← Islam Aur Asr-e-HazirIslam Aur Asr-e-Hazir
وحی کا مسئلہ
Urdu · 15 min
اب ہمیں اس سوال پر غور کرنا ہے کہ کسی بندہ خاص پر خدا کی وحی کس طرح آتی ہے اور یہ کہ موجودہ زمانے میں وہ کون سی ’’وحی‘‘ ہے جس سے ہمیں خدا کی مرضی کا علم حاصل ہوگا۔
اس مسئلے کو سمجھنے کے لیے ایک مثال لیجیے، انسان نے جو مشینیں اور جو آلات بنائے ہیں وہ تقریباً سب کے سب لوہے کے ہیں۔ اگر لوہے کی تاریخ سامنے رکھی جائے تو یہ بات نہایت عجیب معلوم ہوگی کہ انسان نے کس طرح اس کو دریافت کیا، جبکہ انسان کو لوہے کے متعلق پہلے سے کوئی علم نہیں تھا۔ اس نے کس طرح اس کے ذرات کو یکجا کیا جو مختلف مرکبات کی شکل میں زمین کی مختلف چٹانوں کے ساتھ مخلوط ہو کر منتشر پڑے تھے۔ اور پھر انہیں خالص لوہے کی ٹھوس شکل میں تبدیل کیا۔
یہی حال دوسری ایجادات کا بھی ہے۔ یہ بات کسی طرح سمجھ میں نہیں آتی کہ ان ایجادات کی طرف انسانی ذہن کی رہنمائی کس طرح ہوئی۔ وہ کون سی قوت ہے جو تجربہ اور مشاہدہ کے دوران ایک سائنس داں کو اس مخصوص نکتے تک پہنچا دیتی ہے جہاں پہنچ کر اسے ایک مفید اور کارآمد نتیجہ حاصل ہوتا ہے۔ جو بات ہم کو معلوم نہیں تھی وہ کیسے معلوم ہوگئی۔ اس علم کاذریعہ وہی خدائی فیضان ہے جس کو ہم وحی کہتے ہیں۔ سب کچھ جاننے والا اپنے علم میں سے تھوڑا سا حصہ اس کو عطا کر دیتا ہے جو کچھ نہیں جانتا۔
یہ فیضان وحی کا ابتدائی درجہ ہے جو غیر محسوس طور پر آتا ہے اور ہر شخص کو اس میں سے حصہ ملتا ہے۔ وحی کی دوسری قسم زیادہ ترقی یافتہ ہے، جو شعوری طور پر آتی ہے اور صرف ان لوگوں کے پاس آتی ہے جن کو رسالت کے لیے منتخب کر لیا گیا ہو۔ انسان کے پاس حقیقت کا علم اور دنیا میں زندگی گزارنے کا طریقہ جو خدا کی طرف سے آیا ہے وہ اسی دوسری قسم کی وحی کے ذریعہ بھیجا جاتا ہے۔
وحی کی حقیقت کو ہم بس اسی قدر سمجھ سکتے ہیں۔ اس سے زیادہ کا مطالبہ کرنا دراصل ایک ایسا مطالبہ کرنا ہے جو انسان کے بس سے باہر ہے۔ ایک اڑتے ہوئے جہاز کو زمین سے لاسلکی پیغام بھیجا جاتا ہے جس کو ہوائی جہاز پر بیٹھا ہوا آدمی پورے یقین کے ساتھ صاف الفاظ میں سن لیتا ہے۔ یہ ہماری قریبی زندگی کا ایک واقعہ ہے۔ مگر آج تک اس کی مکمل توجیہ نہیں ہو سکی کہ یہ واقعہ کس طرح وجود میں آتا ہے۔ یہی حال ان تمام واقعات کا ہے جن سے ہم اس زمین پر واقف ہیں۔ ہم تمام حقیقتوں کو صرف مجمل طور پر جانتے ہیں۔ جیسے ہی ہم کسی حقیقت کو آخری حد تک سمجھنے کی کوشش کرتے میں ہماری قوتیں جواب دینے لگتی ہیں اور معلوم ہوتا ہے کہ اس قسم کی کلی واقفیت ہمارے بس سے باہر ہے۔ ایسی صورت میں وحی کی حقیقت کو مکمل طور پر سمجھنے کا مطالبہ کرنا کسی ایسے ہی آدمی کا کام ہو سکتا ہے جو خود اپنی حقیقت سے بے خبر ہو۔
سائنس نے اب یہ تسلیم کر لیا ہے کہ حقیقت مطلق کا علم حاصل کرنا انسان کے بس سے باہر ہے۔ اس سلسلے میں میں پروفیسر ہائزن برگ(Heisen Berg) کی دریافت کا حوالہ دوں گا جس کو وہ اصول عدم تعین(principle of indeterminacy) کا نام دیتا ہے۔ جیمز جنیز نے اس اصول کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
