توحید کا عقیدہ اسلام میں اثاثی عقیدے کی حیثیت رکھتا ہے۔ توحید کے موضوع پر عربی اور دوسری زبانوں میں بہت زیادہ کتابیں لکھی گئی ہیں؛ آپ ان کتابوں کو پڑھیں تو ان میں آپ کو غرض و غایت کے اعتبار سے اس طرح کے الفاظ لکھے ہوئے ملیں گے: "علمِ توحید سب سے افضل علم ہے"۔ معاذ ابن جبل کی مشہور روایت میں توحید کے عقیدے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اولیت دی تھی۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ توحید کا علم سب سے افضل علم ہے، وغیرہ۔
علمِ توحید بلاشبہ سب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے، لیکن عملی اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ اہمیت اس بنا پر نہیں ہے کہ وہ ایک افضل علم ہے؛ علمی اعتبار سے اس کی اہمیت یہ ہے کہ وہ ایک اثاثی علم ہے۔ اثاثی علم ہونے کا مطلب یہ ہے کہ توحید ہی وہ بنیاد ہے جس پر بقیہ اسلامی اعمال کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔ توحید کی اساس نہیں تو بقیہ اعمال بھی نہیں۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.