Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Haqeeqat-e-Hajj
Haqeeqat-e-Hajj

Ghair mamuli Safar

Urdu · 4 min

غیر معمولی سفر: حج کے مذکورہ سفرنامہ 1982 میں تاثرات بیان کرتے ہوئے لکھا گیا ہے۔ 1982 میں میں بعض ملکوں کے سفر پر نکلا۔ اس سفر میں حج کا پروگرام شامل نہ تھا، حتیٰ کہ میرے ذہن میں اس کا تصور بھی نہ تھا کہ میں حجاز پہنچ کر حج کا فریضہ ادا کروں۔ افریقہ پہنچا تو وہاں ایک بزرگ دوست مل گئے، اور ان کے ساتھ اچانک سفرِ حج کے اسباب پیدا ہو گئے۔

اس معاملے میں میرے ساتھ بالکل وہ صورتحال پیش آئی جو کسی شاعر نے اپنے اس شعر میں بیان کی ہے: "خدا کی دین کا موسیٰ سے پوچھیے احوال، کہ آگ لینے کو جائیں، پیمبری مل جائے۔ " یہ میری محرومی تھی کہ میں نے ابھی تک حج کا پروگرام نہیں بنایا تھا۔ وطن سے میں ایک اور سفر کے لیے نکلا، مگر اللہ نے عجیب و غریب طور پر ایشیا اور یورپ اور افریقہ کا سفر کراتے ہوئے مجھ کو عرضِ حرم میں پہنچا دیا، تاکہ میں حج کی سعادت حاصل کر سکوں۔ حج کرنے والا اگرچہ میں تھا، مگر حج کرانے والا صرف خدا تھا؛ اس میں کسی اور کا کوئی دخل نہ تھا۔

آخر کار جب میں حرم میں پہنچا اور کعبے پر نظر پڑی تو یہ ایک ایسا منظر تھا جس کو لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ کعبے کو دیکھنا اور کعبے کے پڑوس میں اپنے آپ کو پانا اتنا پرکیف ربانی تجربہ ہے جس کے اظہار سے میرا قلم عاجز ہے۔ اس غیر متوقع نعمت کو پا کر دل کی عجیب کیفیت ہوئی، بے اختیار میری زبان سے نکلا: "خدایا، میں نے ابھی تک اپنی زندگی میں حج کا پروگرام نہیں بنایا تھا، گویا کہ میں حج کیے بغیر مر جانے پر راضی تھا۔ یہ تیرا کیسا عجیب احسان ہے کہ تو نے مجھ کو اس ناقابلِ بیان محرومی سے بچا لیا۔

" یہ بظاہر ایک حاجی کے وہ تاثرات ہیں جو مخصوص حالات میں اس پر طاری ہوئے، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہی تاثر ہر حاجی پر طاری ہونا چاہیے۔ ہر حاجی پر یہ کیفیات طاری ہونی چاہییں کہ وہ اپنے حج کو خدا کی طرف سے کرایا جانے والا حج سمجھے۔ وہ جب عرضِ حرم میں پہنچے تو وہ محسوس کرے کہ یہ دراصل خدا ہے جس نے اس کو اس نوبت تک پہنچایا ہے۔ وہ ایک عام مسافر کی حیثیت سے اپنے وطن سے نکلا، مگر جب وہ منزل پر پہنچا تو وہ خدا کا مہمان تھا۔

اس نے صرف ایک زمینی راستہ طے کیا تھا، مگر اللہ نے اس کو ایک ایسے ماحول میں پہنچا دیا جہاں ہر طرف آسمانی برکتیں بکھری ہوئی ہیں۔ اس کے پاس صرف محرومی کا اثاثہ تھا، مگر اللہ نے اپنی رحمتِ خاص سے اس کے کھونے کو پانا بنا دیا۔ حقیقتِ حج: مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 79۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.