← Islam Aur Asr-e-HazirIslam Aur Asr-e-Hazir
معرفت کا حصول
Urdu · 8 min
یہاں پہنچ کر جب ہم اپنے گردو پیش کی دنیا پر غور کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ کائنات کے خالق کی طرف سے اپنی مخلوقات کے لیے مدد اور رہنمائی کا ایک مستقل عمل جاری ہے۔ جس کو جس چیز کی ضرورت ہے اس کو وہ چیز پہنچائی جا رہی ہے۔
ایک معمولی بھڑ(انجنا) کی مثال لیجیے۔ بھڑکا طریقہ ہے کہ وہ انڈے دینے سے پہلے زمین میں ایک گڑھا کھودتی ہے اور ایک ٹڈے کو قابو میں کرکے اس کو گڑھے میں رکھ دیتی ہے۔ ایسا کرتے وقت وہ نہایت صحت کے ساتھ ٹڈے کے اس خاص عصبی مقام پر ڈنک مارتی ہے، جس سے ٹڈا مرتا نہیں صرف بے ہوش رہتا ہے اور تازہ گوشت کا ذخیرہ بن جاتا ہے۔ بھڑ اب اس بے ہوش ٹڈے کے ارد گرد انڈے دیتی ہے تاکہ انڈوں سے نکل کر بچے اس زندہ ٹڈے کو دھیرے دھیرے کھاتے رہیں۔ کیونکہ مردہ گوشت ان بچوں کے لیے مہلک ہے۔ اتنا انتظام کر لینے کے بعد بھڑ وہاں سے اڑ جاتی ہے اور پھر کبھی آ کر بچوں کو نہیں دیکھتی۔ مگر اس کے باوجود بھڑ کا یہ بچہ جب بڑا ہوتا ہے تو وہ بھی ٹھیک اسی عمل کو دہراتا ہے۔ ساری بھڑیں اس کام کو زندگی میں ایک بار اور پہلی بار بالکل ٹھیک ٹھیک انجام دیتی ہیں۔ غور کیجیے کہ وہ کون ہے جو اس بھڑ کے بچے کو سکھاتا ہے کہ اپنی نسل کو جاری رکھنے کے لیے وہ بھی آئندہ وہی عمل کرے جو اس کے ساتھ اس کے ماں باپ نے کیا تھا۔ حالانکہ اپنے ماں باپ کے عمل کو اس نے کبھی نہیں دیکھا۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
اسی حیرت ناک عمل کو دیکھ کر فرنچ فلسفی برگساں (Henri Louis Bergson, 1859-1941) نے کہا تھا کیا بھڑ نے کسی اسکول میں ماہر عضویات کی تعلیم حاصل کی ہے۔
other sourceWords of another person or source
اسی طرح ایک لمبی مچھلی کو لیجیے جسے انگریزی میں(eel) کہتے ہیں۔ ڈنمارک کے ماہر حیوانات ڈاکٹر شمٹ(Johannes Schmidt) نے کئی سال کی تحقیق کے بعد معلوم کیا ہے کہ یہ عجیب و غریب جاندار اپنی زندگی کی جوانی میں ہر جگہ کے آبی مرکزوں اور ندیوں سے نکل نکل جزیرۂ برموڈا کے پاس جمع ہوتے ہیں جہاں بحر اٹلانٹک سب سے زیادہ گہرا ہو جاتا ہے۔ یورپ کی ایلیں(eels)سمندر میں تین ہزار میل کا راستہ طے کرکے یہاں پہنچتی ہیں۔ وہیں یہ سب مچھلیاں بچے دیکر مر جاتی ہیں۔ یہ بچے جب آنکھ کھولتے ہیں تو اپنے آپ کو ایک سنسان آبی مرکز میں پڑا ہوا پاتے ہیں۔ ان کے پاس بظاہر معلومات حاصل کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں ہوتا۔ پھر بھی وہ وہاں سے لوٹ کر دوبارہ انہیں کناروں پر آ لگتے ہیں جہاں سے ان کے والدین چلے گئے تھے۔ وہ آگے بڑھتے ہوئے اپنے ماں باپ والی ندیوں، جھیلوں اور آبی مرکزوں میں پہنچ جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کسی بھی آبی مرکز سے ایلیں ہمیشہ کے لیے غائب نہیں ہو جاتیں۔ اور یہ سب کچھ اس طرح ہوتا ہے کہ امریکہ کی کوئی ایل یورپ میں نہیں ملتی اور نہ یورپ کی کوئی ایل امریکہ کے سمندروں میں پائی جاتی ہے۔ پھر آمدورفت کی یہ معلومات انہیں کہاں سے حاصل ہوتی ہیں۔
