شرکِ خفی، اور جب اکیلے اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل کڑھنے لگتے ہیں۔ جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، اور جب اس کے سوا دوسروں کا ذکر ہوتا ہے تو یکایک خوش ہو جاتے ہیں۔ الزمر 45۔ مفسر الوسی نے اس آیت کی تفسیر میں اپنا ایک ذاتی واقعہ بیان کیا ہے: انہوں نے دیکھا کہ ایک شخص اپنی کسی مصیبت میں ایک مرے ہوئے بزرگ کو پکار رہا ہے۔
انہوں نے کہا، "اے شخص! خدا کو پکارو، وہ خود فرماتا ہے: وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ" البقرہ 186۔ ان کی یہ بات سن کر آدمی سخت غصے میں آ گیا۔ بعد کو لوگوں نے انہیں بتایا کہ وہ کہتا تھا کہ الوسی اولیاء کے منکر ہیں۔
کچھ لوگوں نے اس کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ اللہ کی نسبت سے ولی جلد سن لیتے ہیں۔ تفسیر الوسی، جلد 12، صفحہ 266۔ یہ ذہنیت کبھی کھلی کھلی غیر اللہ پر اعتماد کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے، جس کو شرکِ جلی کہا جاتا ہے۔ کبھی یہ ذہنیت شرکِ خفی کی صورت میں ہوتی ہے، جس کو آج کل کی زبان میں شخصیت پرستی کہا جا سکتا ہے۔
آپ کثرت سے ایسے مذہبی حلقے پائیں گے جہاں بظاہر اللہ اللہ کا ورد ہوتا ہے اور قرآن پڑھا پڑھایا جاتا ہے، لیکن اگر وہاں کی مجلسوں میں خدا کی باتوں کا چرچا کیجیے تو لوگوں کو کوئی خاص دلچسپی نہیں ہوگی۔ اس کے برعکس، اپنی پسندیدہ شخصیتوں کے چرچے رات دن ہوتے رہتے ہیں، اور اس سے ان کی دلچسپی کبھی ختم نہیں ہوتی۔ اکثر حالات میں شرکِ خفی، شرکِ جلی سے بھی زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔ بظاہر برا نہ دکھائی دینے کی وجہ سے اکثر لوگ اس میں مبتلا رہتے ہیں، حتیٰ کہ وہ لوگ بھی جو شرکِ جلی کے خلاف لسانی اور قلمی جہاد ہی کو اپنا مشغلہ بنائے ہوئے ہیں۔
قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ اہلِ ایمان سب سے زیادہ اللہ سے محبت کرنے والے ہوتے ہیں۔ البقرہ 165۔ دوسری جگہ ارشاد ہوا ہے کہ ہدایت یافتہ وہ ہے جو اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرے۔ التوبہ 18۔
اس سے معلوم ہوا کہ توحید یہ ہے کہ شدید محبت اور شدید خوف کا تعلق صرف ایک اللہ سے ہو جائے۔ اس کے مقابلے میں شرک یہ ہے کہ آدمی اپنی شدید محبت اور اپنے شدید خوف کا مرکز اللہ کے سوا کسی اور کو بنا لے، خواہ وہ کوئی زندہ ہو یا مردہ۔ اس معیار پر جانچیے تو معلوم ہوگا کہ بہت سے لوگ جو اپنے کو شرک سے محفوظ سمجھتے ہیں، وہ دراصل کچھ علاماتِ شرک سے محفوظ ہیں، نہ کہ فی الواقع حقیقتِ شرک سے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.