Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Haqeeqat-e-Tauheed
Haqeeqat-e-Tauheed

خوفِ محبت کا مرکز

Urdu · 3 min

توحید کا مطلب ہے ایک اللہ پر اعتماد کرنا، اور اپنے سارے دل اور اپنے سارے دماغ کے ساتھ اس سے وابستہ ہو جانا۔ اسی کو اپنے خوف و محبت کے جذبات کا مرکز بنانا۔ انسان کو سوچنے اور محسوس کرنے کی جو صلاحیتیں دی گئی ہیں، وہ اپنا کوئی نہ کوئی توجہاتی مرکز چاہتی ہیں۔ آدمی فطری طور پر چاہتا ہے کہ کوئی ہو جس کی طرف وہ لپکے، جس سے وہ امید رکھے، جس کے اوپر وہ بھروسہ کرے، جس کی یاد کو وہ سرمایہ حیات بنائے۔

آدمی اپنی ہستی کا ایک مرکز بنائے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا، خواہ یہ مرکز دولت و اقتدار ہو یا قبریں اور دیوی دیوتا، یا کوئی دوسری چیز۔ یہ مرکز اگر اللہ کے سوا کوئی اور ہو تو یہ شرک ہے۔ اور اگر انسان صرف اللہ رب العالمین کو اپنی ہستی کا مرکز بنائے تو اسی کو توحید کہتے ہیں۔ اسلام کا تقاضا ہے کہ آدمی اپنی توجہات کو صرف اللہ کی طرف موڑ دے، اس کے سوا کوئی چیز اس کے لیے مرکزِ توجہ کی حیثیت سے باقی نہ رہے۔

آدمی جب خدا کو اپنا معبود بناتا ہے تو وہ ایک ہستی کو اپنا معبود بناتا ہے جو حقیقی طور پر موجود ہے۔ اس کے برعکس جب کوئی آدمی غیر خدا کو اپنا معبود بنائے تو اس نے ایک ایسی چیز کو اپنا معبود بنایا جس کا واقعات کی دنیا سے سرے سے کوئی وجود ہی نہیں، خواہ بظاہر اس نے اس مفروضہ معبود کی ایک صورت بنا کر اپنے سامنے رکھ لی ہو۔ جو آدمی خدا کو اپنا معبود بنائے، اس نے طاقت کے حقیقی سرچشمے کو پا لیا۔ اس کے برعکس جو آدمی غیر خدا کو اپنا معبود بناتا ہے، وہ ایک ایسے توہماتی مفروضے سے اپنا رشتہ جوڑتا ہے جس کا حقیقت میں کوئی وجود نہیں۔

خدا کا عبادت گزار ابدی سعادت سے ہمکنار ہوتا ہے، اس کے برعکس غیر خدا کے عبادت گزار کے لیے ابدی محرومی کے سوا کوئی اور چیز نہیں۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.