یہ کام’’وحی‘‘ کے ذریعہ ہوتا ہے۔ وحی، پیغام رسانی کے اس مخفی سلسلے کو کہتے ہیں جو خدا اور اس کی مخلوقات کے درمیان جاری ہے۔ کوئی مخلوق زندگی گزارنے کے لیے کیا کرے اور خالق کائنات نے اپنی مجموعی اسکیم کے اندر اس کے ذمے جو فرض عائد کیا ہے اس کو کس طرح انجام دے، اسی کو بتانے کا نام وحی ہے۔ اس وحی کی دو قسمیں ہیں۔ ایک وہ جس کا تعلق انسان کے سوا دوسری مخلوقات سے ہے، اور دوسری وہ جس کا تعلق انسان سے ہے۔
انسان کے سوا جتنی زندہ مخلوقات اس زمین پر پائی جاتی ہیں وہ سب کی سب ارادے سے خالی ہیں۔ ان کا کام کسی سوچے سمجھے فیصلے اور ارادے کے تحت نہیں ہوتا بلکہ ایک غیرشعوری قسم کے طبعی میلان کے تحت ہوتا ہے جس کو ہم جبلت(instinct) کہتے ہیں۔ یہ گویا ایک طرح کی زندہ مشینیں ہیں جو محدود دائرے میں اپنا متعین عمل کرکے ختم ہو جاتی ہیں۔ اس قسم کے جانداروں کے لیے ترک و اختیار کا کوئی سوال نہیں۔ اس لیے ان کے پاس جو وحی آتی ہے وہ حکم اور قانون کی شکل میں نہیں آتی بلکہ جبلت یا عادت فطری کی شکل میں آتی ہے۔ ان کی ساخت اس طرز کی بنا دی جاتی ہے کہ وہ ایک مخصوص کام کو بار بار دہراتے رہیں۔ مگر انسان ایک ایسی مخلوق ہے جو فیصلے کی قوت رکھتا ہے۔
وہ اپنے ارادے سے کسی کام کو کرتا ہے اور کسی کو نہیں کرتا۔ وہ ایک کام کرنا شروع کرتا ہے، پھر اسے بالقصد چھوڑ دیتا ہے اور ایک کام کو نہیں کرتا اور بعد کو اسے کرنے لگتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوا کہ انسان بھی اگرچہ اسی طرح خدا کا بندہ ہے جس طرح اس کی دوسری مخلوقات، مگر اس کو حالت امتحان میں رکھا گیا ہے۔ جو کام دوسری مخلوقات سے عادت فطرت کے تحت لیا جا رہا ہے انسان کو وہی کام اپنے فیصلے اور ارادے سے کرنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسان کے پاس جو وحی آتی ہے وہ حکم اور قانون کی شکل میں آتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں عام حیوانات کی وحی ان کی فطرت میں پیوست کر دی گئی ہے۔ اور انسان کی وحی خارج سے اسے سنائی جاتی ہے۔ عام حیوانات کو کیا کرنا ہے اس کا علم وہ پیدائشی طور پر اپنے ساتھ لے کر آتے ہیں۔ اس کے برعکس، انسان جب عقل اور ہوش کی عمر کو پہنچتا ہے تو خدا کی طرف سے پکار کر اسے بتایا جاتا ہے کہ تم کو کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں کرنا چاہیے۔
اس پیغام رسانی کا ذریعہ رسالت ہے۔ جو شخص یہ پیغام لے کر آتا ہے اس کو ہم رسول کہتے ہیں۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے ایک نیک بندے کو چن لیتا ہے اور اس کے قلب پر اپنا پیغام اتارتا ہے۔ اس طرح وہ شخص براہ راست خدا سے اس کی مرضی کا علم حاصل کرکے دوسرے انسانوں تک پہنچاتا ہے۔ رسول گویا وہ درمیانی کڑی ہے جو بندے کو اس کے خدا سے جوڑتی ہے۔