’’قدیم سائنس کا خیال تھا کہ کسی ذرے مثلاً ایک الکٹران کا مقام مکمل طور پر بتایا جا سکتا ہے جبکہ ہم یہ جان لیں کہ کسی خاص وقت میں فضا کے اندر اس کا مقام اور اس کی رفتار کیا ہے۔ اگر ان معلومات کے ساتھ بیرونی اثر انداز طاقتوں کا بھی علم ہو جائے تو الکٹران کے تمام مستقبل کو معین کیا جا سکتا تھا۔ اور اگر کائنات کے تمام ذروں کے متعلق ان باتوں کا علم ہو جاتا تو ساری کائنات کے مستقبل کے متعلق پیشین گوئی کی جا سکتی تھی۔
opposing viewA view stated in order to be argued against
مگر ہائزن برگ کی تشریح کے مطابق جدید سائنس اب اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ ان مقدمات کی دریافت میں قوانین قدرت حائل ہیں۔ اگر ہم یہ جان لیں کہ ایک الکٹران فضا میں کس خاص مقام پر ہے جب بھی ہم ٹھیک ٹھیک نہیں بتا سکتے کہ وہ کس رفتار سے حرکت کر رہا ہے۔ قدرت کسی حد تک گنجائش سہو(margin of error) کی اجازت دیتی ہے، لیکن اگر ہم اس گنجائش میں گھسنا چاہیں تو قدرت ہماری کوئی مدد نہیں کرتی۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ قدرت بالکل صحیح پیمائشوں سے قطعاً آشنا ہے۔ اسی طرح اگر ہمیں کسی الکٹران کی حرکت کی ٹھیک ٹھیک رفتار معلوم ہو تو قدرت ہمیں فضا کے اندر اس کا صحیح مقام دریافت کرنے نہیں دیتی، گویا کہ الکٹران کا مقام اور اس کی حرکت کسی لالٹین کی سلائڈ کی دو مختلف سمتوں پر نقش ہیں۔ اگر ہم سلائڈ کو کسی خراب لالٹین میں رکھیں تو ہم دورخوں کے درمیان نصف کو روشنی میں لاسکتے ہیں۔ اور الکٹران کے مقام اور اس کی حرکت دونوں کو کچھ نہ کچھ دیکھ سکتے ہیں۔ اچھی لالٹین کے ذریعہ ایسا نہیں ہو سکتا کیونکہ ہم ایک پر جتنی زیادہ روشنی ڈالیں گے، دوسرا اتنا ہی دھندلا ہوتا چلا جائے گا۔ خراب لالٹین، قدیم سائنس ہے جس نے ہمیں اس فریب میں مبتلا کر دیا کہ اگر ہمارے پاس بالکل مکمل لالٹین ہو ہم کسی خاص وقت پر ذرے کے مقام اور اس کی رفتار کا ٹھیک ٹھیک تعین کر سکتے ہیں۔ یہی دھوکہ تھا جس نے سائنس میں جبریت (determinism) کو داخل کر دیا، مگر اب جبکہ جدید سائنس کے پاس زیادہ بہتر لالٹین ہے اس نے ہم کو صرف یہ بتایا ہے کہ حالت اور حرکت کی تعین حقیقت کے دو مختلف پہلو ہیں جنہیں ہم بیک وقت روشی میں نہیں لا سکتے(ماڈرن سائنٹفک تھاٹ، صفحہ17-18)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس سلسلہ میں آخری سوال یہ ہے کہ خدا کی وحی جو مختلف زمانوں میں انسانوں کے پاس آتی رہی ہے ان میں سے کون سی وحی ہے جس کی آج کے انسانوں کو پیروی کرنا ہے۔ اس کا جواب بالکل سادہ ہے۔ بعد کے لوگوں کے لیے وہی وحی قابل اتباع ہو سکتی ہے جو سب کے بعد آئی ہو۔ حکومت ایک ملک میں کسی شخص کو اپنا سفیر بنا کر بھیجتی ہے۔ ظاہر ہے کہ اس شخص کی سفارت اسی وقت تک کے لیے ہے جب تک وہ اس عہدے پر باقی ہو، جب اس کی مدت کارکردگی ختم ہو جائے اور دوسرے شخص کو اس عہدے پر مامور کر دیا جائے تو اس کے بعد وہی شخص حکومت کا نمائندہ ہوگا جس کو سب سے آخر میں نمائندگی کا موقع دیا گیا ہے۔
