← Haqeeqat-e-TauheedHaqeeqat-e-Tauheed
قدیم شرک، جدید شرک
Urdu · 10 min
قدیم شرک، جدید شرک۔ موجودہ دنیا میں انسان کے لیے زندگی کے دو راستے ہیں: سیدھا راستہ اور بھٹکاؤ کا راستہ۔ النحل نو۔ سیدھا راستہ یہ ہے کہ آدمی خالق کو اپنی زندگی میں مرکزی مقام دے، وہ خالق کو اپنا سب کچھ بنا لے۔
بھٹکاؤ کا راستہ یہ ہے کہ آدمی مخلوق میں گم ہو جائے، وہ مخلوق کی نسبت سے اپنی زندگی کا پورا نقشہ بنائے۔ پہلے طریقے کا نام توحید ہے، اور دوسرے طریقے کا نام شرک ہے۔ ہماری کائنات میں صرف دو چیزیں ہیں: خالق اور مخلوق۔ خالق کو اپنا کنسن بنانے کا مذہبی نام توحید ہے، اور مخلوق کو اپنا کنسن بنانے کا مذہبی نام شرک۔
جیسا کہ معلوم ہے، انسانیت کے آغاز ہی سے ہر زمانے میں خدا کے پیغمبر آتے رہے، اور انسان کو صحیح اور غلط کی رہنمائی دیتے رہے۔ ہر پیغمبر کا مشن ایک ہی تھا: انسان کو توحید کی طرف بلانا، اور اس کو شرک سے بچنے کی تلقین کرنا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جس طرح ہر زمانے میں توحید ایک تھی، اسی طرح شرک بھی ہمیشہ ایک ہی رہا ہے۔ قدیم شرک یا شرک کا قدیم ورژن، یعنی ancient version of شرک، نیچر پرستی یعنی نیچر ورکشپ پر قائم تھا۔
نیچر کی حیثیت مخلوق کی ہے۔ قدیم زمانے کے انسان نے نیچر کو معبود کا درجہ دے دیا، وہ نیچر پرستی کی برائی میں مبتلا ہو گیا۔ یعنی خالق کی پرستش کے بجائے مخلوق کی پرستش کرنا۔ اسی کو مظاہر فطرت کی پرستش کہا جاتا ہے۔
موجودہ زمانے میں بھی یہ شرک اپنی پوری طاقت کے ساتھ موجود ہے۔ آج کا انسان بھی یہی کر رہا ہے کہ وہ خالق کے بجائے مخلوق کو اپنا سب کچھ، یعنی سپریم کنسن بنائے ہوئے ہے۔ قدیم شرک اور جدید شرک کے درمیان جو فرق ہے، وہ ظاہر کے اعتبار سے ہے، نہ کہ حقیقت کے اعتبار سے۔ قدیم انسان نے نیچر کو پرستش کا موضوع، یعنی object of worship بنایا تھا۔
جدید انسان نے نیچر کو تفریح کا موضوع، یعنی object of entertainment بنا لیا ہے۔ جذباتِ عبودیت کا مرکز پہلے بھی مخلوقات تھیں، اور اب بھی جذباتِ عبودیت کا مرکز مخلوقات ہیں۔ موجودہ زمانے کے انسان کا نظریہ یہ ہے کہ اپنے آج یعنی now میں خوش رہو، کل کی فکر چھوڑ دو۔ یہ آج کیا ہے، یہ وہی سامانِ حیات ہے جو ہم کو نیچر کی صورت میں ملا ہے۔
یہ سامانِ حیات خدا کی دی ہوئی نعمتیں ہیں۔ تفریح کے سامانوں میں سے کوئی بھی سامان انسان نے خود نہیں بنایا، وہ اس کو خالق کی طرف سے ملا ہے۔ یہ خالق ہے جو ساری چیزوں کو پیدا کرنے والا ہے۔ آج کے انسان نے یہ کیا کہ اس نے نعمت یعنی blessing کو لیا، اور منعم یعنی giver کو چھوڑ دیا۔
یعنی خالق رخی نظریے کو ترک کر کے مخلوق رخی نظریے کو اختیار کر لیا۔ انسان کی یہ فطرت ہے کہ اس کو جب کوئی چیز ملے تو وہ دینے والے کا اعتراف کرے۔ احساسِ تشکر یعنی gratitude انسان کی فطرت کا ایک لازمی تقاضا ہے۔ موجودہ زمانے میں انسان نے دوبارہ یہ کیا کہ اس نے اپنے احساسِ تشکر کو خالق کے بجائے مخلوق کی طرف موڑ دیا۔
جو قلبی اعتراف اس کو منعم کے لیے پیش کرنا چاہیے تھا، اس کو وہ منعم کی پیدا کردہ مخلوق کے لیے پیش کرنے لگا۔ آج کل کے لوگوں کی باتیں سنیے یا ان کی تحریریں پڑھیے، تو بار بار اس قسم کے نمونے سامنے آتے ہیں۔ ہر آدمی اپنے روزانہ کے تجربات میں اس کے نمونے دیکھ سکتا ہے۔ یہاں مثال کے طور پر میں ایک حوالہ نقل کروں گا: نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمز آف انڈیا، 27 جنوری 2008 میں اس موضوع پر ایک مضمون چھپا ہے۔
