جارحیت سے پرہیز: حج کے لیے احرام باندھنے کے بعد خشکی کے جانوروں کا شکار کرنا حاجی کے لیے حرام ہے، حتیٰ کہ شکار کیے ہوئے جانور کا گوشت بطور ہدیہ قبول کرنا۔ پرندے کا پر اکھاڑنا: شکار میں مدد دینا، شکار کے جانور کو ذبح کرنے کے لیے چھری دینا وغیرہ سب حاجی کے لیے حرام ہے۔ حج کے دوران میں حاجی کسی موزی جانور، مثلاً سانپ کو مار سکتا ہے، یا وہ قربانی کے جانور کو ذبح کرتا ہے جو حج کے مراسم کا ایک جز ہے۔ اس کے علاوہ کسی جانور کو مارنا یا اسے تکلیف دینا حاجی کے لیے حرام ہے۔
جانور کا شکار عام حالات میں بالکل جائز ہے، مگر حج کے دوران ان کا شکار کرنے کی اجازت نہیں۔ یہ دراصل ایک شرعی حکم پر مبالغے کے ساتھ عمل کرانا ہے۔ آدمی پر یہ فرض ہے کہ وہ انسان کو نہ مارے، وہ کسی جاندار کو نہ ستائے۔ یہ شریعت کا ایک عام حکم ہے جو ہر آدمی سے ہر حال میں مطلوب ہے، مگر حج کے دوران اس کو شکار کے جانوروں تک وسیع کر کے اس حکم کے بارے میں آدمی کے احساس کو تیز کیا جاتا ہے تاکہ حج سے واپسی کے بعد وہ زیادہ اہتمام کے ساتھ اس کی تعمیل کر سکے۔
وہ بقیہ دنوں میں بھی لوگوں کے درمیان غیر جارح بن کر رہے۔ حقیقت حج، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 100۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.