اس اعتبار سے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی وہ آخری رسول ہیں، جو آج اور آئندہ قیامت تک کے لیے انسانیت کے رہنما ہیں، جو ساتویں صدی عیسوی میں عرب سے اٹھے تھے۔ جن کے بعد نہ کوئی نبی ہوا اور نہ آئندہ کوئی نبی ہوگا۔ آپ کا تمام نبیوں کے بعد تشریف لانا اس بات کی کافی وجہ ہے کہ آپ ہی کو حال اور مستقبل کے لیے خدا کا نمائندہ قرار دیا جائے۔ کیونکہ بعد کو آنے والا اپنے سے پہلے آنے والوں کو منسوخ کر سکتا ہے مگر پہلے آنے والا اپنے بعد آنے والے کو منسوخ نہیں کر سکتا۔ ہم ان تمام نبیوں کو مانتے ہیں جو خدا کی طرف سے آئے، ان میں سے کسی کا بھی ہم انکار نہیں کرتے۔ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ خدا کے رسولوں میں تفریق نہ کرو۔(البقرۃ، 2:285) مگر یہ ظاہر ہے کہ اطاعت اور پیروی صرف وقت کے نبی ہی کی ممکن ہے اور اسی کی ہونی چاہیے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی نبی کا نہ آنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ آپ ہی وقت کے نبی ہیں۔ اور اب تمام انسانوں کو آپ ہی کی پیروی کرنی ہے۔ جب کوئی نبی آتا ہے تو وہ دراصل اپنے وقت کے لیے خدا کا حکم ہوتا ہے۔ وقت کے نبی کو چھوڑ کر اس سے پہلے کے کسی نبی کی اطاعت کا دعویٰ کرنا خدا پرستی نہیں بلکہ خود پرستی ہے۔ ایسا شخص خدا کے یہاں اس کے وفاداروں میں شمار نہیں ہوگا بلکہ مجرموں کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے گا اور خود تاریخ کے وہ رسول اس سے برأت کریں گے جن کی پیروی کا آج وہ دعویٰ کر رہا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ہو سکتا ہے کہ انسانی تاریخ کی سب سے پرانی اور ابتدائی مذہبی کتاب رگ وید ہو، جو خدا کی ہدایت کے تحت مرتب کی گئی ہو، جیسا کہ انجیل نسبتاً درمیانی زمانے کی الہامی کتاب ہے۔ مگر اب یہ تمام کتابیں آئوٹ آف ڈیٹ ہو چکی ہیں۔ اس سے قطع نظر کہ ان کے مضامین کی صحت مشکوک ہے۔ اور اس سے قطع نظر کہ ان میں سے کوئی کتاب بھی اپنے کو آخری اور دائمی کتاب کی حیثیت سے پیش نہیں کرتی، صرف یہ واقعہ کہ وہ خدا کے آخری ہدایت نامے سے پہلے نازل کی گئی تھیں، ان کو آج کے لیے منسوخ قرار دے دیتا ہے۔
ایک شخص کہہ سکتا ہے کہ ہم حضرت محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) کو خدا کا رسول ہی کیوں تسلیم کریں، میرا جواب یہ ہے کہ جن وجوہ سے آپ دوسرے رسولوں کو رسول مانتے ہیں انہیں وجوہ سے آخری رسول کو بھی رسول ماننا پڑےگا۔ آپ کسی دوسرے رسول کے بارہ میں یہ ثابت کرنے کے لیے کہ وہ خدا کی طرف سے آئے تھے، جو بھی اصول بنائیں گے اور جو مقدمات قائم کریں گے، ٹھیک ٹھیک انہیں دلائل اور انہیں مقدمات کی بنا پر آپ کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی خدا کا رسول ماننا ہوگا۔ اگر آپ آخری رسول کا انکار کرتے ہیں تو آپ کو سارے رسولوں کا انکار کر دینا پڑے گا۔ اور اگر دوسرے رسولوں کو مانتے ہیں تو آپ کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ آخری رسول کو بھی تسلیم کریں اور جوں ہی آپ آخری رسول کو تسلیم کرتے ہیں، آپ کے لیے ضروری ہو جاتا ہے کہ اسی کو آخری سند قرار دیں۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو رسول ماننا اور آپ کو آخری سند تسلیم نہ کرنا دونوں بالکل متضاد چیزیں ہیں، جو ایک ساتھ جمع نہیں ہو سکتیں۔ خدا کے آخری حکم کی موجودگی میں اس کے سابقہ حکموں کا حوالہ دینا خدا کی اطاعت کا ایک ایسا طریقہ ہے جس سے خدا کبھی راضی نہیں ہو سکتا یہ خود اپنے نفس کی اطاعت ہے، نہ کہ خدا کی اطاعت۔