← Islam Aur Asr-e-HazirIslam Aur Asr-e-Hazir
کائنات میں نشانیاں
Urdu · 7 min
زمین اپنے محور پر ایک ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے لٹو کی مانند گھومتی ہے۔ اگر زمین کی رفتار ایک سو میل فی گھنٹہ ہوتی تو ہمارے دن اور رات اب کے دن اور رات سے دس گنا زیادہ لمبے ہوتے۔ زمین کی تمام ہریالی اور ہماری بہترین فصلیں سو گھنٹے کی مسلسل دھوپ میں جھلس جاتیں اور جو بچ رہتیں وہ لمبی رات میں پالے کی نذر ہو جاتیں۔
سورج جو ہماری زندگی کا سرچشمہ ہے ، اپنی سطح پر بارہ ہزار ڈگری فارن ہائٹ سے دہک رہاہے۔ یہ حرارت اتنی زیادہ ہے کہ بڑے بڑے پہاڑ بھی اس کے سامنے جل کر راکھ ہو جائیں گے۔ مگر وہ ہماری زمین سے اتنے مناسب فاصلے پر ہے کہ یہ ’’کائناتی انگیٹھی‘‘ ہمیں ہماری ضرورت سے ذرہ بھر زیادہ گرمی نہ دے سکے۔ اگر سورج دگنے فاصلہ پر چلا جائے تو زمین پر اتنی سردی پیدا ہو گی کہ ہم سب لوگ جم کر برف ہو جائیں گے۔ اور اگر وہ آدھے فاصلے پر آ جائے تو زمین پر اتنی حرارت پیدا ہو گی کہ تمام جاندار اور تمام پودے جل بھن کر خاک ہو جائیں گے۔
زمین کا کرہ فضا میں سیدھا کھڑا نہیں ہے بلکہ 23 درجے کا زاویہ بناتا ہوا ایک طرف جھکا ہوا ہے۔ یہ جھکائو ہمیں ہمارے موسم دیتا ہے اور اس کے نتیجے میں زمین کا زیادہ سے زیادہ حصہ آبادکاری کے قابل ہو جاتا ہے اور مختلف قسم کی نباتات اور پیداوار حاصل ہوتی ہیں۔ اگر یہ جھکائو نہ ہوتاتو سمندر سے اٹھتے ہوئے بخارات سیدھے شمال یا جنوب کو چلے جاتے اور ہمارے براعظم برف سے ڈھکے رہتے۔
چاند ہم سے تقریباً ڈھائی لاکھ میل کے فاصلے پر ہے۔ اس کے بجائے اگر وہ صرف پچاس ہزار میل دور ہوتا تو سمندروں میں مدوجزر کی لہریں اتنی بلند ہوتیں کہ تمام کرۂ ارض دن میں دو بار پانی میں ڈوب جاتا اور بڑے بڑے پہاڑ موجوں کے ٹکرانے سے گھس کر ختم ہو جاتے۔
یہ ہماری کائنات کے چند نہایت معمولی اور بالکل سادہ واقعات ہیں۔ ان کے سوا بےشمار ایسے واقعات ہیں جو ظاہر کرتے ہیںکہ ہماری زمین پر ان کا اجتماع محض اتفاقی طور پر نہیں ہو سکتا ۔ اور نہ محض اتفاق انہیں باقی رکھ سکتا ہے۔ یقیناً کوئی ہے جو ان واقعات کو وجود میں لایا ہے اور ان کو اس قدر منظم طریقہ پر مسلسل باقی رکھے ہوئے ہے۔ کائنات اتنی مربوط اور منظم ہے کہ جب بھی ہم اس کے کسی واقعہ کو بیان کرتے ہیں تو درحقیقت ہم اس کو محدود کر دیتے ہیں۔ کائنات کے ایک ایک جزء کے اندر اتنی حکمتیں ہیں کہ جب بھی ہم اس کی کسی حکمت کا ذکر کرتے ہیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے گویا ہم اس کو ایک کمتر درجے کی چیز بنا کر پیش کر رہے ہیں۔ ایسی ایک کائنات کو خدا کی مخلوق ماننا اگر کسی کو خلافِ عقل معلوم ہوتا ہے تو اس سے زیادہ خلاف عقل بات یہ ہے کہ اس کائنات کو بے خدا فرض کر لیا جائے۔
بعض لوگ کہتے ہیں کہ اگر خدا نے سب چیزیں پیدا کی ہیں تو خود خدا کو کس نے پیدا کیا ہے۔ مگر یہ ایک ایسا سوال ہے جو ہر حال میں پیدا ہوتا ہے۔ خواہ ہم خدا کو مانیں یا نہ مانیں۔ ہم دو میں سے کسی ایک چیزکو بلا سبب ماننے پرمجبور ہیں۔ یا خدا کو بے سبب مانیں یا کائنات کو۔ ہمارے سامنے ایک عظیم کائنات ہے جس کو ہم دیکھتے ہیں ، جس کو ہم محسوس کرتے ہیں ۔ ہم مجبور ہیں کہ اس کائنات کے وجود کو تسلیم کریں۔ ہم اس کا انکار نہیں کر سکتے ۔ پھر ہم یا تو یہ کہیں کہ کائنات خود سے وجود میں آ گئی ہے یا یہ کہیں کہ کوئی اور ہستی ہے جس نے اس کو بنایا ہے۔ دونوں صورتوں میں ہم کسی نہ کسی کو بلا سبب تسلیم کریں گے پھر کیوں نہ ہم خدا کو بلاسبب مان لیں جس کو ماننے کی صورت میں ہمارے تمام سوالات کاجواب مل جاتا ہے۔ جبکہ کائنات کو بلاسبب ماننے کی شکل میں کوئی مسئلہ حل نہیںہوتا۔ وہ تمام سوالات جو اس مسئلہ کے اردگرد پیدا ہوتے ہیں وہ سب کے سب بدستور باقی رہتے ہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
بعض لوگوں نے فلسفیانہ موشگافی کے ذریعہ یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ کائنات کوئی چیز ہی نہیں ہے۔ سب کچھ صرف ہمارا وہم ہے۔ مگر ایک شخص جب یہ بات کہتا ہے تو ٹھیک اسی وقت وہ کائنات کے وجود کو تسلیم کر لیتا ہے۔ آخر یہ سوال ہی کیوں پیدا ہوا کہ کائنات کوئی چیز ہے یا نہیں۔ سوال پیدا ہونا خود ظاہر کرتا ہے کہ کوئی چیز ہے جس کے بارے میں سوال درپیش ہے ۔ اور کوئی ہے جس کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو رہا ہے۔ اس طرح فلسفۂ تشکیک بیک وقت انسان اور کائنات دونوں کو تسلیم کر لیتا ہے۔