حج اور اتحاد: حج کا ایک پہلو اسلامی اتحاد ہے۔ حج کے موقع پر تمام دنیا کے مسلمان ایک مقام پر اکٹھا ہوتے ہیں اور ایک ساتھ حج کے مراسم ادا کرتے ہیں۔ حج مسلمانوں کا عالمی دینی اجتماع ہے۔ اس سلسلے میں قرآن کی چند آیتوں پر غور کیجیے۔
وَإِذْ جَعَلْنَا الْبَيْتَ مَثَابَةً لِّلنَّاسِ وَأَمْنًا البقرہ 125۔ اور جب ہم نے بیت اللہ کو لوگوں کے اجتماع کی جگہ اور امن کا مقام بنا دیا۔ إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا وَهُدًى لِّلْعَالَمِينَ آلِ عمران 96۔ بے شک پہلا گھر جو لوگوں کے لیے بنایا گیا، وہ وہی ہے جو مکے میں ہے، برکت والا اور سارے جہاں کے لیے ہدایت کا مرکز۔
جَعَلَ اللَّهُ الْكَعْبَةَ الْبَيْتَ الْحَرَامَ قِيَامًا لِّلنَّاسِ المائدہ 97۔ اللہ نے کعبہ، حرمت والے گھر کو لوگوں کے لیے قیام کا باعث بنایا۔ فَاجْعَلْ أَفْئِدَةً مِنَ النَّاسِ تَهْوِي إِلَيْهِمْ ابراہیم 37۔ پس اے اللہ، تو لوگوں کے دل ان کی طرف مائل کر دے۔
وَأَدِّمْ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ يَأْتُوكَ رِجَالًا وَعَلَىٰ كُلِّ ضَامِرِينَ يَأْتِينَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ الحج 27۔ اور تم لوگوں میں حج کے لیے پکار دو کہ وہ تمہاری طرف آئیں، پیدل چل کر، اور سوار ہو کر۔ وہ دبلے اونٹوں پر چلے آئیں، دور کی راہوں سے۔ حقیقتِ حج، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 85۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.