مدینے کی حاضری، مدینہ جانا، مسجد نبوی میں نماز پڑھنا، اور روضۂ رسول پر درود پڑھنا، اگرچہ حج کے ارکان و فرائض میں داخل نہیں، تاہم اس کا بہت ثواب ہے، اور حاجی کو ضرور وہاں بھی حاضری دینا چاہیے۔ حاجی کو چاہیے کہ طوافِ وداع کے بعد مکے سے مدینے کے لیے روانہ ہو۔ مدینے کے سفر میں زبان پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے زیادہ سے زیادہ صلوۃ و سلام جاری رہنا چاہیے۔ مدینہ پہنچ کر غسل کرے اور مسجد نبوی میں داخل ہو کر دو رکعت نماز پڑھے، اور اس کے بعد دعا کرے۔
نماز کے بعد ادب کے ساتھ مواجہہ شریف کی جالیوں کے پاس آئے اور صلوۃ و سلام پڑھے۔ مدینے کے قیام کے زمانے میں نمازیں زیادہ سے زیادہ مسجد نبوی میں ادا کرے۔ مسجد نبوی میں نماز اور درود سے فارغ ہو کر مدینے کے ان مقامات کی زیارت کرنا چاہیے جن سے اسلام کی تاریخ وابستہ ہے، مثلاً جنت البقیع جہاں بہت سے صحابہ کرام دفن ہیں، مسجد قباء جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ آ کر پہلی نماز پڑھی، جبلِ احد جہاں اسلام اور غیر اسلام کی دوسری بڑی جنگ ہوئی، مسجد قبلتین جہاں عین حالتِ نماز میں تحویلِ قبلہ کا حکم نازل ہوا، وغیرہ۔ حقیقتِ حج، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 107۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.