دوسرا گروہ ان لوگوں کا ہے جن کی امیدوں کا مرکز مذہبی تعلیمات ہیں ان میں ایک تو عیسائیت کو ماننے والے ہیں جو بڑے زور شور کے ساتھ اپنے مذہب کو ان مسائل کے حل کی حیثیت سے پیش کر رہے ہیں۔ یورپ اور امریکہ میں عیسائی مصنفین کی اچھی خاصی تعداد نے اسی قسم کے مضامین لکھنے کو اپنا مستقل موضوع بنا لیا ہے۔ ان میں بعض چوٹی کے مفکرین بھی شامل ہیں۔ اس مقصد کے لیے اجتماعی کوششیں بھی ہو رہی ہیں۔ مثلاً سوئزر لینڈ سے ایک تحریک اٹھی ہے جس کا نام ہے اخلاقی اسلحہ بلندی(moral re-armament)۔ اس کے بانی ڈاکٹر فرینک بک مین ہیں۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ خدا پرستی کے تحت اخلاقی قدروں کو رواج دیا جائے اور لوگوں کے سوچنے کے انداز میں تبدیلی پیدا کی جائے۔ خاص طور پر ایمانداری، پاکیزگی، بے غرضی، باہمی خیر خواہی اور محبت کو پھیلایا جائے۔ اسی طرح امریکہ میں خاص اسی مقصد کے لیے ایک ادارہ (Research Centre in Creative Altruism)کے نام سے 1949ء سے قائم ہے جس کو ایک پبلک فنڈ سے پندرہ ہزار ڈالر سالانہ کی امداد ملتی ہے۔ اس ادارے کے ڈائریکٹر پروفیسر سوروکن(Sorokin) ہیں۔1941ء میں انہوں نے پہلی بار اپنے تحقیق و مطالعہ کے نتائج پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس وقت سب سے اہم کام انسان کے اندرون یا اس کے نفس کی اصلاح ہے۔ جس پر تمام تر خود غرضی کا تسلط ہوگیا ہے۔ اور یہ ضروری ہے کہ اس کے برعکس، اس میں بے لوث محبت کے اس جذبے کو پیدا کیا جائے اور ابھارا جائے جو آفاقی ہو۔ فرد کی اصلاح کے بغیر جو انقلاب بھی لایا جائے گا وہ بالکل سطحی ہوگا اور ساری کوششیں رائیگاں جائیں گی۔ موجودہ حالات کا علاج تجویز کرتے ہوئے وہ اپنی کتاب (Crisis of our Age)میں لکھتے ہیں
’’انسان کی پوری ذہنیت اور اس کے جملہ رحجانات میں اس تبدیلی کی ضرورت ہے جس کا رخ ان اصولوں کی طرف ہو جس کو پہاڑی کے وعظ( { FR 2144 })میں پیش کیا گیا تھا۔ جب اس قسم کی تبدیلی ایک خاص حد تک ہو چکی ہوگی، اس کے بعد ہی یہ ممکن ہے کہ اس نہج پر سیاسی اور اقتصادی شعبوں میں بآسانی تبدیلی ہو سکے۔ لیکن اس تبدیلی کے بغیر کتنی ہی سیاسی اور اقتصادی بہتری اور میکانکی نوعیت کی تعمیر کیوں نہ کی جائے اس سے خاطر خواہ نتائج پیدا نہیں ہوں گے۔‘‘
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