← Haqeeqat-e-HajjHaqeeqat-e-Hajj
Khud faramushi
Urdu · 4 min
خود فراموشی۔ حج کے دوران لذت اور آرائش کی چیزوں کو بھی ممنوع قرار دے دیا گیا ہے۔ حج کا عمل احرام سے شروع ہوتا ہے۔ احرام ایک سادہ لباس، یعنی ایک سفید تہمت اور ایک سفید چادر ہے، جو حرم کے حدود میں داخل ہوتے ہی ہر حاجی اور زائر کے لیے ضروری ہو جاتا ہے۔
احرام گویا ایک قسم کا فقیرانہ لباس ہے جو زیارتِ کعبے کے لیے پہنا جاتا ہے۔ یہ پہلی علامتی تدبیر ہے جس کے ذریعے سے خدا اپنے بندوں کو یہ احساس دلاتا ہے کہ سارے انسان برابر ہیں۔ جن ظاہری چیزوں کی بنیاد پر لوگ ایک دوسرے پر فخر کرتے ہیں، یا کسی کو اونچا یا کسی کو نیچا سمجھتے ہیں، وہ سب خدا کی نظر میں سراسر باطل ہیں۔ خدا سب کو ایک نظر سے دیکھتا ہے، ٹھیک ویسے ہی جیسے حج کے زمانے میں لاکھوں حاجی ایک قسم کا لباس پہننے کی وجہ سے بالکل ایک جیسے دکھائی دیتے ہیں۔
گویا حج کا احرام اسلام کے اس اصول کا ایک عملی مظاہرہ ہے کہ سب انسان برابر ہیں۔ جو لوگ خدا کے اچھے بندے بننا چاہتے ہیں، ان کے لیے لازم ہے کہ وہ ہر قسم کے دوسرے لباس اپنے اوپر سے اتار دیں اور سب کے سب ایک خدائی لباس میں ملبوس ہو جائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ حاجی کون ہیں، آپ نے فرمایا: "پراگندہ بال اور غبار آلود"۔ ان الفاظ میں اصل حاجی کی تعریف بتائی گئی ہے: الجھے ہوئے بال اور گرد سے اٹا ہوا جسم، بامقصد آدمی کی پہچان ہے۔
جب کوئی شخص پوری سنجیدگی کے ساتھ اپنے آپ کو کسی خاص کام کے لیے وقف کر دے، تو اس کو آرائش و زیبائش کی فرصت نہیں رہتی۔ حج میں بالقصد اس قسم کا حلیہ بنانے کا حکم، گویا بامقصد زندگی گزارنے کا ایک تاکیدی سبق ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی خدائی مقصد میں اپنے آپ کو اس حد تک مشغول کرے کہ اس کو اپنے ظاہر کو بنانے اور سنوارنے کی سدھ نہ رہے۔ وہ وقتی لذتوں کو بھول جائے، برتر مقصد کو پانے کی دھن میں اس کو اپنے ذاتی تقاضے یاد نہ رہیں۔
حج کا حکم دیتے ہوئے قرآن میں کہا گیا ہے: "اور تم سفرِ حج میں تقویٰ کا زادِ راہ لو"۔ بہترین زادِ راہ تقویٰ کا زادِ راہ ہے۔ اے عقل والو! اللہ سے ڈرو۔
بقرہ 197۔ قدیم عرب میں یہ سمجھا جاتا تھا کہ حج کے لیے زادِ راہ لے کر نکلنا دنیا دارانہ فعل ہے۔ جو شخص حج کے لیے اس طرح نکلے کہ وہ دنیا کا سامان لیے بغیر حج کے سفر پر چل پڑا ہو، وہ پارسا اور دین دار خیال کیا جاتا تھا۔ ایسے لوگ اپنے بارے میں کہتے کہ ہم متوکل ہیں۔
نحن المتوکلون ہم خدا کے سوا کسی چیز پر بھروسہ نہیں کرتے۔ مگر قرآن میں یہ بتایا گیا کہ اس قسم کی ظاہری نمائش کا نام دین داری نہیں ہے۔ دین داری کا تعلق دل اور ذہن سے ہے، نہ کہ کسی قسم کے خارجی مظاہرے سے۔ آدمی کو جس چیز سے بچنا ہے، وہ یہ ہے کہ اس کا دل اور اس کا ذہن غیر اللہ کے ڈر سے خالی ہو، نہ یہ کہ اس کی جھولی میں کوئی کھانے پینے کا سامان نظر نہ آتا ہو۔
حقیقتِ حج مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 101۔