محّرک کی ضرورت
اس سے معلوم ہوا کہ انسانی بہتری کے لیے آج جس چیز کی ضرورت ہے وہ کوئی قانونی ڈھانچہ یا مادی سازو سامان نہیں ہے بلکہ ایک ایسا نظریہ ہے جو ذمہ داری کا احساس پیدا کرے، جو آدمی کے اندر یہ جذبہ ابھارے کہ وہ اپنی اندرونی تحریک سے صحیح کام کرنے پر مجبور ہو اور غلط سمت میں جانے سے بچے۔ یہ کام صرف مذہب کے ذریعہ ہو سکتا ہے۔ چند سو برس پہلے بڑے جوش سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ زندگی گزارنے کے سلسلے میں انسان کو مذہب کی ضرورت نہیں۔ مذہب حرام و حلال کے کچھ اصول دیتا ہے، وہ ہم اپنے قانون ساز ادارے کے ذریعہ حاصل کر سکتے ہیں۔ مذہب دوسری دنیا کی سزا سے ڈراتا ہے تاکہ لوگوں کے اندر عمل کا جذبہ پیدا ہو، اس کے لیے ہمارا عدالتی نظام اور ہماری جیلیں کافی ہیں۔ مذہب یہ ترغیب دلاتا ہے کہ ہمارے حکموں کو مانو تو تمہاری اگلی زندگی خوش گوار ہوگی۔ اس کے لیے بھی ہم کو موت کا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں۔ اپنی مادی ترقیوں کے ذریعہ ہم اسی دنیا کی زندگی کو جنت بنا سکتے ہیں۔ مگر یہ تمام امیدیں واقعات کی چٹان سے ٹکرا کر پاش پاش ہو چکی ہیں۔ اور اب انسان دوبارہ اس مقام پر کھڑا ہے جہاں سے اس نے اپنے سفر کا آغاز کیا تھا۔ لمبی مدت تک ٹھوکریں کھانے کے بعد اب انسان کی سمجھ میں یہ بات آئی ہے کہ صرف کاغذی نقشے اور مادی ذرائع و وسائل کافی نہیں ہیں۔ اس کے سوا ایک اور چیز ہے جس کی انسان کو ضرورت ہے۔ وہ ہے خود انسان کا اپنا جذبہ۔ اس کے اندر ایک ایسا ارادہ جو اصلاحات کی خارجی کوششوں سے ہم آہنگ ہونے کے لیے تیار ہو۔ دوسرے لفظوں میں ایک ایسا محرک جو اندر سے آدمی کو عمل پر اکسائے، جو آدمی کو ایک دوسرے کے حقوق پہچاننے پر مجبور کرے۔
یہی اندرونی محرک تمام اصلاحات کی جان ہے۔ اگر یہ موجود نہ ہو تو ساری ترقیوں کے باوجود آپس میں اس قدر چھین جھپٹ ہوگی کہ زندگی سکون سے محروم ہو جائے گی اور بہترین قسم کے معاشی منصوبے صرف ٹھیکیداروں اور انجینئروں کے لیے لوٹ کھسوٹ کا موقع ثابت ہوں گے۔
مگر تمام نظریات میں صرف مذہب ہی کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ آدمی کے اندر اس قسم کا اندرونی محرک پیدا کر سکے۔ انسانی قانون بدعنوانی سے روکنے کے لیے زیادہ سے زیادہ کسی عدالت میں پیشی کا حوالہ دے سکتا ہے جس کے متعلق معلوم ہے کہ جھوٹے بیانات اور غلط شہادتوں کے ذریعہ بہت آسانی سے اس کو گمراہ کیا جا سکتا ہے۔ جب کہ مذہب قادر مطلق کی عدالت میں حاضر ہونے سے ڈراتا ہے جس سے بچنا کسی حال میں ممکن نہیں ہے۔ اس لیے انسانی ساخت کا نظام کبھی بھی کوئی بہتر سوسائٹی تعمیر نہیں کر سکتا۔ یہ صرف مذہب ہی کے ذریعہ ممکن ہے۔ لینن نے مذہب کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا تھا کہ ’’ہمارے نزدیک آسمان پر جنت تعمیر کرنے سے زیادہ اہم کام زمین پر جنت تعمیر کرنا ہے۔‘‘ مگر تجربے نے ثابت کر دیا کہ زمین پر وہی لوگ جنت تعمیر کر سکتے ہیں جو آسمان پر جنت تعمیر کرنے کا مقصد اپنے سامنے رکھتے ہوں۔ اور جن کے پیش نظر آسمان پر جنت کی تعمیر نہ ہو وہ زمین و آسمان دونوں جگہ صرف دوزخ کی تعمیر کریں گے۔
مذہب کے بارے میں یہ تصور محض ایک ذہنی اپج یا خوش عقیدگی نہیں ہے بلکہ یہ ایک تاریخی حقیقت کو تسلیم کرنا ہے۔ پچھلی صدیوں کی تاریخ بتاتی ہے کہ کروڑوں انسان اس امید میں نیکی کی راہ چلے ہیں کہ انہیں اس کا بدلہ آنے والی زندگی میں ملے گا۔ اور بے شمار لوگ محض اس خوف سے بدی سے بچتے رہے ہیں کہ کہیں ان کی بداعمالیاں انہیں عذاب دائمی کے حوالے نہ کر دیں۔ مگر مادی دور میں اس قسم کی مثال پیش نہیں کی جا سکتی۔ آج اگر کوئی انسان بھلائی کی راہ پر چلتا ہوا نظر آتا ہے تو وہ بھی دراصل پرانے مذہبی تصورات ہی کا اثر ہے۔ ورنہ جہاں تک مادی تہذیب کا تعلق ہے وہ تو انسان کو خود غرض اور غیر ذمہ دار بنانے کے سوا اور کوئی صلاحیت نہیں رکھتی۔
اس صورت حال نے تمام دنیا کے سنجیدہ انسانوں کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ اب یہ حقیقت لوگوں کی سمجھ میں آنے لگی ہے کہ اصل مسئلہ انسان کا ذہن بدلنا ہے، نہ کہ قانون اور معیار زندگی کو بدلنا۔ خود وہ ممالک جو مادیت کا گڑھ ہیں وہاں بھی ایسے لوگ اٹھ رہے ہیں جو بڑی شدت کے ساتھ اس ضرورت کو محسوس کرتے ہیں۔ چنانچہ دوسری جنگ عظیم کے بعد مغربی ملکوں سے جو کتابیں شائع ہو رہی ہیں ان میں بار بار اس قسم کے فقرے دہرائے جارہے ہیں کہ’’اگر نوع انسانی اپنی خیریت چاہتی ہے تو اس کو لازماً کلچر کے ایک روحانی استحکام کی طرف پلٹنا ہوگا۔‘‘’’اب اخلاقی انضباط کا دوبارہ حصول اور روحانی نظام کی طرف واپسی انسانی بقاء کے لیے ناگزیر شرط کی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔‘‘ آج ایک نئی روحانی شیرازہ بندی کی ضرورت ہے۔ جس کے ذریعہ اخلاق اور کلچر کے درمیان وہ مرکزی تعلق بحال ہو جائے جو انسانی ارتقا کی ہر سطح پر اور ہر دور میں موجود رہا ہے۔‘‘(کرسٹوفرڈاسن)۔
ان باتوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ انسان کو اصل ضرورت کا احساس ہو چکا ہے مگر اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے عام طور پر جن عملی شکلوں کا ذکر کیا جاتا ہے وہ یا تو غلط ہیں یا ناقص ہیں۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