← Haqeeqat-e-HajjHaqeeqat-e-Hajj
Markaz-e-Ittehaad
Urdu · 7 min
مرکزِ اتحاد: حج اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے خدا کی طرف سفر ہے۔ عام انسان موت کے بعد خدا کے دربار میں حاضر ہوں گے۔ مومن موت سے پہلے ہی اپنے آپ کو خدا کے دربار میں حاضر کر دیتا ہے۔ دوسروں کی خدا کے یہاں حاضری مجبورانہ حاضری ہے، اور مومن کی خدا کے یہاں حاضری اختیارانہ حاضری۔
عرفات کے میدان میں بیک وقت ساری دنیا کے حاجیوں کا اجتماع یہی منظر پیش کرتا ہے۔ اسی لیے حدیث میں آیا ہے: "الحج عرفہ" یعنی عرفہ ہی حج ہے۔ تاہم حج ایک جامع عبادت ہے، اس میں دوسرے تمام پہلو بھی براہِ راست یا بالواسطہ انداز میں جمع کر دیے گئے ہیں۔ انہی مزید فوائد میں سے ایک یہ ہے کہ حج عالمی اسلامی اتحاد کا ذریعہ ہے۔
کعبہ گویا وہ مرکزی نقطہ ہے جس کے گرد دنیا بھر کے خدا پرستوں کا عبادتی دائرہ قائم ہوتا ہے۔ عرفات کی حاضری کا اصل پہلو وہی ہے جو اخروی ہے، تاہم اس میں اہلِ اسلام کے اتحاد کا بھی گہرا راز چھپا ہوا ہے۔ کیونکہ اتحاد ایک مرکز پر جمع ہونے کا نام ہے۔ کیونکہ اتحاد ایک مرکز پر جمع ہونے کا نام ہے۔
مسلمان جب حج کے موقع پر اپنے رب کے گرد اکٹھا ہوتے ہیں تو اس عمل کے دوران وہ اس مرکزی نقطے کو بھی دریافت کر لیتے ہیں جو ان کی کثرت کو وحدت میں تبدیل کر سکے۔ وہ اپنی آخرت کا راز پانے کے ساتھ اپنی دنیا کا راز بھی پا لیتے ہیں۔ میرے سامنے دیوار پر بیت اللہ کی تصویر ہے، وسیع مسجد کے درمیان کعبے کی جانی پہچانی عمارت ہے، اور اس کے چاروں طرف لاکھوں انسان گول دائرے میں اپنے رب کے آگے جھکے ہوئے عبادت کر رہے ہیں۔ یہ سالانہ اجتماعی نماز ہے جو ہر بار حج کے مہینے میں ادا کی جاتی ہے۔
اس میں دنیا بھر کے 25 لاکھ سے زیادہ مسلمان شرکت کرتے ہیں۔ یہ پوری طرح ایک مری واقعہ ہے، اور اس کا فوٹو لیا جا سکتا ہے۔ مگر کعبے کو قبلہ بنا کر اس کے گرد نماز پڑھنے والے صرف وہی لوگ نہیں ہیں جو حرمِ کعبہ میں دکھائی دیتے ہیں، حرمِ کعبہ کے باہر کے مسلمانوں کا معاملہ بھی یہی ہے۔ تمام عرب کے لوگ اسی طرح روزانہ کعبے کی طرف رخ کر کے نماز ادا کرتے ہیں۔
اسی طرح سارے ایشیا اور افریقہ کے مسلمان بھی ایسا ہی کرتے ہیں۔ یہ دائرہ بڑھتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ سارے کرۂ ارض پر پھیل جاتا ہے۔ تصور کی آنکھوں سے دیکھیے تو جو واقعہ صحنِ کعبہ میں ہوتا ہے، وہی واقعہ زیادہ بڑے پیمانے پر ہر روز ساری دنیا میں ہو رہا ہے۔ ساری دنیا کے لوگ روزانہ 5 بار کعبے کی طرف رخ کر کے نماز ادا کرتے ہیں۔
