اس وقت میں نے جو کچھ عرض کیا ہے اس کا مقصد ذہنی طور پر آپ کو اس مقام تک پہنچانا ہے جہاں سے آپ اپنی منزل کو دیکھ سکیں۔ اور ان سوالات کا جواب پالیں جو آپ کو اور ساری انسانیت کو گھیرے ہوئے ہیں۔ میں نے اپنا فرض ادا کر دیا۔ اب یہ آپ پر ہے کہ آپ اپنے لیے کیا فیصلہ کرتے ہیں۔ میں یہ نہیں کہتا کہ آپ کو میری بات لازماً صحیح نظر آنی چاہیے۔ میں آپ کو اختلاف کا حق دیتا ہوں۔ مگر یاد رکھیے کہ جب کسی معاملے میں آدمی کو اپنی رائے مختلف نظر آتی ہے تو ضروری نہیں ہے کہ وہ اس کی حقیقی رائے ہو۔ اکثر رائیں محض آدمی کے موروثی جذبات کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ آدمی کہتا ہے کہ ’’میرا خیال یہ ہے‘‘۔ حالانکہ وہ دراصل ماحول کا خیال ہوتا ہے جس کو وہ اپنا سمجھ کر دہرا دیتا ہے۔ عقیدے، رائیں اور تعلقات بیشتر حالات میں تاریخ اور ماحول کے اثر سے بنتے ہیں۔ ایسے لوگ بہت کم ہوتے ہیں جنہوں نے فی الواقع اپنے خاندان اور اپنے گردوپیش سے اوپر اٹھ کر خالص عقلی غور و فکر کے نتیجے میں کوئی عقیدہ اپنایا ہو، کوئی رائے قائم کی ہو یا کسی سے اپنے تعلقات جوڑے ہوں۔ اس لیے آج آپ جس عقیدے کو اپنا عقیدہ اور جس طریق زندگی کو اپنا طریق زندگی کہتے ہیں، ضروری نہیں ہے کہ واقعہ بھی ایسا ہی ہو۔ بہت ممکن ہے کہ ایک مخصوص خاندان میں پیدا ہونے کی وجہ سے یہ چیزیں آپ کے ساتھ چمٹ گئی ہوں میں آپ کو یہی معلوم کرنے کی دعوت دیتا ہوں۔ آپ سوچیے کہ آپ نے جس عقیدے کو اپنا رکھا ہے وہ فی الواقع آپ کی سوچی سمجھی راہ ہے یا محض باپ دادا کی پیروی میں آپ بے سوچے سمجھے اس پر چلے جا رہے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ اگر آپ ان دونوں کے فرق کو سامنے رکھیں گے اور وراثتی جذبات اور ماحول کے تاثرات سے الگ ہو کر اپنی راہ ڈھونڈھنے کی کوشش کریں گے تو لازماً میری تائید کریں گے اور اس وقت آپ کو صاف نظر آئے گا کہ حقیقۃً انسان کی منزل کس طرف ہے۔({ FR 2145 })
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