مزید اہتمام: حج کے دنوں میں جو کچھ کرنا منع ہے، وہ وہی ہے جس کو بقیہ دنوں میں بھی کرنا منع ہے۔ حج کے دوران میں ان چیزوں کی ممانعت بطور خصوصی تربیت ہے۔ حج میں شریعت کی ان ممنوعات پر مبالغے کے ساتھ عمل کرایا جاتا ہے، تاکہ ان کے بارے میں آدمی کا احساس تیز ہو اور بقیہ دنوں میں ان سے بچنے کی خصوصی استعداد اس کے اندر پیدا ہو جائے۔ انسان جب اپنے گھر اور کاروبار میں ہوتا ہے تو وہ اپنے ذاتی معاملات میں الجھا رہتا ہے۔
وہ اس سے آگے کی حقیقتوں کو بھول جاتا ہے۔ اس لیے آدمی کو روزانہ نماز کی ادائیگی کے لیے مسجد میں لایا جاتا ہے، تاکہ کچھ دیر کے لیے وہ اپنے ذاتی ماحول سے علیحدہ ہو اور اپنے ذہن کو غیر متعلق چیزوں سے خالی کر کے یکسوئی کے ساتھ خدا کی طرف متوجہ ہو سکے۔ حج کا سفر بھی اسی نوعیت کی ایک چیز ہے۔ حج کے دنوں میں اسی مقصد کے لیے آدمی کو اس کے محدود ماحول سے نکال کر، زیادہ لمبی مدت کے لیے حجاز یعنی عرب کے مختلف مقامات پر لے جایا جاتا ہے۔
حج کسی آدمی کے لیے اس کے دنیاوی ماحول سے کامل علیحدگی کا نام ہے، تاکہ وہ کامل یکسوئی کے ساتھ اپنے خدا کی طرف متوجہ ہو سکے۔ عرب کے ساتھ بہت سی عظیم دینی روایتیں وابستہ ہیں۔ اس بنا پر حج کے مراسم کی ادائیگی کے لیے عرب کا جغرافیہ سب سے زیادہ موزوں جغرافیہ ہے۔ یہاں کعبہ ہے، جس کے بارے میں ہزاروں سال سے تقدس کی روایتیں قائم ہو چکی ہیں۔
یہاں پیغمبروں کی قربانی کی داستانیں لکھی گئی ہیں۔ یہاں خدا کے نیک بندوں پر خدا کے انعامات کی یادگاریں ہیں۔ یہ وہ زمین ہے جہاں خدا کے آخری رسول اور آپ کے اصحاب کی زندگیوں کے نشانات ثبت ہیں۔ اس قسم کی تاریخی نسبتوں نے حج کے مقامات کے ساتھ غیر معمولی تقدس اور احترام کی فضا وابستہ کر دی ہے۔
یہاں کے ماحول میں پہنچتے ہی آدمی کے ذہن میں ایک پوری دینی تاریخ جاگ اٹھتی ہے۔ یہاں بالکل قدرتی طور پر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کی دینی حس میں اضافہ ہو جائے، وہ زیادہ سنجیدگی اور انہماک کے ساتھ خدا کے مقرر کیے ہوئے فرائض کو ادا کرنے لگے۔ اسی مخصوص تاریخی اہمیت کی بنا پر اس علاقے کو خدا نے اس کے لیے چنا کہ یہاں اسلامی زندگی کے بارے میں ایک علامتی مشق یعنی ریہرسل کرائی جائے، اور پھر آدمی کو دوبارہ اس کے سابقہ ماحول میں واپس پہنچا دیا جائے تاکہ وہ زیادہ بہتر طور پر خدا پرستانہ زندگی گزارنے کے قابل ہو سکے۔ حج کے زمانے میں مخصوص مراسم کی ادائیگی کے دوران حاجی کے لیے جو چیزیں منع ہیں، ان میں سے تین خاص چیزوں کا ذکر یہاں کیا جاتا ہے۔
نمبر ایک: زبان سے کسی شخص کو کوئی تکلیف نہ پہنچانا۔ نمبر دو: کسی جانور کو نہ مارنا اور نہ اس کو زخمی کرنا۔ نمبر تین: لذت اور آرائش کی چیزوں سے پرہیز، مثلاً ناخن کاٹنا، بال سنوارنا، سلا ہوا کپڑا پہننا، خوشبو لگانا، ازدواجی تعلقات وغیرہ۔ حقیقت حج مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 98۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.