پابند زندگی۔ اسلامی زندگی کا خلاصہ ایک لفظ میں یہ ہے کہ اپنے آپ کو کنٹرول میں رکھ کر زندگی گزاری جائے۔ حج کے سفر کو اس قسم کی پابند زندگی کے لیے خصوصی تربیت کا ذریعہ بنا دیا گیا ہے۔ حج کی یہ حیثیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث میں ان لفظوں میں بیان کی گئی ہے: "جس شخص نے حج کے مراسم اس طرح ادا کیے کہ مسلمان اس کی زبان اور اس کے ہاتھ سے محفوظ رہے، تو اس کے تمام پچھلے گناہ معاف کر دیے جائیں گے"۔
من قضا نُسُکَهُ وَسَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِن لِسَانِهِ وَيَدِهِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِن ذَنبِهِ تفسیر ابن کثیر، سورۃ البقرہ۔ گویا حج کا فریضہ ادا کرتے ہوئے حاجی کو جس چیز سے خاص طور پر بچنا ہے، وہ یہ کہ اس کی زبان سے کسی بندہ خدا کے دل کو ٹھیس نہ لگے، اس کے ہاتھ سے کسی انسان کو تکلیف نہ پہنچے۔ جو حج آدمی کے تمام گناہوں کو ختم کر دیتا ہے، وہ وہی حج ہے جس سے آدمی اس قسم کی زبان اور اس قسم کا ہاتھ لے کر واپس آیا ہو۔ حقیقت حج، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 101۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.