← Islam Aur Asr-e-HazirIslam Aur Asr-e-Hazir
خدا کے ساتھ ہمارا تعلق
Urdu · 10 min
خدا کو ماننے کے بعد فوراً یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس کے ساتھ ہمارا تعلق کیا ہے پچاس سال پہلے یہ خیال کیاجاتا تھاکہ اگر خدا کا کوئی وجود ہے بھی تو اس سے ہمارا تعلق نہیں ہو سکتا۔ مگر جدید کوانٹم نظریہ کے ذریعہ خود سائنس نے اس کی تردید کر دی ہے پہلے یہ سمجھاجاتا تھا کہ کائنات ایک مشین ہے جو ایک مرتبہ حرکت دینے کے بعد مسلسل چلی جا رہی ہے۔ اس نظریہ پر سائنس دانوں کو اس قدر یقین تھاکہ انیسویں صدی کے آخر میں برلن کے پروفیسر ماکس پلانک (Max Planck) نے جب روشنی کے متعلق بعض ایسی تشریحات پیش کیں جو کائنات کے مشین ہونے کو غلط ثابت کر رہی تھیں تو اس پر سخت تنقیدیں ہونے لگیں اور اس کا مذاق اڑایا گیا۔ مگر اس نظریے کو زبردست کامیابی ہوئی اور بالآخر وہ ترقی کرکے نظریۂ مقادیر برقیات ( quantum theory) کی صورت میں آج علم طبیعیات کے اہم اصولوں میں شمار کیا جاتا ہے ۔ (تفصیل کےلیے ملاحظہ ہو، ماڈرن سائنٹفکتھاٹ، صفحات 12-20)
پلانک کا نظریہ اپنی ابتدائی شکل میں یہ تھاکہ قدرت چھلانگوں کے ذریعہ حرکت کرتی ہے۔ 1917ء میں آئن سٹائن نے اس بات کی وضاحت کی کہ پلانک کا نظریہ صرف عدم تسلسل (discontinuity )کو ثابت نہیں کرتا بلکہ زیادہ انقلاب انگیز نتائج کا حامل ہے۔ یہ اصولِ تعلیل کو اس کے بلند مقام سے معزول کر رہا ہے جو اس سے پہلے عالم فطرت کے تمام واقعات کا واحد رہنما سمجھاجاتا تھا قدیم سائنس نے بڑے وثوق سے اعلان کیا تھا کہ قدرت صرف ایک ہی راستہ اختیار کر سکتی ہے جو سبب اور نتیجے کی مسلسل کڑیوں کے مطابق اس کے آغاز سے لے کر انجام تک معین ہو چکا ہے۔ مگر اب معلوم ہواکہ یہ محض ناقص مطالعہ کا نتیجہ تھا۔ پہلے یہ کہا جاتا تھا کہ خدا کو اگر ماننا ہی ہے تو سبب اول کی حد تک اسے مان لو ورنہ آج کائنات کو خدا کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اب معلوم ہوا کہ کائنات صرف حرکت اول ہی کے لیے کسی محرک کی محتاج نہیں تھی بلکہ وہ ہر آن حرکت دیےجانے کی محتاج ہے۔ کوانٹم نظریہ دوسرے لفظوںمیں یہ بتاتا ہے کہ کائنات ایک خود چالو مشین نہیں ہے بلکہ وہ ایک ایسی مشین ہے جس کو ہر آن چلایا جا رہا ہے۔ گویاایک حی ّو قیوم ہستی کا مسلسل فیضان ہے جو اس کو باقی رکھے ہوئے ہے۔ اگر ایک لمحے کے لیے بھی وہ اپنا فیضان واپس لے لے تو ساری کائنات اس طرح ختم ہو جائے گی جیسے سینما گھر میں بجلی کا سلسلہ ٹوٹنے سے پردۂ سیمین کے سارے واقعات غائب ہو جاتے ہیں اور ناظرین کے سامنے ایک سفید کپڑے کے سوا اور کچھ نہیں رہتا۔ یہ کہنا صحیح ہو گاکہ اس دنیا کا ہر ذرہ اپنے وجود اور حرکت کے لیے ہر آن قادرِ مطلق سے اجازت طلب کرتا ہے۔ اس کے بغیر وہ اپنی ہستی کو قائم نہیں رکھ سکتا۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
