Maulana Wahiduddin Khan
5 min left
0:00

← Haqeeqat-e-Tauheed
Haqeeqat-e-Tauheed

توحید کا مفہوم

Urdu · 5 min

توحید کیا ہے؟ توحید کا مطلب یہ ہے کہ خدا کو ایک مانا جائے، یہ یقین کیا جائے کہ تمام طاقتیں اور ہر قسم کے اختیارات صرف ایک خدا کو حاصل ہیں۔ وہی تنہا عبادت کا مستحق ہے۔ عبادت کی قسم کا کوئی بھی فعل خدا کے سوا کسی اور کے لیے جائز نہیں۔

خدا ہی انسان کی مرادیں اور حاجتیں پوری کرتا ہے۔ خدا ہی کائنات کا نظام چلا رہا ہے۔ برتری صرف ایک خدا کا حق ہے۔ کسی اور کو اس دنیا میں حقیقی برتری حاصل نہیں۔

ایسا ہر عقیدہ باطل ہے جس میں ان تمام پہلوؤں میں خدا کے سوا کسی اور کو شریک کیا جائے۔ قرآن میں توحید کے عقیدے کو ایک آیت میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: "اللہ" اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ زندہ ہے، سب کا تھامنے والا۔ اس کو نہ اونگھ آتی ہے اور نہ نیند۔ اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے۔

کون ہے جو اس کے پاس اس کی اجازت کے بغیر سفارش کرے؟ وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے آگے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے۔ اور وہ اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کر سکتے، مگر جو وہ چاہے۔ اس کی حکومت آسمانوں اور زمین پر چھائی ہوئی ہے۔

وہ تھکتا نہیں ان کے تھامنے سے۔ اور وہی ہے بلند مرتبہ والا اور بڑا۔ آلِ عمران 255۔ خدا کی پرستش کرنا اپنے خالق و مالک کی پرستش کرنا ہے، جو واقعی طور پر انسان کی پرستش کا حقدار ہے۔

اس کے برعکس، کوئی آدمی جب غیر خدا کے آگے سر جھکاتا ہے تو وہ اپنے جیسی ایک مخلوق کے آگے سر جھکاتا ہے، جو اس کا حقدار نہیں کہ اس کے آگے سر جھکایا جائے۔ خدا کی پرستش انسان کو عظمت عطا کرتی ہے، اور غیر خدا کی پرستش اس کو توہمات میں مبتلا کر دیتی ہے۔ خدا کی پرستش سے معرفتِ حق کے دروازے کھلتے ہیں۔ اس کے برعکس، آدمی جب غیر خدا کی پرستش کرتا ہے تو وہ حق کی معرفت کے دروازوں کو اپنے اوپر بند کر لیتا ہے۔

توحید صرف ایک ہے، مگر شرک کی ہزاروں قسمیں ہیں۔ موحد انسان کا مرکزِ توجہ اور مرکزِ عبودیت صرف ایک خدا ہوتا ہے۔ وہ ہر حال میں اور اپنی پوری زندگی میں اسی ایک خدا کو اپنا سب کچھ بنائے ہوئے رہتا ہے۔ مگر مشرک انسان کا کوئی ایک مرکزی نقطہ نہیں ہوتا۔

یہی وجہ ہے کہ شرک کی بے شمار قسمیں بن جاتی ہیں: ستارہ پرستی، زمین پرستی، بت پرستی، ارباب پرستی، قبر پرستی سے لے کر نفس پرستی، دولت پرستی، اقتدار پرستی، مفاد پرستی، اولاد پرستی وغیرہ۔ یہ تمام چیزیں درجہ بہ درجہ غیر اللہ کی پرستش میں شامل ہیں، اور قرآن میں ان کی کھلی مذمت کی گئی ہے۔ موحد انسان وہ ہے جو ہر قسم کی برتر حیثیت صرف ایک خدا کو دے۔ اسی سے اپنی مراد مانگے۔

اسی کے سامنے مراسم پرستش بجا لائے۔ اسی پر سب سے زیادہ بھروسہ کرے۔ اسی کو ہر اعتبار سے برتر حیثیت دے۔ پرستش کسی سے تعلق کے اظہار کا آخری درجہ ہے۔

یہی وجہ ہے کہ پرستش کی تمام صورتیں صرف ایک خدا کا حق ہیں۔ پرستش کی نوعیت کی کوئی چیز کسی غیر خدا کے لیے جائز نہیں۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.