہا جا سکتا ہے، نہ کہ کسی انسان کا ارتقا۔ پھر جس عمل کا فائدہ تمام تر دوسرے کو ملنے والا ہو اس میں آدمی کیوں محنت کرے۔ ممکن ہے کچھ مخصوص قسم کے فلسفیانہ ذوق رکھنے والے لوگوں کو اس طرح کے نامعلوم ارتقا سے دلچسپی ہو۔ مگر عام انسان جن جذبات اور جن تمنائوں کے ساتھ پیدا کیا گیا ہے اس کے لیے اس میں کوئی کشش نہیں ہو سکتی اور صرف یہ واقعہ فلسفہ نروان کے خلاف فطرت اور خلاف واقعہ ہونے کا کافی ثبوت ہے۔