Maulana Wahiduddin Khan
8 min left
0:00

← Haqeeqat-e-Hajj
Haqeeqat-e-Hajj

Ilmul Insaan ki Shahaadat

Urdu · 8 min

علم الانسان کی شہادت، یہ حقیقت موجودہ زمانے میں انسانیات یعنی anthropology کے ذریعے علمی طور پر ثابت ہو گئی ہے۔ موجودہ زمانے میں علم الانسان کے ماہرین نے انسانی معاشرے کا گہرائی کے ساتھ جائزہ لیا ہے، تاریخ کے ابتدائی دور سے لے کر اب تک کے انسانی معاشروں کا مطالعہ کرنے کے بعد جو حقیقتیں سامنے آئی ہیں، ان میں سے ایک اہم ترین حقیقت یہ ہے کہ ہر قسم کے اتار چڑھاؤ کے باوجود انسان ہمیشہ خدا کا پرستار رہا ہے۔ خدا اور مذہب کا جذبہ انسان کی فطرت میں اس طرح پیوست ہے کہ وہ کسی حال میں اس سے جدا نہیں ہوتا۔ اس سلسلے میں علم الانسان کی تحقیقات کا خلاصہ ہم Encyclopedia Americana کے الفاظ میں نقل کرتے ہیں: "From the earliest days of the world's history, man has been, more or less, a religious creature; almost invariably he has had a god, or several of them, to whom he looked for protection.

At times these gods have been crude, fetishes of what I told would or roughly hewn stone; at times they have assumed the form of animals or reptiles, or have appeared as cruel monsters eager for the life-blood of those who reverenced them. But however they may have come, man has worshiped them because religion, as represented in the worship of a supernatural power, is interwoven with the entire fabric of human nature. " (Encyclopedia Americana, 1961, volume 23, page 354.) دنیا کی تاریخ کے بالکل ابتدائی دنوں سے انسان کم و بیش ایک مذہبی مخلوق رہا ہے۔ تقریباً ہر زمانے میں وہ ایک خدا رکھتا تھا یا کئی خدا، جس کی طرف وہ بچاؤ کے لیے دیکھ سکے۔

کبھی یہ خدا لکڑی کے بنے ہوئے ہوتے تھے، کبھی پتھر کے، کبھی جانوروں اور سانپوں کو خدا سمجھ لیا گیا، وغیرہ۔ مگر ہر حال میں وہ تھے، اور انسان ضروری سمجھتا تھا کہ وہ ان کی پوجا کرے، کیونکہ مذہب ایک مافوق طاقت کی پرستش کی صورت میں انسان کی فطرت کے پورے ڈھانچے میں گندھا ہوا تھا۔ کیونکہ مذہب ایک مافوق طاقت کی پرستش کی صورت میں انسان کی فطرت کے پورے ڈھانچے میں گندھا ہوا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ خدا کا شعور انسان کی فطرت میں تخلیقی طور پر پیوست ہے، تاہم یہ شعور مجمل انداز میں ہے۔

اس لیے انسان ایسا کرتا ہے کہ جب وہ حقیقی خدا کو نہیں پاتا تو مصنوعی طور پر وہ خود ساختہ خداؤں کی پرستش کرنے لگتا ہے۔ فطرت کے زور پر اس کے اندر پرستش کا جذبہ ابھرتا ہے۔ اگر اس کے سامنے پیغمبر کی رہنمائی ہو تو اس کا یہ جذبہ خدائے وحدہ لا شریک کی صورت میں اس کا جواب پالے گا۔ اور اگر پیغمبر کی رہنمائی اس کے سامنے نہ ہو تو وہ اپنے جذبے کی مصنوعی تسکین کے لیے غیر خداؤں کو خدا فرض کر کے ان کو پوجنے لگے گا۔

انسان کا مقصود اصلی صرف ایک ہے، اور وہ وہی ہے جو اس کا خالق و مالک ہے۔ یہ مقصود اس کی فطرت میں گہرائی کے ساتھ شامل ہے۔ انسان یکسو ہو کر اپنی فطرت پر کان لگائے تو وہ خود اپنے اندر خدا کو پا لے گا۔ وہ اس کو اپنے دل کی دھڑکنوں میں محسوس کرے گا۔

یہ فطرت گویا انسان کا لاشعور ہے۔ پیغمبر اسی لاشعور کو شعور کا درجہ عطا کرتا ہے۔ تاہم انسان جیسی ایک مخلوق کے لیے صرف یہ غیبی معرفت کافی نہیں۔ انسان چاہتا ہے کہ وہ خدا کو محسوس طور پر بھی پائے، وہ خدا کا محسوس ادراک کر سکے۔

مگر یہاں یہ رکاوٹ ہے کہ خدا کا محسوس ادراک حقیقی معنوں میں آخرت سے پہلے ممکن نہیں۔ آخرت میں بلاشبہ انسان خدا کو دیکھے گا۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ آخرت کے دن کچھ چہرے ترو تازہ ہوں گے، وہ اپنے رب کو دیکھ رہے ہوں گے۔ القیامہ حدیث سے بھی یہ بات تواتر کی حد تک ثابت ہے۔

صحیح بخاری کی ایک روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں کہ تم عنقریب اپنے رب کو کھلے طور پر دیکھو گے۔ إنكم سترون ربكم عياناً. وفي الصحيحين أن جابر قال: نظر رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى القمر ليلة البدر فقال: إنكم ترون ربكم كما ترون هذا القمر. بخاری و مسلم میں حضرت جریر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کی رات میں چاند کی طرف دیکھا، پھر فرمایا کہ تم آخرت میں اپنے رب کو اسی طرح دیکھو گے جس طرح تم اس چاند کو دیکھ رہے ہو۔

حقیقت حج مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 71۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.