آخر میں میں یہ کہوں گا کہ مذہب یا خدا پرستی کی دو قسمیں ہیں۔ ایک یہ کہ نسلی تعلق یا سماجی حالات کے نتیجہ میں آدمی کا کوئی مذہب بن جائے اور آدمی اس کو پکڑے رہے۔ دوسرے یہ کہ وہ خود اپنی عقل کو استعمال کرے اور سنجیدہ مطالعہ کے ذریعے کسی رائے پر پہنچے اور اس کو شعوری فیصلہ کے تحت اختیار کر لے۔ بظاہر دونوں ہی مذہب دکھائی دیتے ہیں۔ مگر پہلی چیز کا نام تعصب ہے اور دوسری چیز کا نام خدا پرستی۔
خدا ہر قسم کے تعصب اور بے عقلی سے پاک ہے۔ اس لیے خدا کبھی ایسے شخص کو نہیں اپنائے گا جو تعصب اور غیر معقولیت کا سرمایہ لیے ہوئے اس کے پاس پہنچے۔ خدا کا محبوب بندہ تو وہی ہے جو تمام تعصبات سے اوپر اٹھ کر سنجیدگی اور معقولیت کے راستہ کو اختیار کرے۔ خدا صرف اس شخص کو اپنے پڑوس کے لیے قبول کرے گا جو اپنے اندر ربانی شخصیت کی تعمیر کرے۔ غیر مزکّیٰ شخصیت کے حامل افراد کو وہ رد کرکے دور پھینک دے گا تاکہ وہ ہمیشہ کے لیے محرومی اور رسوائی کا عذاب سہتے رہیں۔({ FR 2142 })
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.