پچھلے زمانوں میں خدا کی طرف سے جتنے پیغمبر آئے، وہ سب اسی لیے آئے کہ وہ انسان کو شرک سے ڈرائیں اور انہیں توحید کی تعلیم دیں، تاکہ انسان اس کے مطابق اپنی زندگی کی اصلاح کرے اور دنیا اور آخرت کی سعادت حاصل کر سکے۔ مگر انسانیت کی لمبی تاریخ میں تقریباً ہر پیغمبر کے ساتھ ایسا ہوا کہ لوگوں کی زیادہ تعداد نے ان کی بات کو ماننے سے انکار کر دیا، خاص طور پر سماج کے بڑے لوگ کبھی پیغمبر کو ماننے یا ان کا ساتھ دینے پر راضی نہیں ہوئے۔ اس تاریخی واقعے کو قرآن میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: اس تاریخی واقعے کو قرآن میں اس طرح بتایا گیا ہے: "افسوس ہے بندوں کے اوپر، جو رسول بھی ان کے پاس آیا، وہ اس کا مذاق ہی اڑاتے رہے" (یاسین 30)۔ خدا کے پیغمبروں کو نظرانداز کرنے کا یہ معاملہ اس حد تک بڑھا کہ پچھلے دور میں آنے والے پیغمبروں کو انسانی تاریخ کے ریکارڈ سے حذف کر دیا گیا۔
یہی وجہ ہے کہ ہم ماضی کی مدون تاریخ میں بادشاہوں کی داستانیں تو پڑھتے ہیں، مگر پیغمبروں کا تذکرہ مدون تاریخ میں سرے سے موجود ہی نہیں۔ اس معاملے میں صرف پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا واحد استثنا ہے۔ آپ کو اللہ تعالیٰ کی خصوصی مدد حاصل ہوئی، چنانچہ آپ نے پہلی بار ردِ شرک اور اثباتِ توحید کی تحریک کو ایک ایسی زندہ تحریک بنایا جس نے اس تحریک کو فکری مرحلے سے اٹھا کر عملی انقلاب کے مرحلے تک پہنچا دیا، اور اس کی ایک مستقل تاریخ بنا دی۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.