کائنات کے ساتھ خدا کایہ تعلق خود بتاتا ہے کہ انسان کے ساتھ اس کا تعلق کیا ہونا چاہیے۔
ظاہر ہے کہ جس نے ہمیں خلق کیا ہے، جو ہمارے لیے تمام موزوں ترین حالات کو مسلسل باقی رکھے ہوئے ہے اور ان کو ہمارے حق میں ہموار کرتا رہتا ہے۔ جو ہر آن ہماری پرورش کر رہا ہے۔ اس کا ہمارے اوپر یہ لازمی حق ہے کہ ہم اپنے مقابلے میں اس کی برتر حیثیت کو تسلیم کریں اور بالکل اس کے بندے بن جائیں۔ انسان جن قدروں سے واقف ہے ان میں سب سے نمایاں اور اہم ترین قدر یہ ہے کہ احسان کرنے والے کا احسان مانا جائے۔ محسن خواہ اپنی طرف سے نہ دبائے مگر جو احسان مند ہے وہ خود اس کے سامنے دب جاتا ہے ، محسن کے آگے اس کو نظر اٹھانے کی ہمت نہیں ہوتی۔
اس کے معنی یہ ہیں کہ خدا کا خدا ہونا خود ہی اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ہم اس کی خدائی کو تسلیم کریں اور اس کی مرضی پوری کرنے کو اپنی زندگی کا مقصد بنائیں۔ بندے کی طرف سے خدا کی اطاعت کے لیے اس کے سوا کسی اور دلیل کی ضرورت نہیں۔
مگر بات صرف اتنی ہی نہیں ہے۔ یہ صرف حق شناسی کا تقاضا نہیں ہے کہ ہم خدا کی خدائی اور اس کے مقابلے میں اپنی بندگی کو تسلیم کریں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے لیے اس کے سوا کوئی راہ بھی نہیں ہے۔ ہماری زندگی کے سارے مسائل خدا سے متعلق ہیں۔ ہم کو جو کچھ ملے گا ، اسی سے ملے گا۔ اس کے سوا کوئی اور ہمیں کچھ نہیں دے سکتا۔ ہم اس کائنات میں اس قدر عاجز اور مجبور ہیں کہ خدا کی مدد کے بغیر ایک لمحہ کے لیے اپنا وجود باقی نہیں رکھ سکتے۔ پھر خدا کو چھوڑ کر آخر ہم اور کہاں جا سکتے ہیں۔
ذرا غور کیجیے، یہ ہندوستان کی شمالی سرحد پر ہمالیہ پہاڑکا ڈھائی ہزار میل لمبا سلسلہ کس نے قائم کیا ہے۔ ہم نے یا خدانے۔ اگر ہمالیہ پہاڑ نہ ہوتا تو خلیج بنگال سے اٹھنے والی جنوب مشرقی ہوائیں جو ہر سال ہمارے لیے بارش لاتی ہیں بالکل پانی نہ برساتیں۔ وہ سیدھی روس کی طرف نکل جاتیں۔ جس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ تمام شمالی ہندوستان منگولیاکی طرح ریگستان ہوتا۔
