Maulana Wahiduddin Khan
8 min left
0:00

← Haqeeqat-e-Hajj
Haqeeqat-e-Hajj

Chand Taassuraat

Urdu · 8 min

چند تا سورات۔ مذکورہ سفرنامے میں حج کے حالات بیان کرتے ہوئے لکھا گیا ہے: "4 اکتوبر 1982 کی شام کو ہم نے طوافِ وداع کیا، اور رات کو مکے سے مدینے کے لیے روانہ ہوئے۔ کعبے کا آخری طواف کر کے جب میں حرم سے نکلا تو میری عجیب کیفیت تھی؛ بار بار مڑ کر حرم کو دیکھتا تھا، قدم آگے کی طرف بڑھ رہے تھے اور دل پیچھے کی طرف کھنچا چلا جا رہا تھا۔ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے میں اپنے وطنِ اصلی سے نکل کر وطنِ غیر کی طرف جا رہا ہوں۔

اس طرح کی کیفیات کے ساتھ ہم مسجدِ حرام سے رخصت ہو کر 4 اکتوبر کی شب کو مکے سے مدینے کے لیے روانہ ہوئے۔ حرمِ مدینے میں داخلہ بڑا اثر انگیز تھا؛ اسلام اور پیغمبرِ اسلام کی ایک پوری تاریخ آنکھوں کے سامنے گھوم گئی۔ میری زبان سے یہ دعا نکلی کہ خدایا، میں تیرے رسول پر صلاۃ و سلام بھیجتا ہوں، میں تیرے رسول پر صلوات و سلام بھیجتا ہوں۔ مجھ کو اپنے رسول کی امت میں شامل کر لے، مجھ کو ان لوگوں میں لکھ لے جن کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کے دن شفاعت فرمائیں گے، اور جن کی شفاعت کو قبول کر کے آپ انہیں جہنم سے بچا لیں گے اور جنت میں داخل کریں گے۔

کیسا عجیب ہے وہ دن جو آ چکا، اور کیسا عجیب ہے وہ دن جو آنے والا ہے۔ مدینے میں ہمارا قیام مسجدِ نبوی کے بالکل قریب ایک ہوٹل میں تھا؛ اذان اور تکبیر تک کی آواز ہمارے کمرے میں پہنچتی تھی۔ کئی دن تک مسجدِ نبوی میں نماز پڑھنے کی توفیق نصیب ہوئی، مگر یہاں نمازیوں کا ہجوم اس قدر ہوتا ہے کہ بمشکل کسی کو سکون اور توجہ کے ساتھ نماز پڑھنے کا موقع ملتا ہے۔ مکے کے قیام کے ابتدائی دنوں میں میرے ساتھ یہی صورت پیش آئی تھی۔

اس کے بعد میں مسجدِ حرام کی اوپر کی منزل پر نماز پڑھنے لگا۔ وہاں مجھے کافی سکون رہتا تھا۔ مسجدِ نبوی کو معلوم نہیں کس مصلحت کی بنا پر دو منزلہ نہیں بنایا گیا کہ میرے جیسا کوئی آدمی وہاں پناہ لے سکے۔ مسجدِ نبوی غیر معمولی طور پر وسیع اور شاندار ہے، مگر زائرین کی بڑھتی ہوئی تعداد نے تمام وسعتوں کے باوجود اس کو ناکافی بنا دیا ہے۔

تاہم میرے جیسے آدمی کے لیے یہ منظر کوئی خوشگوار منظر نہ تھا کہ مسجدِ نبوی کے اطراف کو دکانوں اور ہوٹلوں نے گھیر رکھا ہے؛ صرف ایک طرف کا حصہ دکانوں اور ہوٹلوں سے خالی ہے، جس کے اوپر خیمہ نما تعمیرات نمازیوں کے لیے کھڑی ہوئی ہیں۔ کاش مسجد کے چاروں طرف کھلا ہوا میدان ہوتا تو مسجد کی عظمت زیادہ نمایاں ہوتی۔ تقریباً یہی صورتحال حرمِ مکہ کی بھی ہے۔ 30 ستمبر 1982 کو حج کے مناسک کی تکمیل ہوئی، اور ہم دوبارہ مکہ واپس آئے۔

مطابق دارالثقافہ، یعنی مکے کی طرف سے ہر سال حاجیوں کے اعداد و شمار شائع کیے جاتے ہیں۔ اس کے اعلان کے مطابق اس سال، یعنی 1402 ہجری، سعودی عرب کو چھوڑ کر دوسرے تمام ممالک سے آنے والے حاجیوں کی کل تعداد 853,555 تھی۔ زیادہ تعداد والے چند ملکوں کے نام یہ ہیں: نمبر 1، مصر: 98,408؛ نمبر 2، ایران: 89,503؛ نمبر 3، نائجیریا: 81,128؛ نمبر 4، پاکستان: 72,894؛ نمبر 5، انڈونیشیا: 57,478؛ نمبر 6، ترکی: 53,788؛ نمبر 7، الجزائر: 40,400؛ نمبر 8، شام: 27,890؛ نمبر 9، ہندوستان: 26,229۔ سعودی حکومت نے بے شمار اعلیٰ انتظامات کیے ہیں۔

ان انتظامات نے موجودہ زمانے میں حج کو بہت آسان بنا دیا ہے۔ تاہم ایک چیز ایسی ہے جس کا اس کے پاس شاید کوئی حل نہیں، اور وہ حاجیوں کا ہجوم ہے۔ خاص طور پر شیطان کو پتھر مارنے کے موقع پر لوگ جس طرح ایک دوسرے کے اوپر ٹوٹتے ہیں، وہ انتہائی حد تک افسوسناک ہے۔ بے شمار انسان بیک وقت شیطان کو مارنے کے لیے اس طرح ہجوم کرتے ہیں کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ علامتی شیطان کو کنکری مارنے کا انہیں اتنا جوش ہے کہ اس کی خاطر وہ حقیقی انسان کو کچل دینا چاہتے ہیں۔

خدا کے ایک حکم کی تعمیل کے شوق میں خدا کے دوسرے حکم کو نظرانداز کرنے کی اس سے زیادہ بری مثال اب تک میں نے اپنی نگاہوں سے نہیں دیکھی تھی۔ کئی آدمی ایسے نظر پڑے جن کے ہاتھ یا پاؤں میں پلاسٹر بندھا ہوا تھا۔ ایک منفرد منظر یہ بھی دیکھنے کو ملا کہ رمی کے وقت ایک حاجی گر پڑا اور حاجیوں کے قدموں کے نیچے کچل کر ختم ہو گیا۔ لوگوں نے بتایا کہ اس طرح کے واقعات ہر سال ہوتے رہتے ہیں۔

کیسا عجیب ہے وہ حج، جس میں انسان دشمن کی ایک علامت کو مارنے کے جوش میں خود انسان کو مار ڈالا جائے۔ حقیقتِ حج، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 81۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.