توحید محض ایک روایتی عقیدے کا نام نہیں؛ توحید دراصل عظیم ترین فکری انقلاب ہے جو عظیم ترین فکری دریافت کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے۔ توحید یہ ہے کہ آدمی اللہ کو اپنے خالق اور مالک کی حیثیت سے دریافت کرے۔ اللہ، جو پوری کائنات کا خالق اور مالک ہے، اس کی دریافت جب کسی انسان کو ہوتی ہے تو اس کے ذہن میں ایک فکری بھونچال پیدا ہو جاتا ہے۔ اس کے اندر معرفت کا سمندر ایک طوفان بن کر داخل ہو جاتا ہے۔
اس کی سوچ اور اس کے جذبات میں ایک کامل نوعیت کی تبدیلی آ جاتی ہے۔ اس کے بعد وہ ایک نیا انسان بن جاتا ہے۔ اسی نئے انسان کا نام موحد انسان ہے۔ اسلامی دعوت کے کام کا آغاز یہ ہے کہ انسان کے اندر عقیدہ توحید کی بنیاد پر ایک فکری انقلاب برپا کیا جائے۔
اس فکری انقلاب کے بعد ہی ایک انسان موحد انسان بنتا ہے۔ اور جب اس انقلابی فکر کے حامل بہت سے افراد پیدا ہو جائیں تو ان کے مجموعے سے وہ معاشرہ پیدا ہوتا ہے جس کو اسلامی معاشرہ کہا جاتا ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.