← Haqeeqat-e-TauheedHaqeeqat-e-Tauheed
اہلِ توحید اور اہلِ شرک
Urdu · 8 min
اہلِ توحید اور اہلِ شرک— آدمی جب خدائے واحد پر سچا یقین کرتا ہے تو نفسیاتی سطح پر خدا سے اس کا رشتہ قائم ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد روحانی تاروں پر اس کی پوری ہستی جگمگا اٹھتی ہے۔ وہ اپنی یادوں میں خدا کو پانے لگتا ہے، وہ اپنے آنسوؤں میں خدا کی جھلک دیکھنے لگتا ہے۔ اس کی سوچ اور جذبات میں خدا اس طرح بس جاتا ہے جیسے کہ وہ خدا کے پڑوس میں پہنچ گیا ہو، جیسے کہ وہ خدا کی رحمت بھرے سائے میں زندگی گزارنے لگا ہو۔
قرآن میں شرک کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ شرک سب سے بڑا ظلم ہے۔ لقمان 13۔ ظلم کا مطلب ہے کسی چیز کو غیر جگہ پر رکھ دینا، یعنی وَزْعُ الشَّيْءِ فِي غَيْرِ مَوْضِعِهِ یعنی شرک، خدا کے ساتھ کسی اور کو شریک کرنا، اس کائنات میں سراسر اجنبی ہے۔ اس دنیا میں شرک کا عقیدہ رکھنے یا مشرکانہ فعل کرنے کے لیے کائنات میں کوئی جگہ نہیں۔
اس دنیا کا خالق ایک ہی خدا ہے، وہی اس کا مالک ہے، وہی اس کو سنبھالنے والا ہے۔ اسی کے پاس ہر قسم کے اختیارات ہیں۔ ایسی حالت میں جو شخص خدا کے سوا کسی اور کو خدا مانے، یا کسی اور کو خدا کی خدائی میں شریک کرے، اس نے ایک خود ساختہ مفروضے کو واقعی حقیقت کا درجہ دے دیا۔ اس نے ایک ایسی چیز کو موجود فرض کیا جس کا اس دنیا میں سرے سے کوئی وجود ہی نہیں۔
مشرکانہ طرز فکر تمام برائیوں میں سب سے بڑی برائی ہے۔ جس آدمی کا ذہن مشرکانہ طرز پر سوچے، جس آدمی کے دل میں مشرکانہ خیالات پرورش پائیں، وہ ایک بے حقیقت چیز کو اختیار کرتا ہے۔ کائنات اپنے پورے وجود کے ساتھ اس کی تردید کرتی ہے۔ شرک کا عقیدہ یا نظریہ آدمی کو فکری غذا دینے والا نہیں۔
وہ اس کو اس روحانی روشنی سے منور کرنے والا نہیں جس کے بغیر آدمی کا پورا وجود ہی اس دنیا میں بے معنی ہو جاتا ہے۔ توحید کی حقیقت کو کسی ایک لفظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اللہ کے ساتھ بندے کے ایک ایسے تعلق کا نام ہے جو محبت اور خوف اور توکل کے جذبات کا مجموعہ ہوتا ہے۔ کوئی بندہ اس وقت اللہ کا موحد بنتا ہے جب کہ وہ اللہ کو اس طرح پائے کہ وہی اس کا محبوب بن جائے۔
اسی پر وہ سب سے زیادہ بھروسہ کرنے لگے۔ اس کو سب سے زیادہ جس بات کا اندیشہ ہو، وہ یہ کہ کہیں اس سے کوئی ایسا فعل سرزد نہ ہو جو اس کو خدا کی رحمتوں سے محروم کر دے۔ ان تمام انسانی جذبات کے لیے صرف اللہ کو خاص کر لینے کا نام توحید ہے۔ اس سلسلے میں یہاں قرآن سے چند آیتیں نقل کی جاتی ہیں۔
کچھ لوگ ایسے ہیں جو اللہ کے سوا دوسروں کو اس کا برابر ٹھہراتے ہیں۔ وہ ان سے ایسی محبت رکھتے ہیں جیسی محبت اللہ سے رکھنا چاہیے۔ اور جو اہلِ ایمان ہیں، وہ سب سے زیادہ اللہ سے محبت رکھنے والے ہیں۔ اور اگر یہ ظالم اس وقت کو دیکھ لیں جب کہ وہ عذاب سے دوچار ہوں گے، تو وہ سمجھ لیتے کہ زور سارا کا سارا اللہ کا ہے۔
اور اللہ بڑا سخت عذاب دینے والا ہے۔ البقرہ 165۔ اللَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ التَّغَابُنُ 13۔ یعنی اللہ، اس کے سوا کوئی الہ نہیں۔
اور ایمان لانے والوں کو اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔ إِنَّهُمْ يُسَارِعُونَ إِنَّهُمْ كَانُوا يُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ وَيَدْعُونَنَا رَغَبًا وَرَهَبًا وَكَانُوا لَنَا خَاشِعِينَ الانبیاء 90۔ یعنی وہ لوگ دوڑتے تھے بھلائیوں پر اور پکارتے تھے ہم کو امید سے اور ڈر سے۔ اور وہ ہمارے آگے عاجزی کرنے والے تھے۔
ان آیات کے مطابق توحید اعتقادی طور پر یہ ہے کہ آدمی سب سے زیادہ اپنے رب سے محبت کرنے لگے۔ اس کے لیے سب سے زیادہ بھروسے کی چیز اس کا خدا بن جائے۔ اس کی امیدیں اور اس کے اندیشے اللہ کے ساتھ اس طرح وابستہ ہو جائیں کہ وہ اپنے روز و شب کے لمحات میں اس کو بے تابانہ پکارنے لگے۔ اسی دریافت کا نام معرفت یعنی ریئلائزیشن ہے۔
اس دریافت سے جس کے اندر وہ شخصیت بنے، جب کہ ایک اللہ ہی اس کے لیے سب کچھ بن جائے۔ وہ اسی کی یاد میں جیے اور یہی سوچ اس کی غالب سوچ بن جائے۔ ایسا انسان شریعت کی اصطلاح میں موحد ہے۔ اس کے برعکس اللہ جس کا واحد کنسن نہ ہو، بلکہ اس کے ساتھ وہ دوسری چیزوں کو بھی اپنا کنسن بنائے ہوئے ہو، ایسا انسان شریعت کی اصطلاح میں شرک میں مبتلا ہے۔
موحد کی شخصیت انٹیگریٹڈ پرسنالٹی ہوتی ہے۔ موحد کی شخصیت انٹیگریٹڈ پرسنالٹی ہوتی ہے۔ اور مشرک کی شخصیت سپلٹ پرسنالٹی۔ شریعت کے مطابق اللہ انسان کی اصل غایت ہے۔
اور دوسری چیزیں صرف اس کی ضرورت۔ توحید اور شرک دونوں کا تعلق حقیقت سے ہے، نہ کہ صرف مظاہر سے۔