Maulana Wahiduddin Khan
10 min left
0:00

← Haqeeqat-e-Hajj
Haqeeqat-e-Hajj

Masaail-e-Hajj

Urdu · 10 min

مسائلِ حج: حج اسلام کا پانچواں رکن ہے، ہر مسلمان مرد و عورت پر استطاعت کی صورت میں 1 بار حج کرنا فرض ہے۔ حج کی ادائیگی کے 5 دن ہیں، 8 ذی الحجہ سے 12 ذی الحجہ تک۔ حج کے لیے جانے والے مکہ پہنچنے سے پہلے ایک مقررہ مقام پر احرام یعنی حج کا لباس پہنتے ہیں۔ اس میقات، اس مقام کو میقات کہا جاتا ہے۔

ہندوستان اور پاکستان کے باشندوں کی میقات یلملم کی پہاڑی ہے، مدینے کی طرف سے آنے والوں کے لیے ذوالحلیفہ۔ کوفہ، بصرہ اور بغداد کی طرف سے آنے والوں کے لیے ذات عارخ۔ ترکی اور شام کی طرف سے آنے والوں کے لیے جحفہ ہے۔ مکہ پہنچنے سے پہلے میقات پر احرام باندھ لینا ضروری ہے۔

8 ذی الحجہ کو یومِ ترویا بھی کہتے ہیں، اس تاریخ کو رات میں یا صبح کی نماز کے فوراً بعد غسل کر کے احرام کی ایک چادر تہمت کی طرح پہن لیں اور دوسری اوڑھ لیں۔ خوشبو لگائیں۔ حرم میں پہنچ کر کعبے کا طواف کریں، مقامِ ابراہیم پر 2 رکعت نماز، مقامِ ابراہیم پر 2 رکعت نفل نماز واجب الطواف پڑھیں۔ دعا اور استغفار کریں۔

اس کے بعد 2 رکعت نماز احرام کی نیت سے ادا کریں۔ جب یہ نمازیں پڑھیں تو سر احرام کی چادر سے ڈھکا ہوا ہو۔ نماز پوری کر چکیں تو سر سے چادر ہٹا لیں اور اس طرح نیت کریں: "اللہم إني أريد الحج فيسره لي وتقبله مني" اے اللہ، میں حج کا ارادہ کرتا ہوں، تو اس کو میرے لیے آسان کر دے اور میری جانب سے اس کو قبول فرما۔ احرام باندھنے سے لے کر حج ختم ہونے تک، اٹھتے بیٹھتے اور حج کے ارکان ادا کرتے ہوئے بار بار مندرجہ ذیل دعا پڑھی جاتی ہے، جس کو تلبیہ کہتے ہیں۔

مرد بلند آواز سے تلبیہ کہیں اور عورتیں آہستہ آہستہ: "لبیک اللہم لبیک، لبیک لا شریک لک لبیک، إن الحمد والنعمة لک والملک لا شریک لک" حاضر ہوں، اے اللہ حاضر ہوں۔ حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں۔ حاضر ہوں، سب تعریفیں اور نعمتیں تیرے لیے ہیں، اور بادشاہی میں تیرا کوئی شریک نہیں۔ حج کے دوران ایک مرتبہ صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرنا واجب ہے۔

یہ سعی عرفات کی حاضری سے پہلے یا نفلی طواف یا طوافِ زیارت کے بعد کر سکتے ہیں۔ طواف، طوافِ زیارت یعنی منیٰ سے واپسی کے بعد کرنا افضل ہے۔ کمزور لوگ ہجوم کے خیال سے پہلے ہی اس ذمہ داری سے سبک دوش ہو سکتے ہیں۔ طوافِ کعبہ کے 7 چکر ہیں، پہلے حجرِ اسود کا استلام کریں، اس کے بعد ازدبا کریں، یعنی ابتدائی 3 چکر میں چادر کو داہنے مونڈھے کے نیچے سے نکال کر دونوں کونوں کو بائیں مونڈھے پر ڈال لیں اور تیزی سے اکڑ کر چلیں، جس کو رمل کہتے ہیں۔

یعنی عورتوں کو ازدبا اور رمل کی ضرورت نہیں۔ باقی 4 پھیرے معمول کے مطابق کریں۔ طواف کے دوران دعا پڑھتے رہیں۔ آخر میں مقامِ ابراہیم پر 2 رکعت نماز پڑھیں۔

اس کے بعد ملتظم پر آئیں اور خوب دعا کریں۔ اس کے بعد زمزم پیئیں اور دعا کریں۔ پھر سعی کے لیے باب الصفا سے ہو کر صفا کی طرف چلیں، اور پھر صفا سے مروہ کی طرف۔ اب سعی کا ایک پھیرا پورا ہو گیا۔

اسی طرح 7 پھیرے صفا سے مروہ اور مروہ سے صفا تک کریں۔ اس سعی کے دوران تکبیر و تحلیل اور دعا کرتے رہنا چاہیے۔ سعی میں مردوں کو میلین اخزرین کے درمیان دوڑ کر چلنا چاہیے۔ سعی میں 7 پھیرے اس طرح کریں کہ ساتواں پھیرا مروہ پر ختم ہو۔

