توحید کا عالمی مرکز قرآن کی ان آیتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم کے ذریعے حجاز میں کعبے کی تعمیر خاص طور پر اس لیے کی گئی تھی کہ وہ اہلِ توحید کا مرکز بنے، قریب کے لوگ بھی آئیں اور دور کے لوگ بھی سواریوں کے ذریعے وہاں پہنچیں۔ کعبے کے گرد ایسے تاریخی اسباب پیدا کیے گئے کہ لوگوں کے دل اس کی طرف کھینچیں۔ کعبے کے گرد ایسے تاریخی اسباب پیدا کیے گئے کہ لوگوں کے دل اس کی طرف کھینچیں، اور ہر طرف سے لوگ امڈ کر وہاں پہنچیں۔ بیت اللہ قیامت تک کے لیے خدا کا مقرر کیا ہوا عالمی اسلامی مرکز ہے، وہ تمام دنیا کے مسلمانوں کا بین الاقوامی اجتماع گاہ ہے۔
چنانچہ روایات میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کو حکم دیا کہ لوگوں سے پکار کر کہو کہ وہ سفر کر کے اس گھر کے حج کے لیے آئیں۔ قَالَ يَا رَبِّ كَيْفَ أُبَلِّغُ النَّاسَ وَسَوْتِي لَا يَنْفِذُهُمْ فَقَالَ نَادِي وَعَلَيْنَا الْبَلَاغُ فَقَامَ عَلَى الْحَجَرِ وَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ رَبَّكُمْ قَدِ اتَّخَذَ بَيْتًا فَحُجُّوهُ فَيُقَالُ أَنَّ الْجِبَالَ تَوَاضَعَتْ حَتَّى بَلَغَ الصَّوْتَ حَتَّى بَلَغَ الصَّوْتُ إِرْجَاءَ الْأَرْضِ وَسَمِعَ مَن فِي الْأَرْحَامِ وَالْأَسْلَابِ وَأَجَابَهُ كُلُّ شَيْءٍ سَمِعَهُ مِنْ حَجَرٍ وَمَدَرٍ وَشَجَرٍ وَمَن كَتَبَ اللَّهُ أَنَّهُ يَحُجُّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ تفسیر ابن کثیر، الجزء الثالث، صفحہ 216۔ حضرت ابراہیم نے کہا کہ اے میرے رب، کیسے میں لوگوں کو پکاروں اور میری آواز ان تک نہیں پہنچے گی؟ اللہ نے کہا، تم پکارو اور ہمارے اوپر ہے پہنچانا۔
پس حضرت ابراہیم پتھر پر کھڑے ہوئے اور کہا کہ اے لوگو! تمہارے رب نے ایک گھر مقرر کیا ہے، تم اس کا حج کرو۔ پس کہا جاتا ہے کہ پہاڑ جھک گئے، یہاں تک کہ آواز زمین کے کناروں تک پہنچ گئی، اور انہوں نے بھی سن لیا جو رحم میں تھے۔ اور پتھر اور خیمہ اور درخت اور جس پر قیامت تک اللہ نے لکھ دیا تھا کہ وہ حج کرے گا، سب نے سنا اور یہ کہا: ہم حاضر ہیں، خدایا ہم حاضر ہیں۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ حضرت ابراہیم نے جس وقت پکارا، عین اسی وقت حال اور مستقبل کے تمام لوگوں نے آپ کی آواز کو سن لیا۔ حضرت ابراہیم کی پکار علامتی پکار تھی، بے شک تمام لوگوں نے اس کو سنا، مگر یہ سننا اس وقت بالقوت طور پر تھا، نہ کہ بالفعل طور پر۔ حضرت ابراہیم کی پکار دراصل ایک مسلسل واقعے کا آغاز تھا۔ آپ نے اپنے وقت میں پکارا، آپ کے بعد دوسرے لوگوں نے آپ کی آواز کو لے کر اسے دوسروں کو سنایا۔
پھر اسی طرح لوگ نسل در نسل پکارتے رہے۔ پریس اور ریڈیو کا دور آیا تو پریس اور ریڈیو کے ذریعے یہ پکار مزید تیزی کے ساتھ پھیلنا شروع ہوئی۔ وہ پہاڑوں اور سمندروں کو پار کر کے دور دور تک پہنچ گئی، یہاں تک کہ اس کا اندیشہ ختم ہو گیا کہ کوئی شخص بھی اس پیغمبرانہ پکار کو سننے سے خالی رہ جائے۔ حقیقت حج، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 85۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.