اس کے لکھنے والے کا نام ڈونا، یعنی ڈونا ڈیوین، ڈونا ڈیوین ہے۔ اس مضمون کا عنوان یہ ہے: "Be happy here and now"۔ آج کے زمانے میں انسان ایک عام مسئلے سے دوچار ہے۔ یہ مسئلہ ٹینشن یا اسٹریس ہے۔
یہ ٹینشن کیوں ہے؟ اس کا سبب یہ ہے کہ انسان اپنی فطرت کو اس کی مطلوب خوراک نہیں دے رہا ہے۔ وہ خالق کی پیدا کی ہوئی چیزوں سے بھرپور انتفاع کر رہا ہے، لیکن وہ خالق کا اعتراف نہیں کرتا۔ یہ بے اعترافی یا عدمِ تشکر فطرت کے خلاف ہے۔
اس لیے وہ انسان کے اندر شعوری یا غیر شعوری طور پر ٹینشن یا اسٹریس کا سبب بنا ہوا ہے۔ موجودہ انسان نے اس کا یہ غیر فطری حل دریافت کیا ہے کہ دینے والے کے بجائے خود دی ہوئی چیزوں پر تشکر کا اظہار کرنا۔ مذکورہ مضمون اسی جدید ذہن کی نمائندگی کر رہا ہے۔ چنانچہ اس میں کہا گیا ہے کہ تم ملی ہوئی چیزوں پر خوب تشکر کا اظہار کرو، اور تم ٹینشن سے بچ جاؤ گے۔
اس سلسلے میں مضمون نگار کے الفاظ یہ ہیں: انسان کے اندر جس طرح بھوک اور پیاس کا طاقتور جذبہ موجود ہے، اسی طرح یہ جذبہ بھی انسان کے اندر نہایت طاقتور شکل میں موجود ہے کہ وہ اپنے محسن کے احسان کا اعتراف کرے۔ اپنی فطرت کے اعتبار سے انسان اس کا تحمل نہیں کر سکتا کہ اس کو کسی سے کوئی بڑی چیز ملے اور وہ اس کا اعتراف نہ کرے۔ آدمی کا فطری مزاج یہ ہے کہ جب اس کو کسی سے کوئی بڑا فائدہ پہنچتا ہے تو اس کی پوری شخصیت چاہتی ہے کہ چیخ کر وہ اس کا اعتراف کرے۔ یہ انسان کی ایک ایسی صفت ہے جس سے کوئی بھی عورت یا مرد خالی نہیں۔
انسان کے پاس جو کچھ ہے، وہ سب خدا کا عطیہ ہے، خواہ اس کا اپنا وجود ہو یا اس کے باہر کا وہ پورا نظام جس کو لائف سپورٹ سسٹم کہا جاتا ہے۔ سب کا سب اس کو خدا کی طرف سے ایک طرفہ عطیے کے طور پر ملا ہے۔ ایسی حالت میں انسان کی فطرت چاہتی ہے کہ وہ ان تمام عطیات یعنی blessings کے لیے ان کے موتی یعنی giver کا بھرپور اعتراف کرے۔ ان عطیات میں سے ایک قسم ان عطیات کی ہے جو براہ راست طور پر خدا کی طرف سے انسان کو مل رہے ہیں، مثلاً ہوا اور پانی اور روشنی وغیرہ۔
اور دوسری چیزیں وہ ہیں جو بالواسطہ طور پر خدا کا عطیہ ہیں۔ یہ وہ چیزیں ہیں جن کو انسان نے عالمِ فطرت میں دریافت کر کے، خدا کی دی ہوئی عقل کے ذریعے، ان کو مختلف قسم کی مصنوعات میں تبدیل کیا ہے۔ مثلاً تمام قسم کے کنزیومر گڈز۔ یہ تمام عطیات تقاضا کرتے ہیں کہ انسان اپنے سارے دل اور سارے دماغ کے ساتھ ان کا اعتراف کرے۔
لیکن خود ساختہ فلسفوں کے تحت، انسان نے یہ کیا کہ اس نے عطیات کو لیا اور ان کے موتی یعنی giver کو حذف کر دیا۔ یہ ایک بھیانک غلطی تھی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ انسان کی فطرت ایڈریس ہونے سے رہ گئی۔ The human nature was left unaddressed۔
یہ کسی انسان کے لیے ایک داخلی تضاد کا معاملہ ہے۔ موجودہ زمانے میں تمام عورت اور مرد اسی داخلی تضاد میں جی رہے ہیں۔ موجودہ زمانے کا وہ مسئلہ جس کو ٹینشن اور اسٹریس کہا جاتا ہے، وہ براہ راست طور پر اسی داخلی تضاد کا نتیجہ ہے۔ اس حقیقت کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: "عَلَىٰ بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ" الرّاد 28۔
یعنی اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔ Peace of mind can be achieved only through the remembrance of God. سورہ نمبر 13، ورس 28۔