Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Haqeeqat-e-Hajj
Haqeeqat-e-Hajj

Fitri andaaz

Urdu · 3 min

فطری انداز۔ اس اہتمام کی ایک وجہ یہ ہے کہ اسلام ہمیشہ سادہ اور فطری طریقے کو پسند کرتا ہے۔ مثلاً حج کے اعمال میں سے ایک عمل یہ ہے کہ صفا اور مروہ، یعنی پہاڑیوں کے درمیان، سعی کی جائے۔ اس سلسلے میں ایک سوال ترتیب کا تھا، یعنی یہ کہ سعی کا عمل صفا کی طرف سے شروع کیا جائے یا مروہ کی طرف سے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کے موقع پر یہ عمل کیا تو فرمایا: "أبدأ بما بدأ الله به" یعنی "میں اس سے شروع کرتا ہوں جس سے اللہ نے شروع کیا"۔ اس سے آپ کا اشارہ قرآن کی اس آیت کی طرف تھا: إِنَّ الصَّفَاءَ وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ البقرہ 158۔ یہ وہ آیت ہے جس میں حاجی کو صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس آیت کی ترتیبِ بیان یہ ہے کہ اس میں صفا کا لفظ پہلے ہے اور مروہ کا لفظ اس کے بعد ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ترتیبِ بیان ہی کو ترتیبِ عمل بھی بنا لو، تاکہ ایک ترتیب کا یاد رکھنا دوسری ترتیب کے لیے کافی ہو جائے، دو ترتیب الگ الگ یاد رکھنی نہ پڑے۔ حج کو مقامِ اعلان بنانے میں بھی یہی فطری حکمت ہے۔ حج کی عبادت کو ادا کرنے کے لیے تمام دنیا کے مسلمان ہر سال ایک جگہ جمع ہوتے ہیں، اور ہمیشہ جمع ہوتے رہیں گے۔ اس لیے اللہ نے اسی کو اجتماعی اعلان کا مقام بنا دیا، تاکہ ایک ہی اجتماع دونوں مقصد کے حصول کے لیے کافی ہو جائے۔

حج کے موقع پر اجتماعی اعلان کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ اس طرح اس کو ایک مقدس حیثیت حاصل ہو جاتی ہے۔ حج کا مقام مسلمانوں کا انتہائی مقدس مقام ہے، اس لیے جو اعلان حج کے مقام پر کیا جائے وہ بھی اپنے آپ لوگوں کی نظر میں مقدس اور محترم بن جائے گا۔ حقیقتِ حج: مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 89۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.