← Haqeeqat-e-HajjHaqeeqat-e-Hajj
Hajj ki Tareekh
Urdu · 6 min
حج کی تاریخ: حج کی تاریخ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل کی زندگی سے وابستہ ہے۔ یہ دونوں ہستیاں وہ ہیں جن کو نہ صرف مسلمان خدا کا پیغمبر مانتے ہیں بلکہ دوسرے بڑے مذاہب کے لوگ بھی ان کو عظیم پیغمبر تسلیم کرتے ہیں۔ اس طرح حج کے عمل کو تاریخی طور پر تقدس اور عظمت کا وہ درجہ مل گیا ہے جو دنیا میں کسی دوسرے عمل کو حاصل نہیں۔ حضرت ابراہیم قدیم عراق میں پیدا ہوئے، حضرت اسماعیل ان کے صاحبزادے تھے۔
اس وقت عراق ایک شاندار تمدن کا ملک تھا۔ آزر حضرت ابراہیم کے والد اور حضرت اسماعیل کے دادا تھے۔ ان کو عراق کے سرکاری نظام میں اعلیٰ عہدیدار کی حیثیت حاصل تھی۔ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل کے لیے عراق میں شاندار ترقی کے اعلیٰ مواقع کھلے ہوئے تھے، مگر عراق کے مشرکانہ نظام سے وہ موافقت نہ کر سکے۔
ایک خدا کی پرستش کی خاطر، ایک خدا کی پرستش کی خاطر انہوں نے اس علاقے کو چھوڑ دیا جو کئی خداؤں کی پرستش کا مرکز بنا ہوا تھا۔ وہ عراق کے سرسبز ملک کو چھوڑ کر عرب کے خشک صحرا میں چلے گئے، جہاں کی سنسان دنیا میں خالق اور مخلوق کے درمیان کوئی اور چیز حائل نہ تھی۔ یہاں انہوں نے ایک خدا کے گھر کی تعمیر کی۔ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل کے اس عمل کو دوسرے لفظوں میں اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے کہ انہوں نے کئی خداؤں کو اپنا مرجع بنانے کے بجائے ایک خدا کو اپنا مرجع بنایا۔
اور اس مقصد کے لیے بیت اللہ یعنی کعبے کی تعمیر کی، جو خدائے واحد کی عبادت کا عالمی مرکز ہے۔ یہی مرکز توحید حج کے مراسم کی ادائیگی کا مرکز بھی ہے۔ حج کی عبادت میں جو مراسم ادا کیے جاتے ہیں، ان کے بعض پہلوؤں کو دیکھیے۔ حج کے دوران حاجی سب سے زیادہ جو کلمہ بولتا ہے وہ یہ ہے: اللہ اکبر، اللہ اکبر، لا الہ الا اللہ، واللہ اکبر، اللہ اکبر، وللہ الحمد۔
اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اور اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اور اسی کے لیے ہے ساری تعریف۔ حاجی کی زبان سے بار بار یہ الفاظ کہلوا کر تمام لوگوں کے اندر یہ نفسیات پیدا کی جاتی ہے کہ بڑائی صرف ایک اللہ کی ہے۔ اس کے سوا جتنی بڑائیاں ہیں، سب اس لیے ہیں کہ اسی ایک عظیم تر بڑائی میں گم ہو جائیں۔
یہ احساس اجتماعیت کا سب سے بڑا راز ہے۔ اجتماعیت اور اتحاد ہمیشہ وہاں نہیں ہوتا جہاں ہر آدمی اپنے کو بڑا سمجھ لے۔ اس کے برعکس جہاں تمام لوگ کسی ایک کے حق میں اپنی انفرادی بڑائی سے دستبردار ہو جائیں، وہاں اتحاد اور اجتماعیت کے سوا کوئی اور چیز پائی نہیں جاتی۔ بے اتحادی بڑائیوں کی تقسیم کا نام ہے، اور اتحاد بڑائیوں کی وحدت کا۔
اسی طرح حج کا ایک اہم رکن طواف ہے۔ دنیا بھر کے لوگ جو حج کے موسم میں مکے میں جمع ہوتے ہیں، وہ سب سے پہلے کعبے کا طواف کرتے ہیں۔ یہ اس بات کا عملی اقرار ہے کہ آدمی اپنی کوششوں کا مرکز و محور صرف ایک نقطے کو بنائے گا۔ وہ ایک ہی دائرے میں حرکت کرے گا۔
یہ عین وہی مرکزیت ہے جو مادی سطح پر نظام شمسی میں نظر آتی ہے۔ نظام شمسی کے تمام سیارے ایک ہی سورج کو مرکزی نقطہ بنا کر اس کے گرد گھومتے ہیں۔ اسی طرح حج یہ سبق دیتا ہے کہ انسان ایک خدا کو اپنا مرجع بنا کر اس کے دائرے میں گھومے۔ اس کے بعد حاجی صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرتا ہے۔
وہ صفا سے مروہ کی طرف جاتا ہے اور پھر مروہ سے صفا کی طرف لوٹتا ہے۔ اس طرح وہ سات چکر لگاتا ہے۔ یہ عمل کی زبان میں اس بات کا سبق ہے کہ آدمی کی دوڑ دھوپ ایک حد کے اندر بندھی ہوئی ہونی چاہیے۔ اگر آدمی کی دوڑ دھوپ کی کوئی حد نہ ہو تو کوئی ایک طرف بھاگ کر نکل جائے گا اور کوئی دوسری طرف۔
مگر جہاں دوڑ دھوپ کی حد بندی کر دی گئی ہو، وہاں ہر آدمی بندھا رہتا ہے۔ وہ بار بار وہیں لوٹ کر آتا ہے جہاں اس کے دوسرے بھائی اپنی سرگرمیاں جاری کیے ہوئے ہوں۔ یہی حج کے دوسرے تمام مراسم کا حال ہے۔ حج کے تمام مراسم مختلف پہلوؤں سے لوگوں کو ایک ہونے اور مل کر کام کرنے کا سبق دیتے ہیں۔
وہ ایک آواز پر حرکت کرنے کا عملی مظاہرہ ہے۔ حقیقت حج مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 92۔