Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Haqeeqat-e-Hajj
Haqeeqat-e-Hajj

Kalaam me Ehtiyaat

Urdu · 3 min

کلام میں احتیاط: مل جل کر رہنے میں لوگوں کو ایک دوسرے کی جس چیز سے سب سے زیادہ سابقہ پیش آتا ہے، وہ زبان ہے۔ ایک شخص کو دوسرے شخص سے سب سے زیادہ تکلیف زبان ہی سے پہنچتی ہے۔ حج کے زمانے میں بیک وقت بہت سے لوگوں کا ساتھ ہو جانے کی وجہ سے بار بار یہ موقع آتا ہے کہ آدمی کی زبان بے قابو ہو جائے اور ایک مسلمان سے دوسرے مسلمان کو ٹھیس پہنچے۔ چنانچہ حج کے موسم کو خصوصیت سے کلام میں احتیاط کی تربیت کا ذریعہ بنا دیا گیا۔

زبان سے کسی کو تکلیف پہنچانا عام دنوں میں اسلامی اخلاقیات کا ایک جز ہے، مگر حج کے دنوں میں اس کو اسلامی عبادات کا لازمی جز بنا دیا گیا تاکہ لوگ زیادہ سے زیادہ اہتمام کر کے اپنے آپ کو اس سماجی برائی سے بچائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص حج اس طرح ادا کرے کہ مسلمان اس کی زبان اور اس کے ہاتھ سے محفوظ رہیں، تو اس کے اب تک کے گناہ معاف ہو جائیں گے۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: "حج کے چند معلوم مہینے" یعنی شوال، ذیقعدہ، ذوالحجہ ہیں۔ شوال کے غرّے سے لے کر بکری عید کی صبح یعنی ذوالحجہ کی دسویں رات تک یہ اشہر حج یعنی حج کے مہینے ہیں۔

ان کو اشہر حج اس لیے کہا جاتا ہے کہ حج کا احرام ان کے اندر ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص اس سے پہلے حج کا احرام باندھے تو وہ صحیح نہ ہوگا۔ جو شخص ان مہینوں میں اپنے اوپر حج مقرر کرے تو پھر حج میں نہ کوئی فحش بات ہو اور نہ بد کلامی اور نہ جھگڑا اور نہ تکرار کیا جائے۔ بقرہ 197۔

زبان سے دوسروں کو تکلیف پہنچانے کی یہی تین خاص صورتیں ہیں۔ آدمی فحش باتیں اپنی زبان سے نکالتا ہے جو دوسروں کے لیے دل خراشی کا باعث ہوتی ہیں۔ وہ دوسرے کو برے الفاظ سے یاد کرتا ہے اور اس کے بارے میں نازیبہ کلمات بول کر اس کو بے ابرو کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ بات چیت کے دوران تکرار اور سخت کلامی پر اتر آتا ہے۔

یہ تمام چیزیں حج میں بالکل حرام کر دی گئیں تاکہ ان کے بارے میں آدمی کی حساسیت بڑھ جائے۔ اور جب وہ حج کے مقدس سفر سے لوٹے تو اس کے اثر سے اس کی زبان ہمیشہ کے لیے ان چیزوں سے محفوظ ہو چکی ہو۔ حقیقت حج مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 99۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.