اس قسم کے مذہبی لوگوں میں دوسرا قابل ذکر گروہ جدید ہندو مفکرین کا ہے۔ سی راج گوپال اچاریہ نے خاص اسی موضوع پر ایک کتاب لکھی ہے جس کا نام ہے
Hinduism: Doctrine and way of Life
اس کتاب میں انہوں نے دکھایا ہے کہ آج کی دنیاکچھ روحانی تہذیبی بنیادوں کی طالب ہے اور وہ اخلاق اور کلچر جس کی جڑیں ویدانت میں اتری ہوئی ہیں، بلاشبہ اس ضرورت کو پوری کر سکتا ہے۔‘‘ صنعتی انقلاب نے جو مسائل پیدا کیےہیں، عمل اور اخلاقی قدروں کے درمیان آج جو علیحدگی نظر آتی ہے، سوسائٹی کے خود غرض عناصر جس طرح قانون کے ذریعہ استحصال کی کوشش کر رہے ہیں اور سیاسی معاشی میدانوں میں اس کو ناجائز کامیابی کے لیے استعمال کرتے ہیں، متضاد مقاصد کے درمیان انسانی طاقت جس بری طرح ضائع ہو رہی ہے، ان تمام خرابیوں کا ذکر کرنے کے بعد وہ سوال کرتے ہیں کہ کیا دنیا کو ایک ایسا مذہب پیش کیا جا سکتا ہے جو سائنس کا مخالف نہ ہو اور عملی زندگی اور ریاستی معاملات کو حق پرستی کی بنیاد پر تعمیر کر سکے۔ اور اس کے بعد خود ہی کہتے ہیں کہ ویدانت اس سوال کا جواب ہے(Vedanta is the answer) ۔ ’’واضح لفظوں میں‘‘ وہ لکھتے ہیں’’دعویٰ یہ ہے کہ ایک اخلاقی کوڈ اور اقدار کا ایک نظام ہندو مفکرین نے مذہبی فلسفے سےتیار کیا ہے جس کو ویدانت کہا جاتا ہے جو نہ صرف یہ کہ سائنس کے مطاق ہے بلکہ ایک بہتر اور مستحکم سماجی تنظیم کی نہایت عمدہ اور موزوں بنیاد بن سکتا ہے جس کی تمام دنیا کے بہترین لوگ تمنا رکھتے ہیں اور اس کے لیے کوشش کر رہے ہیں۔‘‘
ہندو ازم موجودہ ترقی یافتہ سماج کی ضرورتوں کو کس طرح پورا کر سکتا ہے اس کی ایک مثال دیتے ہوئے لکھتے ہیں
بھگوت گیتا میں یہ بات نہایت واضح طریقے پر بیان کر دی گئی ہے کہ آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنے عمل اور سماجی ذمہ داریوں کو اپنی حیثیت کے مطابق انجام دے، نہ کہ منافع کی غرض سے، ہم کو اب سماجی اور اقتصادی مصلحین بتا رہے ہیں کہ اسٹیٹ اس بات کی نگرانی کرے گی کہ مرد اور عورت محض اپنے ذاتی مقاصد کے لیے کام نہ کریں۔ بلکہ اجتماعی مفاد کو بھی سامنے رکھیں۔ اور یہ بالکل وہی بات ہے جو بھگوت گیتا میں کہی گئی ہے— اس میں نہایت واضح طریقے پر بار بار بتایا گیا ہے کہ تمام کام دیانت داری اور بے غرضی کے ساتھ اجتماعی بہبود(لوک سنگرہ)کے لیے کیا جائے نہ کہ شخصی تمنائوں کی تسکین کے لیے۔ درحقیقت گیتا نے تمام سوشلسٹ اصولوں کو نہایت عمدہ طریقے پر پیش کر دیا ہے۔ (صفحات22-23)
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