آج کے اس جلسے کا جو عنوان ہے وہ محض ایک عنوان نہیں ہے بلکہ یہ وقت کے دل کی دھڑکنیں ہیں۔ ہم ایک ایسے مسئلے پر سوچنے کے لیے جمع ہوئے ہیں جو ساری دنیا کو درپیش ہے اور جس پر ہر جگہ غور و فکر کیا جا رہا ہے۔ یوں سمجھیے کہ پوری انسانیت کی طرف سے ایک سوال کیا گیا ہے اور ہمیں اس سوال کا جواب دینا ہے۔
پچھلی چند صدیوں کی تاریخ مذہب کے خلاف انسان کی بغاوت کی تاریخ ہے۔ قدیم ترین زمانے سے مذہب کو یہ حیثیت حاصل تھی کہ وہ فکر و عمل کے ہر میدان میں انسانی زندگی کی رہنمائی کرتا تھا۔ مگر صنعتی انقلاب اور سائنس کی ترقی کے بعد جب انسان تمدنی اعتبار سے ایک نئے دور میں داخل ہوا تو اسی کے ساتھ اس نے چاہا کہ ہر اس چیز سے علیحدگی اختیار کر لے جس کا تعلق ماضی سے ہو۔ چنانچہ اس نے مذہب کے پرانے راستے کو چھوڑ کر نئی خود ساختہ راہوں پر اپنا سفر شروع کر دیا۔ گاڑی کی تبدیلی کے ساتھ اس نے یہ بھی ضروری سمجھا کہ اس کی سمت بھی نئی ہونی چاہیے۔ لیکن پچھلے سو برس کے تجربے نے اس خیال کی غلطی واضح کر دی ہے۔ زندگی کے مسائل کو حل کرنے کے لیے اس قسم کی جتنی کوششیں کی گئیں وہ بری طرح ناکام ثابت ہوئیں۔ اور اب انسان ایک ایسے مقام پر کھڑا ہے جہاں اس کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے کہ وہ اپنی پچھلی حالت کی طرف لوٹ جائے۔ انسانیت کا بھٹکا ہوا قافلہ دوبارہ اپنی صحیح منزل کی طرف واپس ہونے کے لیے بے چین ہے۔ مذہب جو ماضی میں انسان کا دستور العمل تھا وہ مستقبل میں پھر انسان کا دستور العمل بننے والا ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.