Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Haqeeqat-e-Hajj
Haqeeqat-e-Hajj

Faiz baqadr-e-Istedaad

Urdu · 3 min

فیض بقدرِ استعداد۔ کعبہ زمین پر خدا کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تاریخی طور پر یہاں ایسے اسباب فراہم کیے ہیں کہ جو شخص وہاں جائے وہ متاثر ہوئے بغیر نہ رہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں بھٹکی ہوئی انسانی روحوں کو خدا کا آغوش دیا جاتا ہے۔

وہاں پتھرائے ہوئے سینوں میں عبدیت کے چشمے جاری کیے جاتے ہیں۔ وہاں بے نور آنکھوں کو خدا کی تجلیات دکھائی جاتی ہیں۔ تاہم اس دنیا میں فیض بقدرِ استعداد کا اصول رائج ہے۔ بیت اللہ کا فیض صرف اس کو ملتا ہے جو اس کی استعداد لے کر وہاں جائے۔

بے استعداد لوگوں کے لیے حج کا سفر بس ایک قسم کی سیاحت ہے۔ وہ وہاں جاتے ہیں تاکہ جیسے گئے تھے ویسے ہی دوبارہ واپس چلے آئیں۔ مذکورہ سفرنامہ حج 1982 میں حسبِ ذیل سطریں درج ہیں: "وہاں میں نے جو خدائی مناظر دیکھے، جس طرح وہ ناقابلِ بیان ہیں، اسی طرح وہ انسانی مناظر بھی ناقابلِ بیان ہیں جو وہاں مجھ کو دیکھنے کو ملے۔ میں نے دیکھا کہ لوگ یا تو دنیا کی باتیں کرنے میں مشغول ہیں یا دنیا کا سامان خریدنے میں۔

کچھ لوگ دوسروں کو دھکا دے کر اپنی پرجوش مذہبیت کا اظہار کر رہے تھے، حالانکہ اس قسم کی چیزیں مقاماتِ حج میں جائز نہیں۔ جہاں ہر طرف خدا کے جلوے بکھرے ہوئے تھے تاکہ آدمی ان میں محو ہو جائے، وہاں لوگ انسانی جلووں میں گم تھے۔ جہاں خدا کے فرشتے اترے ہوئے تھے تاکہ لوگ ان سے باتیں کریں، وہاں لوگ انسانوں سے باتیں کرنے میں مشغول تھے۔ جہاں ہر طرف آخرت کا سامان بک رہا تھا، وہاں لوگوں کو دنیا کا سامان خریدنے کے سوا کسی اور چیز سے دلچسپی نہ تھی۔

جس جگہ کا یہ حق تھا کہ خدا کا ڈر انہیں پیچھے کر دے، وہاں لوگ دوسروں کو دھکا دے کر آگے بڑھ جانے کی مہارت دکھا رہے تھے۔ حقیقتِ حج، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 80۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.