Maulana Wahiduddin Khan
7 min left
0:00

← Haqeeqat-e-Hajj
Haqeeqat-e-Hajj

Umumi ealaan

Urdu · 7 min

عمومی اعلان: حج اجتماعی امور کے اعلان کا فطری مقام ہے، چنانچہ اسلام کے اہم ترین امور کا اعلان حج کے موقع پر کیا گیا۔ اس کی ایک مثال اعلانِ برات ہے، جو سورۃ توبہ کے اترنے کے بعد کیا گیا۔ مکہ رمضان سن 8 ہجری میں فتح ہوا، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات میں 3 حج پڑے ہیں۔ ابتدائی 2 حج میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف نہیں لے گئے؛ آپ نے صرف سن 10 ہجری میں حج ادا فرمایا، جو عام طور پر حجۃ الوداع کہا جاتا ہے۔

اس کے بعد آپ کی وفات ہو گئی۔ سن 9 ہجری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر صدیق کو امیر الحجاج مقرر فرمایا، اور ان کے ساتھ دوسرے صحابہ حج کے ارادے سے مکہ روانہ ہوئے۔ حضرت ابوبکر کی روانگی کے بعد سورۃ توبہ کا ابتدائی حصہ نازل ہوا، جس میں یہ حکم تھا کہ اس بات کا اعلان کر دو کہ اللہ اور رسول مشرکین سے بری ہیں۔ اور اب آخری فیصلے کے لیے انہیں صرف 4 مہینے کی مہلت دی جاتی ہے۔

اس سلسلے میں روایات میں آتا ہے: «لَمَّا نَزَلَتْ بَرَاءٌ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ كَانَ بَعْثَ أَبَى بَكْرٍ لِّيُقِيمَ الْحَجَّ لِلنَّاسِ» فقیل یا رسول اللہ «لَوْ بَعَثْتَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ فَقَالَ لَا يُؤَدِّي عَنِّي إِلَّا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي» ثم دعا علی فقال: «اِذْهَبْ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ مِنْ سُورَتِي بَرَاءً وَأَذِّنْ فِي النَّاسِ يَوْمَ النَّحْرِ إِذَا اجْتَمَعُوا بِمِنَاءٍ» «أَنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ كَافِرٌ وَلَا يَحُجُّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِكٌ وَلَا يَطُوفُ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ» تفسیر ابن کثیر، الجزء الثانی، صفحہ 334۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر برات اتری، اور آپ حضرت ابوبکر کو بھیج چکے تھے کہ وہ لوگوں کو حج ادا کرائیں، اس وقت کہا گیا کہ اے خدا کے رسول، آپ اس کو ابوبکر کے پاس بھیج دیں۔ آپ نے فرمایا کہ میری طرف سے صرف میرے گھر کا کوئی آدمی اس کو انجام دے سکتا ہے۔ پھر آپ نے حضرت علی کو بلایا اور کہا کہ سورۃ برات کے اس معاملے کو لے کر جاؤ، اور یوم النحر کو جب لوگ منی میں جمع ہوں تو ان کے درمیان اعلان کر دو کہ کافر جنت میں نہیں جائے گا، اور اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہیں کرے گا، اور کوئی شخص عریاں ہو کر کعبے کا طواف نہیں کرنے پائے گا۔

حضرت علی کہتے ہیں کہ میں مکہ گیا اور مجمع عام میں گھوم گھوم کر باآواز بلند اس کا اعلان کرتا رہا، یہاں تک کہ میری آواز بیٹھ گئی۔ قَالَ فَكُنْتُ أُنَادِي حَتَّى صَحِلَ صَوْتِي مشرکین عرب سے برات کا حکم مدینے میں اترا، مگر اس کا اعلان مکے میں موسم حج میں کیا گیا۔ یہ واضح طور پر اس کا ثبوت ہے کہ اسلام کے تمام اہم فیصلوں کے اعلان کا اصل مقام مکہ اور زمان حج ہے۔ حج تمام دنیا کے مسلمانوں کا اجتماعی مرکز ہے، یہیں ان کو جمع ہونا ہے، یہیں انہیں اپنے بڑے بڑے فیصلوں کا اعلان کرنا ہے، اور یہیں سے وہ عالمی منصوبہ بندی کرنی ہے جو خدا اور رسول کے حکم کے مطابق ان کے لیے ضروری ہو۔

اس سلسلے میں دوسری نمایاں مثال حجۃ الوداع کے خطبے کی ہے۔ یہ آپ کا اہم ترین خطاب ہے۔ آپ اپنی وفات سے پہلے آخری طور پر لوگوں کو بتا دینا چاہتے تھے کہ دین کے بنیادی تقاضے کیا ہیں، مگر ان کا اعلان آپ نے کہیں اور نہیں کیا، بلکہ اس کو مؤخر کرتے ہوئے کرتے رہے، یہاں تک کہ سن 10 ہجری میں حج کے موقع پر ان کا اعلان فرمایا۔ چنانچہ خطبے کے شروع میں یہ الفاظ آئے ہیں: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ اسْمَعُوا قَوْلِي فَإِنِّي لَا أَدْرِي لَعَلِّي لَا أَلْقَاكُمْ بَعْدَ عَامٍ هَذَا بِهَذَا الْمَوْقِفِ أَبَدًا» سیرت ابن ہشام، الجزء الرابع، صفحہ 275۔

اے لوگو! میری بات سنو، کیونکہ میں نہیں جانتا کہ شاید میں اس سال کے بعد تم سے اس مقام پر کبھی نہ ملوں۔ اس کے بعد آپ نے تمام بنیادی باتیں لوگوں کو بتائیں، اور آخر میں فرمایا: «أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ؟ » یعنی کیا میں نے پہنچا دیا؟

کیا میں نے پہنچا دیا؟ لوگوں نے گواہی دی کہ ہاں، آپ نے پہنچا دیا۔ فتح مکہ سن 8 ہجری کے بعد پورا عرب آپ کے لیے مسخر ہو چکا تھا۔ آپ عرب کے کسی بھی مقام پر پہنچ کر یہ اعلان کر سکتے تھے۔

اس وقت مدینہ اسلام کا سیاسی مرکز تھا۔ آپ یہ بھی کر سکتے تھے کہ لوگوں کو مدینے میں بلائیں اور وہاں لوگوں کے سامنے ان باتوں کا اعلان کریں، اور لوگوں کے سامنے ان باتوں کا اعلان کریں جن کا اعلان آپ نے خطبہ حجۃ الوداع میں فرمایا، مگر آپ نے ان میں سے کوئی طریقہ اختیار نہیں فرمایا، بلکہ حج کا انتظار کیا اور حج کے موقع پر مکہ پہنچ کر ان کا اعلان کیا۔ آپ کی یہ سنت اس کا واضح ثبوت ہے کہ حج اسلام کی تمام اہم باتوں کا مقام اعلان ہے۔ حقیقت حج، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 87۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.