دوسری چیز جو بہتر سماج کا خواب پورا کرنے کے سلسلے میں انسان کے سامنے تھی وہ مادی خوش حالی ہے۔ اس کا فلسفہ یہ ہے کہ جب لوگوں کی آمدنیاں بڑھ جائیں گی، جب لوگوں کو اپنی ضرورت کی چیزیں فراغت کے ساتھ حاصل ہونے لگیں گی تو وہ کس لیے بدعنوانی کریں گے۔ کس لیے دوسروں کو تکلیف دیں گے، مگر واقعات سے اس نظریے کی تردید ہوتی ہے۔ بلا استثنا تمام ملکوں کا یہ حال ہے کہ وہاں جس رفتار سے مادی ترقی میں اضافہ ہوا ہے اسی نسبت سے جرائم کی رفتار بھی بڑھ رہی ہے۔ میں یہاں اختصار کے خیال سے صرف انٹرنیشنل کریمنل پولیس کمیشن کی رپورٹ کا حوالہ دوں گا جس نے دنیا کے 34 ملکوں کے اعدادو شمار جمع کرکے شائع کیےہیں۔ اس رپورٹ کے مطابق غریب ملکوں میں جرائم کا اوسط ان ملکوں سے بہت کم ہے جو خوش حال ہیں، اور جن کا معیار زندگی بہت بڑھا ہوا ہے۔ برطانیہ میں 1946 ء میں اٹھارہ سال کا ایک لڑکا صرف دو پونڈ ساڑھے سات شلنگ فی ہفتہ کما سکتا تھا۔ لیکن آج پونے چھ پونڈ کما لیتا ہے۔ اور ہوشیار قسم کے نوجوان سات آٹھ پونڈ سے بھی زیادہ کما لیتے ہیں۔ اور پھر انہیں یقین ہے کہ چند سال بعد جب وہ سن بلوغ کو پہنچیں گے تو وہ تیرہ پونڈ فی ہفتہ کی اوسط قومی آمدنی کی مستحق ہوں گے۔
روزگار کے یہ مواقع اور یہ معیار زندگی ہندوستان کے مقابلے میں بہت زیادہ ہیں۔ لیکن مندرجہ بالا اعدادوشمار کے مطابق1952ء میں ہندوستان میں ایک لاکھ آبادی کے درمیان قابل ذکر جرائم کی تعداد165تھی۔ جب کہ برطانیہ میں اتنی ہی آبادی میں1342جرائم ریکارڈ کیےگئے۔ امریکہ جو تمام دنیا میں سب سے زیادہ دولت مند ملک سمجھا جاتا ہے وہاں جرائم کی تعداد ایک لاکھ آبادی میں 1322تھی۔(لیڈر18 فروری1955ء) اور وہاں کے سب سے بڑے تجارتی شہر نیویارک کا تو یہ حال ہے کہ ہر ایک سکنڈ میں شدید جرم کا ایک واقعہ ہوتا ہے۔ جرائم کی اس بڑھتی ہوئی رفتار نے ترقی یافتہ ملکوں میں زندگی کا سکون برہم کر دیا ہے۔ آدمی اس طرح زندگی گزار رہا ہے کہ اس کو اپنا مستقبل غیر یقینی نظر آتا ہے۔ کسی بینک کو نہیں معلوم کب ڈاکوئوں کا ایک گروہ موٹروں اور مشین گنوں سے مسلح ہو کر اس کے اوپر حملہ کر دے گا۔ کسی خاتون کو نہیں معلوم کہ شام کے وقت جب وہ دفتر سے لوٹ رہی ہوگی تو وہ راستہ میں اغوا کر لی جائے گی یا واپس اپنے گھر پہنچے گی۔ انگلینڈ میں قاتل کے لیے موت کی سزا کو منسوخ کر دیا گیا تھا۔ مگر جرائم کی بڑھتی ہوئی وبا کو دیکھ کر وہاں کے ایک مشہور اہل قلم اور سابق ممبر پارلیمنٹ سرایلن ہربرٹ نے مطالبہ کیا ہے کہ سزائے موت کو دوبارہ جاری کیا جائے۔ اور نہ صرف قاتل کو بلکہ چوروں، نقب زنوں اور عورت کی عصمت پر حملہ کرنے والوں کو بھی یہی سزا دی جائے۔
