← Haqeeqat-e-HajjHaqeeqat-e-Hajj
Mulaqaat-e-Khudawandi
Urdu · 7 min
ملاقاتِ خداوندی حج کے بہت سے پہلو ہیں، مگر اس کا خاص پہلو یہ ہے کہ حج حق تعالیٰ سے ملاقات ہے۔ آدمی جب سفر کر کے مقاماتِ حج تک پہنچتا ہے تو اس پر خاص طرح کی کیفیات طاری ہوتی ہیں؛ اس کو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنی دنیا سے نکل کر خدا کی دنیا میں پہنچ گیا ہے۔ وہ اپنے رب کو چھو رہا ہے، وہ اس کے گرد گھوم رہا ہے، وہ اس کی طرف دوڑ رہا ہے، وہ اس کی خاطر ادھر سے ادھر جا رہا ہے۔ وہ اس کے حضور قربانی پیش کر رہا ہے، وہ اس کے دشمن کو کنکریاں مار رہا ہے، وہ اس سے مانگ رہا ہے جو کچھ وہ اس سے مانگنا چاہتا ہے۔
وہ اس سے پا رہا ہے جو کچھ وہ اس سے پانا چاہتا ہے۔ عرفات کا میدان اس سلسلے میں بڑا عجیب منظر پیش کرتا ہے: خدا کے بندے قافلہ در قافلہ چاروں طرف سے چلے آ رہے ہیں، سب کے جسم پر ایک ہی سادہ لباس ہے، ہر ایک اپنی امتیازی صفت کو کھو چکا ہے۔ سب کی زبان پر ایک ہی کلام جاری ہے: لبیک اللہم لبیک، لبیک اللہم لبیک۔ یعنی: حاضر ہوں خدایا، میں حاضر ہوں۔
حاضر ہوں خدایا، میں حاضر ہوں۔ یہ منظر دیکھ کر قرآن کی وہ آیت یاد آنے لگتی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ جب سور پھونکا جائے گا تو اچانک تمام لوگ قبروں سے نکل کر اپنے رب کی طرف دوڑ پڑیں گے۔ وَنُفِخَ فِي السُّورِ فَإِذَاهُمْ مِنَ الْأَجْدَى فِي إِلَى رَبِّهِمْ يَنْصِلُونَ حقیقت یہ ہے کہ عرفات کا اجتماع حشر کے اجتماع کی پیشگی خبر ہے۔ یہ آج کی دنیا میں آئندہ آنے والی دنیا کی تصویر دکھانا ہے۔
حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ الحج عرفہ، عرفات کے میدان میں قیام ہی حج ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حج کا اہم ترین مقصد کیا ہے: وہ یہ ہے کہ آدمی میدانِ حشر میں خدا کے سامنے اپنی حاضری کو یاد کرے، جو کچھ کل عملاً بیتنے والا ہے، اس کو آج ہی ذہنی طور پر اپنے اوپر طاری کر لے۔ کعبہ خدائے واحد کا گھر ہے، اس کو دو جلیل القدر پیغمبروں یعنی حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل نے مل کر بنایا۔ ان پیغمبروں کی اعلیٰ زندگی اور خدا کے لیے ان کی قربانی کے حیرت انگیز واقعات اس گھر سے وابستہ ہیں۔
پھر پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے پاک اصحاب کی زندگیاں، اور ان کی خدا پرستانہ سرگرمیاں، اس کی فضاؤں میں بسی ہوئی ہیں۔ خدا پرستی اور خدا کے لیے قربانی کی اس بے مثال تاریخ کو آدمی کتابوں میں پڑھتا ہے، وہ بچپن سے لے کر سفرِ حج تک اس کو مسلسل سنتا ہے، یہاں تک کہ وہ اس کے حافظے کے خانے کا جز بن جاتی ہے۔ ایسی حالت میں جب وہ سفر کر کے کعبے کے سامنے پہنچتا ہے تو حافظے کی تمام یادیں اچانک اس کے اندر جاگ اٹھتی ہیں۔ وہ اپنے آپ کو ایک تاریخ کے سامنے کھڑا ہوا پاتا ہے: خدا سے خوف اور محبت کی تاریخ، خدا کے لیے قربان ہو جانے کی تاریخ، خدا کو اپنا سب کچھ بنانے کی تاریخ، خدا کو قادرِ مطلق کی حیثیت سے پا لینے کی تاریخ، خدا کی خاطر اپنے آپ کو مٹا دینے کی تاریخ۔
اس قسم کی ایک عظیم ربانی تاریخ آدمی کے سامنے کعبے کی صورت میں مجسم ہو جاتی ہے، وہ حجری حروف میں لکھی ہوئی اس کو نظر آنے لگتی ہے۔ یہ تجربہ اس کے دماغ کو ہلاتا ہے، وہ اس کے سینے کو پگھلا دیتا ہے، وہ اس کو بدل کر نیا انسان بنا دیتا ہے۔ راقم الحروف نے اپنے حج 1982 کے سفرنامے میں لکھا تھا: "ہماری قیام گاہ حرم سے بہت قریب شارع ابراہیم الخلیل پر تھی، چنانچہ کھانے اور مختصر سونے کے علاوہ میرا بیشتر وقت حرم میں گزرتا تھا۔ " میرا روزانہ کا معمول تھا کہ میں باب الحجرہ کے پاس زمزم کے پانی سے وضو کرتا، اس کے بعد سیر ہو کر زمزم کو پیتا، اور پھر حرم میں داخل ہو جاتا۔
اکثر میں حرم کے اوپر کے حصے میں جاتا تھا، کیونکہ اوپر کے حصے میں نسبتاً بھیڑ کم ہونے کی وجہ سے سکون رہتا تھا۔ وہاں میں نماز پڑھتا، تلاوت کرتا، کعبے کو دیکھتا، اللہ کو یاد کرتا۔ روزانہ گھنٹوں اس طرح گزر جاتے کہ مجھے وقت کا کچھ اندازہ نہ ہوتا، خواہ کتنی ہی زیادہ دیر ہو چکی ہو۔ جب میں حرم سے لوٹتا تو محسوس ہوتا کہ ابھی طبیعت سیر نہیں ہوئی۔
کعبے کے سامنے بیٹھ کر دل کی جو کیفیت ہوتی تھی، اس کو لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ حقیقتِ حج مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 76۔