Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Haqeeqat-e-Hajj
Haqeeqat-e-Hajj

Tajdeed-e-Deen

Urdu · 3 min

تجدیدِ ایمان: حج ایک قسم کا تجدیدِ ایمان ہے۔ حج سے پہلے کا ایمان گویا ایک موقت ایمان ہے۔ اس کے بعد مومن جب مکہ پہنچتا ہے اور لبیک لبیک کہہ کر بیت اللہ کا طواف کرتا ہے، تو گویا وہ اپنے ایمان کی تجدید کرتا ہے، وہ براہِ راست خدا سے بیعت ہوتا ہے۔ حج کے بعد گناہوں کی معافی عین اس قانون کے تحت ہے جو قبولیتِ اسلام سے متعلق ہے۔

اسلام قبول کرنے کے بعد آدمی کے پچھلے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ بندے کے ساتھ یہ معاملہ ایمانِ اول کے بعد شروع ہو جاتا ہے، اور ایمانِ ثانی کے بعد گویا اس کی تکمیل ہوتی ہے۔ ایمانِ اول اگر بالواسطہ ایمان تھا تو ایمانِ ثانی براہِ راست ایمان ہے۔ معذوری کی حالت میں ایمانِ اول ہی خدا کی رحمت سے آدمی کے گناہوں کی معافی کے لیے کافی ہو جاتا ہے۔

مگر صاحبِ استطاعت کے لیے ایمانِ ثانی کے بعد اس کی تکمیل ہوتی ہے۔ شاید اسی لیے حدیث میں آیا ہے کہ جو شخص استطاعت رکھتا ہو اور پھر بھی حج ادا کیے بغیر مر جائے، تو خدا کو اس کی پرواہ نہیں کہ وہ یہودی ہو کر مرا یا نصرانی ہو کر مرا۔ مَنْ مَلَكَ زَادًا وَرَاحِلَةً تَبْلُغُهُ حَجَّ بَيْتِ اللَّهِ الْحَرَامِ وَلَمْ يَحُجَّ فَلَا عَلَيْهِ أَنْ يَمُوتَ يَهُودِيًّا أو نَصْرَانِيًّا. رواہ الترمذی والبیہقی۔

اسلام کا خلاصہ اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کرنا ہے۔ حج میں یہ حوالہگی پوری طرح عمل میں آتی ہے۔ عرفات کے میدان میں جب تمام حاجی "حاضر ہوں، خدایا میں حاضر ہوں" کہتے ہوئے جمع ہوتے ہیں، تو یہ اسی بات کا ایک اجتماعی مظاہرہ ہوتا ہے۔ حج گویا خدا کے سامنے حاضری ہے۔

قیامت میں ہر شخص گرفتار کر کے خدا کے یہاں حاضر کیا جائے گا۔ حج کے موقع پر عرفات کے میدان میں پہنچنا گویا خود اپنی مرضی سے خدا کے یہاں حاضر ہو جانا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حج تمام عبادتوں کا سردار ہے۔ کعبے کا جو درجہ دوسری مسجدوں کے درمیان ہے، وہی درجہ حج کا دوسری عبادتوں کے درمیان ہے۔

حقیقتِ حج، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 83۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.