Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Haqeeqat-e-Tauheed
Haqeeqat-e-Tauheed

شرکِ خفی کا ظاہرہ

Urdu · 3 min

شرکِ خفی کا ظاہرہ: پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «مَنْ صَلَّى يُرَايِ فَقَدَ اَشْرَكَ، وَمَنْ صَامَ يُرَايِ فَقَدَ اَشْرَكَ، وَمَنْ تَصَدَّقَ يُرَايِ فَقَدَ اَشْرَكَ» مسند احمد، جلد 4، صفحہ 126۔ یعنی: جس شخص نے نماز پڑھی دکھانے کے لیے، اس نے شرک کیا۔ جس نے روزہ رکھا دکھانے کے لیے، اس نے شرک کیا۔ جس نے صدقہ کیا دکھانے کے لیے، اس نے شرک کیا۔

نماز اور روزہ اور صدقہ، خدا کی عبادتیں ہیں؛ پھر وہ شرک کیسے بن جاتے ہیں؟ ایسا اس وقت ہوتا ہے جب مسلمانوں کا ایک معاشرہ بن جائے۔ معاشرہ ایک دنیاوی تنظیم ہے۔ ایسی تنظیم جب وجود میں آتی ہے تو وہ کوئی سادہ بات نہیں ہوتی۔

اب تمام مادی روابط اس سماجی تنظیم کے ساتھ جڑ جاتے ہیں: قیادت، مادی فائدے، انسانی تعلقات۔ تمام دنیاوی نوعیت کی چیزیں سماج کے اندر وجود میں آ جاتی ہیں، جس طرح وہ عام قسم کے سیکولر سماج میں موجود ہوتی ہیں۔ یہی وہ وقت ہے جب مسلمانوں کے درمیان مذکورہ قسم کا شرک وجود میں آتا ہے۔ اس کو سماجی شرک بھی کہہ سکتے ہیں۔

اس سماج سے وابستہ ہر شخص کے لیے ضروری ہو جاتا ہے کہ وہ اس کے اندر اپنے سماجی اسٹیٹس کو برقرار، یعنی maintain، رکھے۔ اس نفسیات کے تحت یہ ہوتا ہے کہ لوگ دین کی اسپرٹ کو الگ الگ کر کے صرف اس کا ظاہری ڈھانچہ، یعنی فارم، لے لیتے ہیں اور اسی ظاہری ڈھانچے کی دھوم مچاتے ہیں۔ اس ماحول میں لوگ ظاہری دینداری کا خصوصی اہتمام کرتے ہیں، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اپنے آپ کو دیندار ثابت کرنے کے لیے— کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اپنے آپ کو دیندار ثابت کرنے کے بعد ہی وہ مسلمانوں کے اندر اپنی مطلوب جگہ بنا سکتے ہیں۔ وہ مسلمانوں کے اندر موجود تمام سماجی فائدے اپنے گرد اکٹھا کر سکتے ہیں۔

وہ مسلمانوں کے نمائندے بن کر ان کے درمیان ہر قسم کے قیادتی مناصب پر قابض ہو سکتے ہیں۔ اس قسم کی ظاہری عبادت میں رضائے الہی کی اسپرٹ موجود نہیں ہوتی، اس لیے حدیث میں اس کو شرک کا نام دیا گیا۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.