Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Islam Aur Asr-e-Hazir
Islam Aur Asr-e-Hazir

قانون کی ناکامی

Urdu · 4 min

پچھلے سماج میں مذہب جو کام کر رہا تھا وہ یہ تھا کہ صدیوں کے دوران میں مختلف بزرگوں کی تعلیم و تلقین کی وجہ سے کچھ خاص تصورات لوگوں کے ذہنوں میں رچ بس گئے تھے۔ اور ان کے خلاف سوچنا یا عمل کرنا گناہ سمجھا جاتا تھا۔ مذہب کی منسوخی ({ FR 2143 })کے بعد جب یہ گرفت ڈھیلی ہوگئی تو اس کی جگہ لینے کے لیے اصلاحی قسم کے قوانین وجود میں آئے۔ دوسرے لفظوں میں خدا کی اطاعت گزاری کی جگہ قانون کی حکمرانی نے لے لی۔ قانون اس متعین ضابطے کو کہتے ہیں جس کو کسی سماج میں لازمی طور پر قابل تسلیم قرار دیا گیا ہو اور جس کی خلاف ورزی پر آدمی کو سزا دی جا سکتی ہو۔ اس قسم کے قوانین ہر ملک میں نہایت وسیع پیمانے پر بنائے گئے۔ اس طرح گویا زندگی کے تمام پہلوئوں کے بارے میں ریاست کی طرف سے حکماً یہ بتایا گیا کہ وہ صحیح ترین رویہ کیا ہے جسے آدمی کو اختیار کرنا چاہیے۔ مگر ان قوانین کا فائدہ صرف یہ ہوا ہے کہ جو برائی پہلے سیدھے طریقے سے ہوتی تھی وہ ہیر پھیر کے ذریعہ ہونے لگی۔ قانون نے صرف برائی کی شکلوں کو بدلا ہے اصل برائی کو روکنے میں وہ بالکل ناکام ثابت ہوا ہے۔

حکومت دیکھتی ہے کہ کاروباری لوگ چیزوں میں ملاوٹ کر رہے ہیں، ناجائز اسٹاک رکھتے ہیں اور مختلف طریقوں سے عام پبلک کو پریشان کرتے ہیں۔ اس کو روکنے کے لیے وہ ایک قانون بناتی ہے اور اس کے نفاذ کے لیے مارکیٹنگ انسپکٹروں کی ایک فوج مقرر کردیتی ہے جو قانون کی دفعات لے کر ایک ایک دکان کو جانچنا شروع کرتے ہیں۔ مگر عملاً یہ ہوتا ہے کہ دکان دار انہیں رشوت دے کر لوٹا دیتے ہیں۔ اب حکومت اینٹی کرپشن ڈپارٹمنٹ کو حرکت میں لاتی ہے۔ مگر اس کا نتیجہ بھی صرف یہ نکلتا ہے کہ جو رشوت پہلے صرف مارکٹنگ انسپکٹر لے رہے تھے، اس میں ایک اور محکمہ کے لوگ حصے دار بن جاتے ہیں۔ اسی طرح جب بھی حکومت کے علم میں کوئی برائی آتی ہے تو وہ اس کے خلاف ایک قانون بنا دیتی ہے یا ایک آرڈر جاری کر دیتی ہے۔ مگر اس کا فائدہ اس کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا کہ چلنے والے اپنا راستہ بدل کر چلنے لگتے ہیں۔ اگر کسی چیز کو درآمد و برآمد پر پابندی لگائی جاتی ہے تو اسمگلنگ شروع ہو جاتی ہے۔ اگر ٹیکس بڑھائے جاتے ہیں تو جعلی حسابات کے رجسٹر تیار ہو جاتے ہیں۔ کسی چیز کی کمی کے پیش نظر اس کے خرچ کو مقرر حد میں رکھنے کے لیے اس پر کنٹرول کیا جاتا ہے تو بلیک مارکٹنگ اور جعلی پرمٹ کا کاروبار جاری ہو جاتا ہے۔ کسی کاروبار کو قومی ملکیت میں لیا جاتا ہے تو سرکاری افسر اس قدر لوٹ مچاتے ہیں کہ نفع کے بجائے اس میں حکومت کو گھاٹا اٹھانا پڑتا ہے۔ اس طوفان بے تمیزی میں اگر کوئی پکڑ لیا جائے اور معاملہ عدالت تک پہنچنے کی نوبت آئے تو وہاں بھی غلط کارروائیاں اور جھوٹی شہادتیں اس کو بچانے کے لیے موجود ہیں۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

غرض قانون اور حقیقت کے درمیان ایک طرح کی آنکھ مچولی ہو رہی ہے جس میں ناکامی تمام تر قانون کے حصے میں آئی ہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content