آپ کو معلوم ہے کہ سورج اپنی غیر معمولی کشش سے ہماری زمین کو کھینچ رہا ہے ، اور زمین ایک مرکز گریز قوت (Centrifugal Force) کے ذریعہ اس کی طرف کھنچ جانے سے اپنے آپ کو روکتی ہے۔ اس طرح وہ سورج سے دور رہ کر فضا کے اندر اپنا وجود باقی رکھے ہوئے ہے۔ اگر کسی دن زمین کی یہ قوت ختم ہوجائے تو وہ تقریباً چھ ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سورج کی طرف کھنچنا شروع ہو جائے گی ، اور چند ہفتوں میں سورج کے اندر اس طرح جا گرے گی جیسے کسی بہت بڑے الائو کے اندر کوئی تنکا گر جائے۔ ظاہر ہے کہ زمین کو یہ طاقت ہم نے نہیں دی ہے بلکہ اس خدا نے دی ہے جس نے زمین کو پیدا کیا ہے۔
کائنات کے جس حصے میں ہم رہتے ہیں اس کانام نظام شمسی ہے ، اگر آپ کسی دور دراز مقام پر بیٹھ کر اس نظام کا مشاہدہ کر سکیں تو آپ دیکھیں گے کہ اتھاہ خلا کے اندر ایک آگ کا گولا بھڑک رہا ہے جو ہماری زمین سے تیرہ لاکھ گنا بڑا ہے۔ جس سے اتنے بڑے بڑے شعلے نکلتے ہیں جو کئی کئی لاکھ میل تک فضا میں اڑتے چلے جاتے ہیں ، اسی کا نام سورج ہے۔ پھر آپ ان سیاروں کو دیکھیں گے جو سورج کے چاروں طرف اربوں میل کے دائرے میں پروانوں کی طرح چکر لگا رہے ہیں۔ ان دوڑتی ہوئی دنیائوں میں ہماری زمین نسبتاً ایک چھوٹی دنیا ہے جس کی گولائی تقریباً پچیس ہزار میل ہے۔ یہ ہمارا نظام شمسی ہے جو بظاہر بہت بڑا معلوم ہوتا ہے۔ مگر کائنات کی وسعت کے مقابلے میں اس کی کوئی حیثیت نہیں۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
کائنات میں اتنے بڑے بڑے ستارے ہیں جن کے اوپر ہمارا پورا نظام شمسی رکھا جا سکتا ہے۔ اس بے انتہا وسیع اور عظیم کائنات میں ہماری زمین فضا میں اڑنے والے ایک ذرے سے بھی زیادہ حقیر ہے۔ ہم ایک چھوٹے سے کیڑے کی مانند اس ذرے سے چمٹے ہوئے ہیں اور خلا میں ایک کبھی نہ ختم ہونے والے سفر میں مصروف ہیں۔
یہ کائنات کے اندر ہماری حیثیت ہے۔ غور کیجیے انسان کس درجہ حقیر ہے۔ وہ خارجی طاقتوں کے مقابلے میں کس قدر عاجز ہے۔ پھر جب ہماری حیثیت یہ ہے تو ہم خالقِ کائنات سے مدد طلب کرنے کے سوا اور کیاکر سکتے ہیں۔ جس طرح ایک چھوٹے بچے کی ساری کائنات اس کے ماں باپ ہوتے ہیں ۔ اس کی زندگی ، اس کی ضرورتوں کی تکمیل اور اس کے مستقبل کاانحصار بالکل اس کے والدین کے اوپر ہوتا ہے۔ اسی طرح بلکہ اس سے کہیں زیادہ انسان اپنے رب کا محتاج ہے۔ ہم خدا کی مدد اور اس کی رہنمائی کے بغیر اپنے لیے کسی چیز کا تصور نہیں کر سکتے۔ وہی ہمارا سہارا ہے اور اسی کی طرف ہمیں دوڑنا چاہیے۔
اس تفصیل سے یہ بات واضح ہو گئی کہ انسان خدا کی رہنمائی اور اس کی مدد کا محتاج ہے۔ خدا کے مقابلہ میں انسان کی یہی حیثیت قرار پاتی ہے اور خود انسان کے لیے بھی اس کے سوا چارہ نہیں ہے کہ وہ خدا سے اپنے لیے مدد اور رہنمائی کی درخواست کرے۔ یہ حقیقت پسندی ہے اور حقیقت پسندی بلاشبہ انسان کی سب سے بڑی خوبی ہے۔