Maulana Wahiduddin Khan
11 min left
0:00

← Haqeeqat-e-Hajj
Haqeeqat-e-Hajj

Shaaairullah

Urdu · 11 min

شاعر اللہ، یہ ایک حقیقت ہے کہ خدا کا حقیقی مشاہدہ صرف آخرت میں ہوگا، مگر آخرت کے خدائی مشاہدے پر یقین رکھتے ہوئے بھی انسان یہ چاہتا ہے کہ وہ خدا کو پائے۔ وہ کل کے آنے سے پہلے آج کے دن خدا کی قربت حاصل کرے، یہ انسان کی فطرت ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ انسان کی یہ طلب موجودہ دنیا میں کس طرح پوری ہو؟ اس کا جواب شاعر اللہ البقرہ 158 کی سورت میں فراہم کیا گیا ہے: اللہ تعالیٰ نے کچھ چیزوں کو ان کی مخصوص تاریخی اہمیت کی بنا پر اپنا شعیرہ یعنی علامت قرار دیا ہے۔

ان علامتوں یا یادگاروں کے گرد ایسے حالات جمع کیے گئے ہیں کہ ان کو دیکھنا خدا کو دیکھنا بن جائے۔ جس خدا کو انسان براہِ راست نہیں پا سکتا، اس کو وہ بالواسطہ انداز میں پا لے۔ انسان موجودہ دنیا میں اللہ کو نہیں دیکھ سکتا، البتہ وہ شاعر اللہ کو دیکھ سکتا ہے۔ وہ موجودہ دنیا میں اللہ کو اس طرح نہیں پا سکتا کہ وہ اس کو چھوئے اور اس سے محسوس اور اس سے محسوس قربت حاصل کرے۔

البتہ وہ شاعر اللہ کو چھو سکتا ہے اور اس کے ذریعے سے قربتِ خداوندی کا محسوس تجربہ کر سکتا ہے۔ شعیرہ جمع شاعر کے معنی ہیں نشان، علامت، یادگار؛ یعنی وہ چیز جو خود اصل نہ ہو، البتہ وہ کسی نسبت کی بنا پر اصل کی یاد دلائے۔ اس کی ایک مثال صفا اور مروہ پہاڑیاں ہیں، جن کو قرآن میں شاعر کہا گیا ہے۔ إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ البقرہ 158۔

صفا اور مروہ مکے میں بیت اللہ کے قریب دو پہاڑیاں ہیں، جن کے درمیان تقریباً 500 قدم کا فاصلہ ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب اپنی اہلیہ ہاجرہ اور اپنے شیرخوار بچے اسماعیل کو لا کر یہاں بسایا تو یہاں نہ کوئی آبادی تھی اور نہ پانی۔ حضرت ہاجرہ کی مشک کا پانی ختم ہو گیا تو وہ صفا اور مروہ کے درمیان پانی کی تلاش میں سات بار دوڑیں۔ اسی کی یاد میں آج بھی تمام حاجی دونوں پہاڑیوں کے درمیان سات بار سعی کرتے ہیں۔

یہ واقعہ اللہ تعالیٰ کو پسند آیا اور اس نے صفا اور مروہ کو اپنا شعیرہ قرار دے دیا، یعنی خدا پرستی کی مستند یادگار۔ صفا اور مروہ کو دیکھ کر وہ پوری تاریخ یاد آ جاتی ہے، جبکہ اللہ کے ایک بندے نے صرف اللہ کی رضا کی خاطر اپنے سرسبز وطن یعنی عراق کو چھوڑ کر اپنے سرسبز وطن عراق کو چھوڑا اور اپنے بیوی اور بچے کو بے آب و گیاہ علاقے میں لا کر بسا دیا۔ یہ اللہ پر یقین اور اس کے اوپر اعتماد کی ایک کامل مثال ہے۔ اسی طرح کعبہ، حجر اسود، اور حج سے متعلق دوسری چیزیں سب کی سب شاعر اللہ ہیں۔

یہ موحد، یہ موحدِ کامل حضرت ابراہیم خلیل اللہ کی خدا پرستانہ زندگی کی نشانیاں ہیں۔ ان کو دیکھ کر حضرت ابراہیم کی موحدانہ تاریخ یاد آتی ہے۔ ان کو دیکھ کر خدا کی عظمت و جلال کا نقشہ آنکھوں کے سامنے پھر جاتا ہے۔ ان شاعر کے ماحول میں پہنچ کر آدمی اپنے آپ کو خدا کے ماحول میں محسوس کرنے لگتا ہے۔

حجر اسود کو حدیث میں "ید اللہ علی الارض" یعنی زمین پر اللہ کا ہاتھ کہا گیا ہے۔ یہ حقیقی معنوں میں نہیں بلکہ تمثیلی معنوں میں ہے۔ آدمی کے اندر اٹھنے والے ربانی جذبات اپنی محسوس تسکین کے لیے یہ چاہتے تھے کہ وہ اللہ کے ہاتھ کو چھوئیں اور اس کو چھو کر اپنے جذبے کو مطمئن کریں۔ حجر اسود کو چوم کر آدمی اپنے اسی جذبے کی تسکین حاصل کرتا ہے۔