وہ ساری دنیا میں کعبے کے چاروں طرف کھڑے ہوتے ہیں۔ اس طرح گویا ہر روز 5 بار روئے زمین پر مسلمانوں کا گول دائرہ بنتا ہے۔ درمیان میں کعبہ ہوتا ہے، اور ساری دنیا میں اس کے گرد دائرہ بنائے ہوئے مسلمان نماز ادا کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ ایک ایسی عظیم اور مکمل اجتماعیت ہے جس کی مثال کسی بھی دوسرے مذہبی یا غیر مذہبی گروہ کے یہاں نہیں ملتی۔
یہ ایک عظیم الشان نظام ہے جو ہزاروں سال کی تاریخ کے ذریعے قائم ہوا ہے۔ مسلمانوں کے اندر اگر اس کا حقیقی شعور ہو، اور وہ اس سے وہ سبق لے سکیں جس کے لیے یہ عظیم الشان نظام بنایا گیا ہے، تو مسلمانوں کی زندگی میں ایک انقلاب آ جائے۔ ان کا ہر فرد ایک عالمگیر مقدس اجتماعیت کے ساتھ متحد ہو جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ کعبہ زمین پر خدا کا نشان ہے، اور اسی کے ساتھ مسلمانوں کے اتحاد اور اجتماعیت کا نشان بھی۔
یکتا کے اس عظیم تربیتی نظام ہی کا یہ بھی ایک ظاہری پہلو ہے کہ تمام لوگوں سے ان کے انفرادی لباس اتروا کر سب کو ایک ہی سادہ لباس پہنا دیا جاتا ہے۔ یہاں بادشاہ اور رعایا کا فرق مٹ جاتا ہے۔ یہاں مشرقی لباس اور مغربی لباس کے امتیازات فضا میں گم ہو جاتے ہیں۔ احرام کے مشترک لباس میں تمام لوگ اس طرح نظر آتے ہیں جیسے کہ تمام لوگوں کی صرف ایک حیثیت ہے۔
تمام لوگ صرف ایک خدا کے بندے ہیں، اس کے سوا کسی کو کوئی اور حیثیت حاصل نہیں۔ حج کے مقررہ مراسم اگرچہ مکے میں ختم ہو جاتے ہیں، مگر بیشتر حاجی حج سے فارغ ہو کر مدینہ بھی جاتے ہیں۔ مدینے کا قدیم نام یثرب تھا، مگر پیغمبر اسلام نے اپنی زندگی کے آخری زمانے میں اس کو اپنا مرکز بنایا۔ اس وقت سے اس کا نام مدینۃ النبی یعنی نبی کا شہر پڑ گیا۔
مدینہ اسی کا اختصار ہے۔ مدینے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بنائی ہوئی مسجد ہے۔ یہاں آپ کی قبر ہے، یہاں آپ کی پیغمبرانہ زندگی کے نشانات بکھرے ہوئے ہیں۔ ان حالات میں حاجی جب مدینہ پہنچتے ہیں تو یہ ان کے لیے مزید اتحاد اور اجتماعیت کا عظیم سبق بن جاتا ہے۔
یہاں کی مسجد نبوی میں وہ اس یاد کو تازہ کرتے ہیں کہ ان کا رہنما صرف ایک ہے۔ وہ یہاں سے یہ احساس لے کر لوٹتے ہیں کہ ان کے اندر خواہ کتنے ہی جغرافی اور قومی فرق پائے جاتے ہوں، انہیں ایک ہی پیغمبر کے بتائے ہوئے راستے پر چلنا ہے۔ انہیں ایک ہی مقدس ہستی کو اپنی زندگی کا رہنما بنانا ہے۔ وہ خواہ کتنے ہی زیادہ اور کتنے ہی مختلف ہوں، مگر ان کا خدا بھی ایک ہے اور ان کا پیغمبر بھی ایک۔
حقیقتِ حج مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 94۔