← Haqeeqat-e-HajjHaqeeqat-e-Hajj
Hajj ki Ijtemaiyat
Urdu · 7 min
حج کی اجتماعیت۔ حج اسلام کی ایک نہایت اہم سالانہ عبادت ہے۔ وہ قمری کیلنڈر کے آخری ماہ، ذوالحجہ میں ادا کیا جاتا ہے۔ حج کی عبادت کے مراسم بیت اللہ، یعنی مکے میں، یا اس کے آس پاس کے مقامات پر ادا کیے جاتے ہیں، جو عرب میں واقع ہیں۔
اس عبادت کو تمام عبادتوں کا جامع کہا جاتا ہے، چنانچہ اس میں ہر قسم کے عبادتی پہلو پائے جاتے ہیں۔ انہی میں سے ایک اجتماعی پہلو بھی ہے۔ حج کی عبادت میں اجتماعیت کا پہلو بہت نمایاں طور پر موجود ہے۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا 1984 میں حج کی تفصیل دیتے ہوئے یہ جملہ لکھا گیا ہے: "About 2 million persons perform the Hajj each year, and the rite.
.. serves as a unifying force in Islam by bringing followers of... diverse backgrounds together in religious celebration. " انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا، 1985، والیوم 4، پیج 844۔
تقریباً 2 ملین آدمی ہر سال حج کرتے ہیں، اور یہ عبادت مختلف ملکوں کے مسلمانوں کو ایک مذہبی تقریب میں یکجا کر کے اسلام میں اتحادی طاقت کا کام کرتی ہے۔ قرآن میں حج کا حکم دیتے ہوئے یہ الفاظ آئے ہیں: "وَإِذْ جَعَلْنَا الْبَيْتَ مَثَابَةً لِّنَّاسِ وَأَمْنًا" البقرہ 125۔ یعنی خدا نے بیت اللہ کو لوگوں کے لیے مثابہ بنایا، اور اس کو امن کی جگہ بنا دیا۔ مثابہ کے معنی عربی زبان میں تقریباً وہی ہیں جس کو آج کل کی زبان میں مرکز کہا جاتا ہے، یعنی وہ جگہ جہاں لوگ جمع ہوں، جس کی طرف سب لوگ رجوع کریں، جو سب کا مشترک مرجع اور شیرازہ ہو۔
حج کی عبادت کے لیے ساری دنیا سے، ہر ہر ملک کے لوگ آتے ہیں، ہر ہر قوم کے لوگ آتے ہیں۔ ان کی تعداد سالانہ تقریباً 25 لاکھ ہو جاتی ہے۔ حج کے موسم میں مکہ اور اس کے آس پاس ہر طرف آدمی ہی آدمی دکھائی دینے لگتے ہیں۔ یہ لوگ مختلف زبانیں بولتے ہیں، ان کے حلیے الگ الگ ہوتے ہیں، مگر یہاں آنے کے بعد سب کی سوچ ایک ہو جاتی ہے۔
سب ایک ہی مشترک نشانِ پر چلتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے کوئی ربانی مخناطیس ہے، جو لوہے کے تمام ٹکڑوں کو ایک نقطے پر کھینچے چلا جا رہا ہے۔ مختلف ملکوں کے یہ لوگ جب مقام حج کے قریب پہنچتے ہیں تو سب کے سب اپنا قومی لباس اتار دیتے ہیں، اور سب کے سب ایک ہی مشترک لباس پہن لیتے ہیں، جس کو احرام کہا جاتا ہے۔ احرام باندھنے کا مطلب یہ ہے کہ بغیر سلی ہوئی ایک سفید چادر نیچے تہمت کی طرح پہن لی جائے، اور اسی طرح ایک سفید چادر اوپر سے جسم پر ڈال لی جائے۔
اس طرح لاکھوں انسان ایک ہی وضع اور ایک ہی رنگ کے لباس میں ملبوس ہو جاتے ہیں۔ یہ سارے لوگ مختلف مراسم ادا کرتے ہوئے بالآخر عرفات کے وسیع میدان میں اکٹھا ہوتے ہیں۔ اس وقت ایک عجیب منظر ہوتا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے انسانوں کے تمام فرق اچانک مٹ گئے ہیں۔
انسان اپنے تمام اخلاق، انسان اپنے تمام اختلافات کو کھو کر خدائی وحدت میں گم ہو گئے ہیں۔ تمام انسان ایک ہو گئے ہیں، جیسے ان کا خدا ایک ہے۔ عرفات کے وسیع میدان میں جب احرام باندھے ہوئے تمام حاجی جمع ہوتے ہیں، اس وقت کسی بلندی سے دیکھا جائے تو ایسا نظر آئے گا کہ زبان، رنگ، حیثیت، جنسیت کے فرق کے باوجود سب کے سب انسان بالکل ایک ہو گئے ہیں۔ اس وقت مختلف قومیتیں ایک ہی بڑی قومیت میں ضم ہوتی ہوئی نظر آتی ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ حج اجتماعیت کا اتنا بڑا مظاہرہ ہے کہ اس کی کوئی دوسری مثال غالباً دنیا میں کہیں اور نہیں ملے گی۔ کعبہ مسلمانوں کا قبلہ عبادت ہے۔ مسلمان ہر روز پانچ وقت اس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے ہیں۔ گویا ساری دنیا کے مسلمانوں کا عبادتی قبلہ ایک ہی ہے۔
عام حالت میں وہ ایک تصوراتی حقیقت ہوتا ہے، مگر حج کے دنوں میں مکہ پہنچ کر وہ ایک آنکھوں دیکھی حقیقت بن جاتا ہے۔ ساری دنیا کے مسلمان یہاں پہنچ کر جب اس کی طرف رخ کر کے نماز ادا کرتے ہیں تو محسوس طور پر دکھائی دینے لگتا ہے کہ تمام دنیا کے مسلمانوں کا مشترک قبلہ ایک ہی ہے۔ کعبہ ایک چوکور قسم کی اونچی عمارت ہے۔ اس عمارت کے چاروں طرف گول دائرے میں سارے لوگ گھومتے ہیں، جس کو طواف کہا جاتا ہے۔
وہ صف بہ صف ہو کر اس کے گرد گول دائرے میں عبادت کرتے ہیں۔ حج کے دوران وہ ان کی تمام توجہ کا مرکز بنا رہتا ہے۔ اس طرح حج ایک ایسی عبادت بن جاتا ہے جو اپنے تمام اعمال اور تقریبات کے ساتھ انسان کو اجتماعیت اور مرکزیت کا سبق دے رہا ہو۔ حقیقت حج، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 90۔