اسی طرح آدمی چاہتا تھا کہ وہ اللہ کو پا کر اس کے گرد گھومے، کعبے کے مقدس گھر کا طواف کر کے وہ اپنے اسی جذبے کو تسکین دیتا ہے۔ آدمی چاہتا تھا کہ وہ اللہ کی رضا کے لیے دوڑے۔ وہ صفا اور مروہ کے درمیان دوڑتا ہے تو اس کو یہی تسکین حاصل ہوتی ہے۔ اسی طرح حج کے تمام مراسم کسی نہ کسی اعتبار سے انسان کے چھپے ہوئے جذبات کی تسکین ہیں۔

وہ اپنے رب سے محسوس تعلق قائم کرنے کا ذریعہ ہیں۔ معبود کی پرستش کا جذبہ فطری طور پر انسان کے اندر چھپا ہوا ہے۔ شرک اور بت پرستی اسی فطری جذبے کا غلط استعمال ہے۔ توحید کا عقیدہ اس فطری جذبے کو صحیح رخ عطا کرتا ہے۔

یہی معاملہ حج کے مراسم کا ہے۔ حج ایک اعتبار سے ایک انسانی غلطی کی اصلاح ہے۔ وہ انسان کی طلب کو غلط رخ پر جانے سے روکتا ہے اور اس کو صحیح رخ پر لگا دیتا ہے۔ حج اسی جذبے کی تسکین کی صحیح صورت ہے۔

حج اسی جذبے کی تسکین کی صحیح صورت ہے جس کو انسان غلط طریقے سے تسکین دینا چاہتا ہے۔ انسان یہ چاہتا ہے کہ وہ خدا کو دیکھے، وہ محسوس طور پر اس کو پا کر اس کے آگے مراسمِ عبودیت ادا کرے۔ انسان نے اپنے اس جذبے کی تسکین کے لیے یہ کیا کہ اس نے غیر مری خدا کی مری تصویر یعنی امیج بنائی اور اس خود ساختہ تصویر کو خدا کی تصویر سمجھ کر اس کو پوجنا شروع کر دیا۔ مگر یہ قرآن کے الفاظ میں الحاد یعنی انحراف ہے۔

انسان اپنے جس فطری جذبے کا جواب خدائی بتوں میں تلاش کر رہا ہے، اس کا جواب زیادہ صحیح طور پر خدائی یادگاروں یعنی شاعر اللہ میں موجود ہے۔ خدا کا بت بنانا ایسا ہی ہے جیسے کسی انسان کا مجسمہ بنانا۔ مجسمہ وہ شخص بناتا ہے جس نے صاحبِ مجسمہ کو یا اس کی تصویر کو دیکھا ہو۔ مگر خدا کے بارے میں کوئی مجسمہ ساز یہ دعویٰ نہیں کر سکتا۔

ایک شخص جب خدا کا بت بناتا ہے تو وہ لامحدود کو محدود کرتا ہے۔ وہ ایک برتر ہستی کو غیر برتر چیزوں میں ڈھالتا ہے۔ اس قسم کا ہر فعل واقعے کے خلاف ہے اور وہ بلاشبہ سرکشی کے ہم معنی ہے۔ حج ایک اعتبار سے اس انسانی ذہن کی اصلاح ہے۔

حج کا پیغام یہ ہے کہ خدا کو مجسمے کی سطح پر اتارنے کی کوشش نہ کرو۔ خدا کو اس کے شاعر کی سطح پر دیکھو۔ موجودہ دنیا میں تم خدا کو اس کی ذات کی سطح پر نہیں پا سکتے۔ البتہ تم اس کو آثارِ ذات کی سطح پر پا سکتے ہو۔

یہ شاعر وہ ہیں جو خدا کے معیاری پرستاروں کے عمل سے قائم ہوئے ہیں۔ یہ تاریخ کے ان لمحات کی مادی یادگاریں ہیں جبکہ خدا اور بندے کے درمیان براہِ راست اتصال قائم ہوا۔ جب بندے نے خدا کو پایا اور خدا نے اپنے کو بندے کے لیے بے نقاب کیا۔ تاریخ کے وہ قیمتی افراد جنہوں نے خدا پرستی کو اس کی اعلیٰ اور معیاری شکل میں اختیار کیا، ان کے آثار ہی کا نام شاعر اللہ یعنی خدا کی یادگاریں ہیں۔

انہی شاعر کے درمیان تمام مراسمِ حج ادا کیے جاتے ہیں۔ ان سے دوری خدا سے دوری ہے اور ان سے وابستگی خدا سے وابستگی۔ حقیقتِ حج مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 73۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.