مصیبت میں راحت۔ حج کے موقع پر بیک وقت ساری دنیا کے لوگ جمع ہوتے ہیں۔ اس بنا پر حج میں بار بار ایک کو دوسرے سے تکلیف پہنچتی ہے۔ بار بار ایسے مواقع سامنے آتے ہیں جو آدمی کی طبیعت پر بے حد شاخ معلوم ہوتے ہیں۔
ایسے مواقع پر آدمی اگر اپنے آپ کو اللہ کی طرف متوجہ کر لے تو اس کا حال بالکل دوسرا ہو جائے گا۔ اس کے بعد تلخ تجربہ بھی شیری تجربہ بن جائے گا۔ اس کے بعد وہی چیز اس کے لیے رزقِ ربانی کا سبب بن جائے گی، جو عام حالات میں صرف رزقِ نفسانی کا ذریعہ بنتی ہے۔ مثلاً آپ مسجدِ حرام میں نماز کے لیے کھڑے ہیں کہ انسانوں کا ہجوم اندر داخل ہوا اور کشادہ جگہ نہ ہونے کی وجہ سے عین آپ کے سامنے صف باندھ کر کھڑا ہو گیا۔
آپ کے سامنے اتنی جگہ باقی نہ رہی کہ آپ درست طور پر رکوع کریں یا درست طور پر سجدہ کریں۔ ایسے موقع پر اگر آپ صرف سامنے کے انسانوں کو دیکھیں تو آپ کے اندر غصہ اور نفرت پیدا ہوگی۔ اس کے برعکس اگر آپ خود اپنا احتساب کرنے لگیں تو آپ کا حال بالکل دوسرا ہو جائے گا۔ آپ کہہ اٹھیں گے کہ خدایا تو میری اس ٹوٹی ہوئی— آپ کہہ اٹھیں گے کہ خدایا تو میری اس ٹوٹی پھوٹی نماز کو قبول کر لے، کیونکہ میری بظاہر صحیح نماز بھی حقیقتاً اتنی ہی ٹوٹی پھوٹی نماز ہے جتنی کہ میری یہ نماز۔
جو شخص اپنے ذہن کو اس طرح موڑے، اس کا حال بالکل دوسرا ہو جائے گا۔ جس واقعے سے اکثر لوگ صرف انسان بیزاری کی غذا لیتے ہیں، اس واقعے سے اس کو خدا کی قربت کا رزق ملنے لگا۔ اسی طرح حج کے سفر میں طرح طرح کے ناخوشگوار تجربات پیش آتے ہیں۔ رمی اور دوسرے مواقع پر انسانوں کی بھیڑ، منیٰ اور عرفات میں گرمی کی شدت، پانی لینے کے لیے ایک کا دوسرے پر ٹوٹنا وغیرہ۔
اس قسم کی جو مختلف صورتیں حج کے سفر میں پیش آتی ہیں، ان میں اگر آپ صرف سامنے کے واقعے کو دیکھیں تو آپ کے اندر غصہ اور جھنجھلاہٹ کا جذبہ بھڑکے گا۔ اس کے برعکس اگر آپ اس وقت یہ سوچنے لگیں کہ جب دنیا کی چھوٹی مصیبت کا یہ حال ہے تو آخرت کی بڑی مصیبت کا کیا حال ہوگا، تو اچانک آپ یہ محسوس کریں گے کہ جو چیز بظاہر مصیبت نظر آ رہی تھی، وہ عین راحت بن گئی۔ اس نے خدا کی رحمت بن کر آپ کے اوپر سایہ کر لیا۔ حقیقتِ حج، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 78۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.