8 ذی الحجہ کی صبح کو اس کے بعد منیٰ کے لیے روانہ ہونا ہے۔ دوپہر سے پہلے وہاں پہنچ جائیں تاکہ وہاں ظہر کی نماز ادا کر سکیں۔ منیٰ میں مجموعی طور پر 5 دن قیام کرنا ہے۔ منیٰ میں پہلے 8 ذی الحجہ کی ظہر سے 9 ذی الحجہ کی فجر تک 5 نمازیں حتّی الامکان مسجدِ خیف میں پڑھی جاتی ہیں۔

9 ذی الحجہ کو یہاں سے عرفات جانا ہے اور وہاں ٹھہرنا ہے۔ یہ وقوفِ عرفہ ہی حج کا رکنِ اعظم ہے۔ یہاں ظہر اور عصر کی نماز اکٹھا پڑھی جاتی ہے۔ عرفات سے 9 ذی الحجہ کو واپس آ کر رات کو مزدلفہ میں ٹھہرنا ہے۔

پھر 10 ذی الحجہ کو طلوعِ آفتاب سے پہلے مزدلفہ سے چل کر دوبارہ منیٰ آنا ہے۔ اس تمام، اس تمام دوران میں تلبیہ اور دعائیں جاری رہنا چاہیے۔ ایک دعا یہ ہے: "لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ، لہ الملک ولہ الحمد، یحیی ویمیت وھو علی کل شی قدیر" اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ ساری بادشاہت اور ساری تعریف اسی کے لیے ہے۔

وہ زندگی دیتا ہے اور وہی مارتا ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ غروبِ آفتاب تک میدانِ عرفات میں رہنا مسنون ہے۔ 10 ذی الحجہ کو مغرب کی نماز میدانِ عرفات میں پڑھے بغیر مزدلفہ جانا ہے۔ مزدلفہ میں رات کو مغرب اور عشاء کی نماز ملا کر پڑھنا ہے۔

اس سفر میں وادیِ محسر کے سوا ہر جگہ ٹھہرنا ہے۔ 10 ذی الحجہ ہی کو پھر منیٰ آنا ہے۔ مزدلفہ اور منیٰ کے درمیان 3 مقامات ہیں جن کو جمرۃ الاولی، جمرۃ الوسطی اور جمرۃ العقبہ کہتے ہیں۔ ان مقامات پر مختلف اوقات میں 3 بار ساتھ ساتھ کنکریاں ماری جاتی ہیں۔

رمی کے بعد منیٰ میں قربانی کریں۔ قربانی کے بعد حلق یا تقصیر، یعنی سر کے بال پورے منڈانا یا ترشوانا۔ اس کے بعد غسل کر کے معمول کے مطابق کپڑے پہن لیں۔ قربانی کے لیے مذبح جانا پڑتا ہے۔

قافلے کے دو تین افراد وکیل بن کر سب کی طرف سے قربانی کر سکتے ہیں۔ ہر حاجی کو مذبح جانا ضروری نہیں۔ حجامت کے بعد احرام کی پابندیاں بجز رفع کے اٹھ جاتی ہیں۔ اب حاجی کو طوافِ زیارت کرنا ہے۔

10 تاریخ کو ان سب سے فارغ ہو کر غروبِ آفتاب سے پہلے اگر طوافِ زیارت کے لیے مکہ جا کر واپس آ سکتے ہوں تو بہتر ہے۔ ورنہ 12 تاریخ کو غروبِ آفتاب تک یہ طواف کیا جا سکتا ہے۔ طوافِ زیارت کے وقت زیادہ سے زیادہ ذکر اور دعا میں مشغول رہنا چاہیے۔ طوافِ زیارت کے بعد پھر منیٰ واپس آنا ہے۔

اور 11 اور 12 دونوں تاریخوں میں جمرے کی رمی کرنا ہے۔ کنکریاں مارتے ہوئے یہ کہنا چاہیے: "رجم للشیاط للشیطان، رجم للشيطان ورضا للرحمن" یعنی شیطان کو مارنے کے لیے اور اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے۔ منیٰ واپس آ کر رمی کرتے وقت پہلے چھوٹے شیطان، پھر درمیان والے شیطان، پھر اور پھر بڑے شیطان پر کنکریاں ماریں۔ یہی مسنون طریقہ ہے۔

مزدلفہ سے واپسی پر 3 راتیں منیٰ میں گزارنا سنت ہے۔ 2 رات گزار کر 12 ذی الحجہ کو غروب سے پہلے منیٰ سے جا سکتے ہیں۔ اب آپ حاجی ہو گئے۔ اس کے بعد جتنے دن مکے میں قیام ہو، روزانہ کعبے کا طواف اور دعا کیجیے، اور روانگی کے دن طوافِ وداع کر کے یہاں سے رخصت ہوئیے۔

حقیقتِ حج، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 105۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.