اوپر کی گفتگو سے جہاں مادی نظریات کی ناکامی ثابت ہوتی ہے وہیں یہ بات بھی واضح ہوگئی ہے کہ ان کے اندر وہ کون سا بنیادی خلا ہے جس نے انہیں مکمل ناکامی سے دو چار کیا ہے۔ یہ خلا دراصل محرک کا خلا ہے۔ آپ ایک کارخانے کو صرف بجلی کا بٹن دبا کر حرکت میں لا سکتے ہیں۔ مگر انسان کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ وہ اسی وقت کوئی کام کرتا ہے جب اس کے اپنے اندر اس کے کرنے کا جذبہ پیدا ہو چکا ہو۔ آج دنیا کے پاس زندگی گزارنے کے لیے بہترین قسم کے کاغذی نقشے ہیں اور اس کو عمل میں لانے کے لیے جدید ترین سازو سامان موجود ہیں۔ مگر یہ سب کچھ صرف اس لیے بے کار پڑا ہوا ہے کہ انسان اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے تیار نہیں۔
آج مجرمین کو پکڑنے کی ٹکنیک اتنی ترقی کر گئی ہے کہ اگر کوئی شخص ایک ملک میں جرم کرکے دوسرے مقام پر بھاگ جانے کی کوشش کرے تو اس کے سرحد پار کرنے سے پہلے ریڈیو فوٹو کے ذریعہ ساری دنیا میں اس کا حلیہ نشر کیا جا سکتا ہے۔ لیکن پولیس کے افراد اپنی ڈیوٹی صحیح طور پر انجام نہیں دیتے، اس لیے جرم کی روک تھام کے یہ سارے مواقع بیکار ثابت ہو رہے ہیں۔ اقتصادیات اور اعدادوشمار کے ماہرین نہایت کامیاب طریقے پر ’’ کم سے کم خرچ میں زیادہ سے زیادہ فائدہ‘‘ حاصل کرنے کے منصوبے بناتے ہیں۔ مگر عملہ کے اندر لوٹ کھسوٹ کی ذہنیت کی وجہ سے نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں سے وصول کی ہوئی رقم کم سے کم لوگوں کی جیبوں میں چلی جاتی ہے۔ حکومت کی تشکیل کے لیے نہایت وسیع قسم کے جمہوری طریقے دریافت کیےگئے ہیں۔ مگر لیڈروں اور سیاسی کارکنوں کے غلط استعمال کی وجہ سے جمہوریت عملاً ایک تماشا بن کر رہ گئی ہے۔
ابھی حال میں(اپریل 1960ء) جنوبیکوریا کے الیکشن کے بعد اعلان کیا گیا کہ صدارت کے انتخاب میں ڈاکٹر سنگمن رہی (Syngman Rhee)کو90 فیصدی ووٹ ملے ہیں۔ مگر اعلان کے بعد جب عوام نے بغاوت کر دی اور ڈاکٹر رہی کو اپنا صدارتی محل چھوڑ کر بھاگنا پڑا تو معلوم ہوا کہ ’’90 فیصدی‘‘ کی حقیقت اعداد و شمار کے دھوکے کے سوا اور کچھ نہ تھی۔ سماجی اصلاح کے لیے مستقل محکمے قائم ہیں اور اس کے لیے ایسے ایسے قوانین بنائے گئے ہیں جو انسانی آرزوئوں کی بہترین ترجمانی کرتے ہیں۔ مگر عملاً یہ صرف ان لوگوں کے لیے لوٹ کھسوٹ کا ایک عنوان ہے جو اس کام پر مامور کیےگئے ہیں۔ آج عالمی اتحاد کے نہایت خوبصورت نظریےکتابوں میں لکھے ہوئے موجود ہیں اور آپس میں تعلق قائم کرنا اتنا آسان ہوگیا ہے کہ آپ ٹیلی فون ریسیور اٹھا کر دنیا کے کسی بھی حصے کے آدمی سے بات کر سکتے ہیں اور ہوائی جہاز سے اڑ کر چند گھنٹے میں کہیں سے کہیں پہنچ سکتے ہیں۔ مگر انسان کے اپنے رویے کی وجہ سے یہ سارا سازوسامان ایک مصیبت ثابت ہو رہا ہے۔ آج سائنس کی بہترین کوششیں صرف ایسے آلات تیار کرنے میں لگی ہوئی ہیں جو دم بھر میں زندہ انسانوں اور آباد شہروں کو ختم کر دیں۔
ایک دوسرے کے خلاف شبہات کا یہ حال ہے کہ امریکہ کی اسٹریٹجک ایر کمانڈ کے تین ہزار ہوائی جہاز ہر وقت آسمان میں اڑتے رہتے ہیں تاکہ اپنے ملک کو اچانک حملے سے بچائیں۔ دوسری طرف روس کی سرحدوں پر ہزاروں آدمی نہایت قیمتی آلات اور دور بینیں لیے ہوئے رات دن یہ دیکھتے رہتے ہیں کہ امریکہ کا کوئی جاسوس ہوائی جہاز ان کی سرحد کے اندر تو نہیں گھس آیا ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