Maulana Wahiduddin Khan
5 min left
0:00

← Haqeeqat-e-Tauheed
Haqeeqat-e-Tauheed

سائنس کے دور میں اسی طرح…

Urdu · 5 min

سائنس کے دور میں اسی طرح جدید سائنس کے ظہور نے شرک کی دوسری بنیاد کو بھی ختم کر دیا۔ موجودہ زمانے میں سائنسی دریافتوں کے ذریعے یہ افسانہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا کہ فطرت کے مظاہر میں کوئی حقیقی تعدد ہے یا انہیں کوئی ذاتی عظمت حاصل ہے۔ جدید سائنس نے ایک طرف یہ کیا کہ اپنے تجزیے اور تجربے کے ذریعے آخری طور پر یہ ثابت کر دیا کہ تمام چیزیں ظاہری تعدد کے باوجود اپنے آخری تجزیے میں صرف ایٹم کا مجموعہ ہیں، اور ایٹم برقیاتی لہروں کا مجموعہ ہے۔ اس دریافت کے بعد فطرت میں تعدد کا افسانہ ختم ہو گیا۔

تمام چیزیں ظاہری فرق کے باوجود اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک ثابت ہو گئیں۔ گویا علم کی اگلی ترقی نے مشرکانہ نظریے کو رد کر کے توحید کے نظریے کے لیے ایک ثابت شدہ بنیاد فراہم کر دی۔ اسی کے ساتھ جدید سائنس نے دوسری بات یہ ثابت کی کہ زمین میں یا وسیع خلا میں جتنی بھی چیزیں ہیں، وہ سب کی سب بے بس مخلوق ہیں۔ سب کی سب ایک محکم قانون فطرت میں بندھی ہوئی ہیں۔

انہیں کسی بھی درجے میں کوئی ذاتی اختیار یا اقتدار حاصل نہیں۔ تاہم توہمات کا ابھی تک مکمل خاتمہ نہیں ہوا۔ ذاتی زندگی میں آج بھی ساری دنیا میں کروڑوں لوگ پراسرار قسم کے توہمات میں یقین رکھتے ہیں۔ اہل علم طبقے کی بہت بڑی تعداد ایسی ہے جو دیوی دیوتاؤں کو تو نہیں مانتی، مگر اب بھی وہ خدائے واحد تک نہیں پہنچی۔

فرق صرف یہ ہے کہ ان کی پچھلی نسلیں اگر دیوی دیوتاؤں میں اٹکی ہوئی تھیں تو اب قانون فطرت کے نام سے انہوں نے ایک اور معبود کو فرض کر لیا ہے، اور اس کو اپنے ذہن میں اسی طرح بٹھائے ہوئے ہیں جس طرح قدیم انسان دیوی دیوتاؤں کو بٹھائے ہوئے تھا۔ قدیم زمانے میں انسانی زندگی میں اور انسانی سماج میں بے شمار برائیاں پیدا ہو گئی تھیں۔ ان کے نتیجے میں انسان اپنی فطری عظمت سے محروم ہو گیا تھا۔ یہ پیغمبر اسلام اور آپ کے اصحاب کے ذریعے اٹھائی ہوئی تحریک توحید تھی، جس نے دنیا کو اس علم ناک دور سے نکالا اور انسانیت کو حقیقی معنی میں ترقی کے دور میں داخل کیا۔

انسان پہلی بار ان سعادتوں سے ہمکنار ہوا جو خدا نے اس کے لیے مقدر کی تھیں، مگر خود ساختہ توہمات کے نتیجے میں اس نے اپنے آپ کو ان سے محروم کر رکھا تھا۔ انسانیت تاریکی کے طویل دور سے نکل کر روشنی کے نئے دور میں داخل ہو گئی۔ اب بظاہر مادی ترقیوں کے باوجود انسان دوبارہ مسائل کے اندھیروں میں گرفتار ہو گیا ہے۔ خوشنما تمدن کے اندر وہ حقیقی خوشی اور سکون سے محروم ہے۔

انسان کی فطری عظمت دوبارہ پستیوں کے نئے کھڈ میں جا گری ہے۔ اب ضرورت ہے کہ توحید کی دعوت کو ازسرِ نو نئی طاقت کے ساتھ زندہ کیا جائے۔ ایک طرف اس کو نئے دلائل اور نئے اسلوب کے ذریعے زیادہ سے زیادہ قابلِ قبول بنایا جائے، اور دوسری طرف جدید ذرائع اشاعت کو استعمال کر کے اس کو ساری دنیا میں پھیلا دیا جائے، یہاں تک کہ وہ وقت آ جائے جس کو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ایک تاریخی پیش گوئی میں اس طرح فرمایا تھا: "ایک وقت آئے گا جب کہ خدا کے دین کا پیغام ساری دنیا میں پھیل جائے گا، کوئی گھر یا کوئی خیمہ ایسا نہ بچے گا جس کے اندر توحید کا کلمہ پہنچ نہ گیا ہو۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.