سب سے پہلے اس سوال کو لیجیے کہ اس کائنات کا ایک خدا ہے۔ بعض لوگ اس بات کو نہیں مانتے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ سارا کارخانہ محض ایک اتفاقی حادثے کے طور پر وجود میں آگیا ہے۔ اور اپنے آپ چلا جا رہا ہے۔ ہکسلے کے الفاظ میں — چھ بندر ایک ایک ٹائپ رائٹر لے کر بیٹھ جائیں۔ اور اربوں کھربوں سال تک الل ٹپ طریقے سے ان کو پیٹتے رہیں تو ہو سکتا ہے کہ ان کے سیاہ کیےہوئے کاغذات کے ڈھیر میں کسی صفحے پر شیکسپیئر کی ایک نظم نکل آئے۔ اسی طرح اربوں اور کھربوں سال تک مادے کے اندھے عمل کے دوران میں بالکل اتفاق سے یہ دنیا بن گئی ہے۔
یہ جواب جس نے صدیوں سے بہت سے لوگوں کو فریب میں مبتلا کر رکھا ہے ، یہ دراصل کوئی جواب نہیں ہے ۔ بلکہ محض چند الفاظ کا مجموعہ ہے۔ کیونکہ اتفاق یا حادثہ بذات خود کوئی چیز نہیں ہے۔ پھر جو چیز خود ہی اپنا وجود نہ رکھتی ہو وہ کسی دوسری چیز کو وجود میں لانے کا سبب کس طرح بن سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کائنات کی یہ تشریح کائنات کے اوپر بالکل چسپاں نہیں ہوتی۔ یہ محض ایک بے بنیاد دعویٰ ہے جو ذہنوں میں گھڑ لیا گیا ہے۔ اور کائنات کی حقیقی ساخت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس کے برعکس، خدا کا تصور کائنات کے ساتھ بالکل ہم آہنگ ہو جاتا ہے۔ وہ خود کائنات کے اندر سے بول رہا ہے۔ کائنات اتنی پرحکمت اور اتنی منظم ہے کہ اس کا تصور نہیں کیا جا سکتا کہ وہ کسی اتفاقی حادثے کے طور پر وجود میں آ گئی ہو۔ زمین پر جاندار چیزوں کی بقا کے لیے جو حالات ضروری ہیں وہ نہایت مکمل طور پر یہاں موجود ہیں۔ کیا محض اتفاق کے نتیجے میں اتنے عمدہ حالات پیدا ہو سکتے ہیں۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